۔،۔ پاکستان جرمن پریس کلب اور شان پاکستان جیو نیوز کے مرکزی دفتر پر حملے کی بھرپور مذمت۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ پاکستان جرمن پریس کلب جرمنی کے صدر سلیم پرویز بٹ نے شان پاکستان جرمنی سے بات کرتے ہوئے کراچی میں جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی آفس پر حملے اور عملے پر تشدد کرنے پر شدید غم و غُصّہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیو کے خلاف مظاہرہ نہیں تھا بلکہ سوچے سمجھے پلان کے مطابق جیو کے مرکزی دفتر پر حملہ کیا گیا ہے وہ لوگ خوف و ہراس پھیلانا چاہتے تھے اسی لئے جیو کے مرکزی دفتر کے باہر احتجاج کی بجائے واک تھرو گیٹ اور مرکزی دروازے کو توڑا گیا، استقبالیہ پر موجود افراد، کیمرہ مین، اینکز، نیوز کاسٹرز، فوٹو گرافروں اور فنکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا سب کچھ کرنے کے باوجود دفتر کے باہر دھرنا بھی دے دیا ملازمین پر تشدد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم بار بار حملہ کر سکتے ہیں تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا پوری دنیا میں احتجاج کیا جاتا ہے جس کی باقاعدہ طور پر پولیس سے اجازت لی جاتی ہے لیکن احتجاج کے نام پر دہشت گردی اور توڑ پھوڑ کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں ایسے عناصر پر قانونی کاروائی کی جائے، حکومت اور انتظامیہ کو جواب دینا چاہیئے وہاں پر موجود پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ٭خبرناک پروگرام میں ارشاد بھٹی نے شاید طنز و مزاح کے پروگرام میں سندھی کمیونٹی نے ایک دو جملوں پر اعتراض کیا ٭ان کا کہنا تھا مجھے جس طرح پنجاب،خیبر پختونخواہ، بلوچستان،آزاد کشمیر پیارے ہیں اسی طرح سندھ اور سندھی میرے وجوود کا حصّہ ہیں اور میری جان بھی سندھ اور سندھیوں کے لئے حاضر ہے جبکہ جیو نیوز کی انتظامیہ نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہرایا ہے کہ قروگرام کا مقصد ہز گز کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ جیو اور جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ٭ جیو اور جینے دو٭۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے