۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔(لوح و قلم تیرے ہیں) ۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔

منگل 23فروری بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔یہ نشست 25فروری یوم نفاذاردوکے سلسے میں طے کی گئی تھی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں ”اردوزبان کی داستان عزیمت“کے عنوان سے صدرتحریک نفاذاردواسلام آبادکے صدرجناب سیدظہیراحمدگیلانی کامضمون اور”پاکستان میں اردوسرکاری زبان کیوں ضروری ہے“کے عنوان سے جناب ساجدحسین ملک کی تحریر طے تھی۔تحریک نفاذاردوپاکستان کے صدر جناب عطاالرحمن چوہان نے صدارت کی۔آج کی نشست کے لیے ”مرکزقومی زبان،اسلام آباد“کاخصوصی تعاون بھی حاصل تھا۔ایک خوش الحان نوجوان محمدعبدالرشید نے تلاوت قرآن مجیدکی،جناب سلطان محمودشاہین نے مطالعہ حدیث نبویﷺپیش کیا،جناب احمدمحمودالزمان نے اپنی نعت رسول مقبول ﷺکلام شاعر بزبان شاعر کے مصداق پیش کی اورجناب زعیم بابر نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔ صدرمجلس کی اجازت سے جناب ساجدحسین ملک نے اپنی تحریرپیش کی،تحریرمیں پاکستان کے دفتری،عدالتی اور تعلیمی نظام میں اردوکے نفاذپرزورداردلائل پیش کیے گئے تھے،انہوں نے بتایا انگریزی کے باعث وقت اور وسائل کابے پناہ ضیاع ہوتاہے اورعوام کاجم غفیرنسل درنسل بدیسی زبان کی وجہ سے ظلم کی چکی میں پستاچلاجاتاہے جبکہ 60%سے زیادہ طلبہ انگریزی میں فیل ہوجانے کے باعث مزیدتعلیم سے محروم کردیے جاتے ہیں۔ان کے بعد جناب سیدظہیراحمدگیلانی نے اپنا طویل تحقیقی مضمون پیش کیاجس میں اردوزبان کی چارسوسالہ تاریخ عزیمت کو بڑی خوبصورتی سے قلمبندکیاگیاتھا،انہوں نے بتایاکہ گورے سامراج نے فورٹ ولیم کالج کے ذریعے پہلے فارسی اردوتنازعہ بھڑکاکرفارسی کو ملک بدرکیا،پھراردواورہندی میں مذہبی منافرت پیداکرکے بڑی صفائی سے انگریزی کونافذکردیا،انہوں نے عدالت عالیہ کے نفاذاردووالے فیصلے پر سیرحاصل تبصرہ بھی پیش کیااورفیصلے کے بعض حصے شرکاء کو پڑھ کر سنائے اوراس ضمن میں حکومتی لیت و لعل والے وطن دشمن رویوں پرافسوس کااظہاربھی کیا۔مضمون پر شرکاء میں سے ڈاکٹرمرتضی مغل،سلطان محمودشاہین،ڈاکٹرساجدخاکوانی،شاہدمنصور،کمانڈر(ر)زریں قریشی،حبیب الرحمن چترالی،محمداکرم الوری،میرافسرامان اور عالی بنگش نے تبصرے کیے۔تمام مبصرین نے حکومتی وریاستی اداروں پر زوردیاکہ وطن عزیزسے غلامانہ لہجوں کوملک بدرکیاجائے اور نسل نوپرسے غیرزبان کے بوجھ کواتارپھینکاجائے۔تبصروں کے بعد جناب جناب احمدمحمودالزمان،جناب عبدالرازق عاقل،جناب اتفاق بٹ،جناب سلطان محمودشاہین اورڈاکٹرصلاح الدین صالح نے اپنااپناتازہ کلام نذرسامعین کیااور دادپائی۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپناحاصل مطالعہ پیش کیا۔آخر میں صدرمجلس جناب عطاالرحمن چوہان نے مقالہ نگاروں کی قلمی کاوش کی تعریف کی اور کہا دونوں صاحبان نے اپنے اپنے موضوعات کاحق اداکیاہے،انہوں نے کہا نفاذاردوکے لیے عدالت عالیہ کا فیصلہ سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے،صدرمجلس نے امیدلائی کی پاکستان میں نفاذاردوکی منزل اب بہت قریب آلگی ہے اور بہت جلد وطن عزیزسے غلامانہ باقیات لسانی کابوریابسترگول ہواچاہتاہے اورآنے والی نسلیں حقیقی آزادی میں ٓآنکھیں کھولیں گی،ان شااللہ تعالی۔صدارتی خطبے کے بعد آج کی ادبی نشست اختتام پزیر ہو گئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے