۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد(لوح و قلم تیرے ہیں)۔دکتورساجدخاکوانی۔،۔
منگل 23مارچ بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست لہروں کے دوش پر منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں یوم قراردادپاکستان کے حوالے سے ”دوقومی نظریہ:پاکستان کی اساس“کے عنوان پربزرگ کالم نویس جناب میرافسرامان کی تحریرطے تھی۔معروف ماہرتعلیم اور متعددتعلیمی اداروں کے سابق صدر معلم جناب دکتورنصیرکیانی نے صدارت کی۔نوجوان ادیب جناب فہدملک نے تلاوت قرآن مجیدکی،ڈاکٹرساجدخاکوانی نے مطالعہ حدیث نبویﷺپیش کیااور جناب علامہ اللہ بخش کلیار،رکن اسلامی نظریاتی کونسل نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔ صدرمجلس کی اجازت سے جناب میرافسرامان نے اپنامضمون پیش کیا،مضمون میں دوقومی نظریے کو بطورخالق نظریہ مملکت پیش کیاگیاتھا،انہوں نے اپنی تحریرمیں بتایا کہ 1940ء میں آج کے دن کل ہندوستان کے مسلمان لاہورمیں جمع ہوئے اورانہوں نے ملک کی اکثریت سے اپنی علیحدگی کافیصلہ اس بنیادپرکیاکہ ان دواقوام کے طرزہائے بود و باش،خوردونوشت،رہن سہن اورتاریخی مشاہرتک نہ صرف یہ مختلف ہیں بلکہ ایک قوم کے محسنین کودوسری قوم اپنے دشمنان تصورکرتی ہے،انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے مسلمانوں نے اس نظریے کے تحت مشترکہ جدوجہدآزادی کاراستہ اپنایا اور قائداعظمؒکے متفقہ قیادت کے تحت آزادی حاصل کی۔مقالہ پیش ہو چکنے کے بعدنوجوان کالم نگارجناب روحیل اکبر اورسیدفیصل شاہ نے موضوع پرسوالات بھی اٹھائے،صاحب مضمون نے ان کے تفصیلی جوابات دیے۔مضمون پر اظہارخیال کرتے ہوئے رکن اسلامی نظریاتی کونسل جناب علامہ اللہ بخش کلیارنے مقالہ کی تعریف کی اورکہاکہ صاحب مقالہ نے بڑی محنت سے مواداکٹھاکیااور مدلل اندازسے اپنا موقف ثابت کرنے میں کامیاب رہے،انہوں نے کہاکہ مملکت کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے ہمیں ایک بارپھر اپنے بنیادی نظریے، نظریہ پاکستان کی طرف لوٹناہوگاتب ہی ہم صحیح سمت میں سفرشروع کرچکیں گے،انہوں نے دوقومی نظریے کی تفہیم کے لیے نسل نوکو مرکزبنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔بزم عروج ادب راولپنڈی کے صدرنشین جناب نعیم اکرم قریشی نے قلم کاروان کے ذمہ داروں کو آج کے دن کی اہمیت کے پیش نظر برموقع تقریب منعقد کرنے پر مبارک بادپیش کی انہوں نے کہا قومیں اپنے نظریات سے پہچانی جاتی ہیں اور دوقومی نظریہ ہماری مملکت کاخالق نظریہ ہے جس کی افادیت سے کسی محب وطن کوانکارنہیں۔کوئٹہ سے جناب فرازاحمدنے سوال اٹھایا کہ نظریاتی ممکت اپنی تاسیس کے بعد اپنے نظریے سے دورکیوں ہوئی؟؟،انہوں نے کہاکہ بزرگوں کو چاہیے اس سوال کے جواب کی طرف عملی قدم اٹھائیں۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپناحاصل مطالعہ پیش کیا۔آخر میں صدرمجلس جناب دکتور نصیرکیانی نے موضوع کی افادیت پر اظہارخیال کے بعد شرکاء میں سے جناب فرازاحمدکے سوال کو موضوع گفتگوبنایااور کہاکہ اس سوال کے جواب میں سارے راز پوشیدہ ہیں،انہوں قیام پاکستان کے بعد کی قیادت پر شدیدتنقیدکی اور تقسیم مملکت اور موجودہ حالات تک پہنچانے کاذمہ داراس گروہ کوقراردیاجو مملکت کے خالق نظریے سے بیزارومنحرف ہونے کے باوجوداعلی سرکاری مناصب پر قابض رہاہے۔آخرمیں شریک محفل فہدملک کی دادی اماں محترمہ کے لیے جناب میرافسرامان نے فاتحہ پڑھائی اور آج کی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے