۔،۔قوم رنجیدہ ہے لیکن حکمران ہرگز سنجیدہ نہیں ہیں: محمدرضاایڈووکیٹ۔،۔
سیاستدانوں کے رویوں میں جمہوریت نہیں توملک میں جمہوریت کہا ں سے آئے گی

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ دونوں فریق دھاندلی کاشورمچارہے ہیں۔سیاستدانوں کے رویوں اور پارٹیوں کے فیصلوں سے جمہوریت نہیں جھلکتی توملک میں جمہوریت کہا ں سے آئے گی۔قوم رنجیدہ ہے لیکن حکمران ہرگز سنجیدہ نہیں ہیں۔حکومت اوراپوزیشن میں بیٹھے لوگ پاکستان کی قیادت کے تصورپرپورانہیں اترتے۔ معلوم نہیں پاکستان میں مدبراورمخلص قیادت کاقحط کب دورہوگا۔ملک میں متعدد بحرانوں،چیلنجز اورخطرات کے باوجود حکمران اوراپوزیشن طبقہ مسائل پرفوکس نہیں کررہا۔اناڑی حکمرانوں اوران کے نادان مشیروں نے اپنے نام نہادتجربات اوراپنی نے ثمر و بے سود اصلاحات سے ریاست پاکستان کوبحرانستان بنادیا۔ وہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ محمد رضاایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ حکمران اوران کے حواری مسلسل اپنی ناکامیاں چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔جہاں حکمران کمزوراورنااہل ہوں وہاں سیاسی ومعاشی سانحات کارونماہونافطری امر ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ چھوڑنا ہوگی،وہاں بزدار نہیں کسی بردبار شخصیت کووزیراعلیٰ بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے اورعمران خان وزیراعظم نہیں بلکہ مغل اعظم کی طرح فیصلے کررہے ہیں،کوئی باشعور انسان نہیں بلکہ صرف ایک مغل شہنشاہ کی ذہنیت کاحامل شخص ہی عثمان بزدار کادفاع کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارامحبوب وطن پاکستان نااہل اورنادان کپتان کے سیاسی تنازعات اورتضادات کی بڑی بھاری قیمت چکارہا ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے