۔،۔ کورونا میٹنگ کے مطابق گھر میں تیز رفتار ٹیسٹ یکم مارچ سے ممکن نہیں۔،۔

شان پاکستان جرمنی۔ ہائیڈل برگ یونیورسٹی کی ڈاکٹر کلاوڈیا ڈینکینگرDr.Claudia Denkinger کے مطابق گھروں میں ٹیسٹ ہونے چاہییں تا کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے وبائی مرض پر قابو پایا جا سکے۔کورو نا وبائی امراضمیں گھر کے لئے تیز اینٹی جن ٹیسٹ کے استعمال سے بڑی امیدیں وابسطہ ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان کا استعمال کرنا بہت آسان ہونا چاہیئے لیکن ابھی تک کوئی تجارتی لائسنس جاری نہیں کیا گیا، تیز ٹیسٹ میں گارگل اور تھوک کے ساتھ ساتھ ناک سے بھی ٹیسٹ شامل ہے اوسطاََ اینٹی جن ٹیسٹ سے متاثرہ افراد میں سے 80فیصد کا پتہ چلایا جا سکتا ہے ماہرین متعدد وجوعات کے سبب تیز رفتار ٹیسٹوں کو مفید سمجھتے ہیں۔کسی مرض میں مبتلا افراد کی شناخت پہلے کی جا سکتی ہے شایھ حتکہ ابتدائی مراحل میں، عام طور پر کسی بھی بیماری میں مبتلا افراد کو پہچانا جا سکتا ہے، جن افراد کا تیز ٹیسٹ سے پتہ نہیں چلتا ان میں عام طور پر دوسرے لوگوں کو انفیکشن کا امکان نہیں ہوتا منظوری کا عمل ابھی جاری ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے