۔،۔تماشہ۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


وہ زندگی کے تمام شوخ دلکش زندگی سے بھرپور رنگوں سے رنگا ہوا ایک بھر پورتیز طرار چالاک لفظوں کا مداری امیرزادہ تھا جو اپنی دولت دماغی چالاکی خوبصورت طاقت ور جسم اور الفا ظ کی جادوگری کے فن کی وجہ سے اپنی من مانی کا ہوشیار چالاک جادوگر نما انسان تھا اپنی دولت حسن جوانی لچھے دار گفتگو کی وجہ سے محفلوں کی جان عورتوں کا ہر دل عزیز تھا اس نے جو چاہا اُسے حاصل کر کے دم لیا وہ چوبیس گھنٹے مہنگی خوشبوؤں میں بسا رہتا جسم پر مہنگے ترین ملبوسات پاؤں میں مہنگی جوتیاں ہاتھوں میں سونے کی مہنگی انگوٹھیاں اور مختلف مہنگے برانڈوں کی گھڑیاں پہنے زندگی کے رنگوں سے خوب لطف اٹھا نا جانتا تھا اپنی دولت چالاکی اور خوبصورتی کی وجہ سے اُس نے جو چاہا اُس کو حاصل کر کے دم لیاوالدین کی بہت زیادہ زرعی زمینوں اور شہر میں چند پلازوں کا مالک ہونے کی وجہ سے دولت کی دیوی اُس پر بھر پور مہربان تھی بات کرنے کے آرٹ سے بخوبی واقف تھا کپڑوں کا ذو ق جانتا تھا تیز دماغ چالاکی کی وجہ سے گفتگو کے جال میں مد مقابل کو آسانی سے پھنسا لیتا تھا اُس کی آنکھوں میں بھیڑیے کی چمک اور چہرے پر دولت کا خمار اور جوانی کا سرخ رنگ ٹھاٹھیں مارتا تھا لوگ اُس کو ہیرا کہتے تھے وہ اپنے اِس لقب سے بہت خوش ہو تاتھا کہ میں ہیرا چوہدری جس پر خدا نے صرف مہربانی کی تھی جو دنیا میں عیاشی اور اپنی مرضیٰ کرنے کے لیے آیا تھا جو لاہور سے ستر کلومیڑدور ہونے کے باوجود اپنی ساری شاپنگ لاہور سے کر تا تھا کپڑے تک لاہور کی لانڈری سے کرواتا تھا بالوں کی کٹنگ کے لیے لاہور آتا تھا زندگی کے شوخ رنگ اُس کے انگ انگ سے چھلکتے تھے لیکن آج میرے سامنے چوہدری ہیرا کی بجائے اُس کا بھوت بیٹھا تھا پرانے سلوٹوں والے کپڑے داڑھی کے بال بڑھے ہوئے پرانی جوتی بالوں کا رنگ خراب بلکہ سفید بال نظر آرہے تھے وہ ایک ہارا ہوا شخص زندہ لاش کی طرح میرے سامنے بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا تھااُس کی آنکھوں کی چمک چہرے کی سرخی کپڑوں کی کڑک ہوا میں تحلیل ہو چکی تھی الفاظ جو فر فر اُس کے ہونٹوں سے نکلتے تھے آج کئی بار بولنے کی کو شش کی لیکن الفاظ اور زبان اُس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی وہ اُس شخص کی مانند تھا جوجوئے میں اپنی ساری کمائی ہار کر آیا ہو اُس کی ساری چالاکیاں پھرتیاں تیزیاں اُس سے روٹھ چکی تھیں جب وہ میرے سامنے آیا تو مجھے اُسے پہچاننے میں مشکل آئی کیونکہ اُس کے چہرے پر قبرستانوں کا سنا ٹا اور آنکھوں میں مرض الموت کے مریض کی بے بسی نظر آرہی تھی وہ کسی بڑے حادثے غم سے گزر رہا تھااِس کی یہ حالت زار دیکھ کر مجھے پندرہ سال پہلے کا چوہدری ہیرا یاد آگیا جو میرے کسی دوست کے حوالے سے مُجھ سے ملنے آیا تو زندگی سے بھرپور لباس گھڑی انگوٹھیاں اور ریشمی طلائی کھسے کے ساتھ آیا تھا آتے ہی کامیاب شکاری کی طرح بہت سارے پھل اورمٹھائیاں اتار کر بولا جناب آپ کو سلام کر نے حاضر ہوا تھا ساتھ ہی میرے دوست کا حوالہ بھی دیا جو مجھے فون کر کے اِس کا بتا چکا تھا میں نے پوچھا تو اِس نے بتایا جناب سیدھی سی بات ہے میں جھوٹ نہیں بولوں گا کسی لڑکی کو پسند کر تا ہوں بڑی کوشش کی لیکن وہ قابو نہیں آرہی جب بھی اِیسے پیار کے کبوتر میرے پاس آتے ہیں تو پہلے تو بہت غصہ آتا ہے لیکن پھر انسان دوستی کے تحت اِن کی باتیں سنتا ہوں عشق مجاز کے یہ سار ے کبوتر بہت چالاکی سے بابوں درویشوں کے پاس جاتے ہیں انکار سننے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں ہو تے دولت کے ڈھیر آپ کے قدموں میں لگا دیں گے کہ ہر صورت میں محبوب چاہیے آپ اِن کو جتنا مرضی سمجھا لیں یہ آپ کی بات نہیں مانیں گے اگر آپ اِن کو زیادہ منع کریں اِن کی بات نہ مانیں تو یہ چند دن تو آپ کو مختلف بہانوں سے منانے تحائف دے کر خریدنے کی کو شش کریں گے جب آ پ اِن کی بات نہ مانیں تو کسی دوسرے بابے عامل یا بنگالی جادوگر کے پاس چلے جائیں گے یہ محبوب کو پانے کی ضد میں اندھے ہو تے ہیں یہ ون پوائنٹ مشن پر ہوتے ہیں محبوب اور صرف محبوب۔ کوئی اور نصیحت بات مشورہ سننے کے موڈ میں نہیں ہوتے بلکہ صرف اور صرف محبوب قدموں میں۔لہذا میں اب اِن کے ساتھ زیادہ بحث مباحثہ نہیں کر تا اِسی لیے میں ناگوار سا ہو کر اِس کے سامنے بیٹھ گیااور پوچھا جناب آپ تو شادی شدہ لگتے ہیں تو یہ بولا جی جناب میری دو شادیاں کامیابی سے چل رہی ہیں دو بیگمات کی موجودگی میں ایک اور لڑکی پسند آگئی ہے اُس کے ساتھ گپ شپ پیار محبت رکھنا چاہتا ہوں میں نے بہت کو شش کر لی وہ نیک باپ کی نیک بیٹی ہے اُس کو اسلام کا دورہ پڑا ہوا وہ میر ی بات نہیں مان رہی میری مدد کریں میں آپ کی ہر ممکن مدد کروں گا تو میں نے کہا جس طرح آپ نے پہلے دو شادیا ں کر رکھی ہیں ایک اور کر لیں تو وہ بولا نہیں شادی نہیں کرنی شادی کر کے بیگم عذاب بن جاتی ہے اب دوبیویاں ہی ٹھیک ہیں بچے بھی ہیں تیسری کی ضرورت نہیں میں نے بحث نہیں کی اللہ کے ناموں کی تسبیح بتائی اور ٹال دیا لیکن یہ چند دن بعد پھر آگیا اِس طرح یہ چھ ماہ لگاتار میرے پاس آتا رہا بہت سارے تحائف لالچ بھی لیکن جب اِس کا کام نہ ہوا تو یہ آنا بند ہو گیا پھر ایک سال بعد میرے اُسی دوست کے پاس یہ مجھے ملا تو شاکی لہجے میں بولا پروفیسر صاحب آپ نے میرا کام نہیں کیا تو میں نے پھر اُس لڑکی سے شادی کی وہ مذہبی تھی میں نے داڑھی رکھی مذہب کا ڈرامہ کیا پھر اُس سے شادی کی اُس کو پانے کے بعد اُس کی ضد توڑنے کے بعد تین ماہ بعد اُس کو طلاق دے دی جناب میں جس کو پسند کر لوں پھر اُس کو حاصل کر کے چھوڑتا ہوں اِس لڑکی نے بہت تنگ کیا تو اِس کے لیے مذہبی ہو نے کا ڈرامہ کر نا پڑا اِسی دورا ن میرے دوست نے بھی بتایا کہ یہ بہت شاطر کھلاڑی ہے اپنا ٹارگٹ حاصل کر کے دم لیتا ہے تو میں نے چوہدری ہیرے کو سمجھایا تم نے اُس نیک لڑکی کو طلاق کیوں دی تو وہ بو لا شادی تو میرا آخری کارڈ ہو تا ہے جب کوئی لڑکی ویسے قابو نہ آئے تو دولت کی بارش کر کے کو شش کرتا ہو اگر ناکامی ہو تو آخری چال شادی ہوتی ہے اب میں ساری عمر مصیبت نہیں پالتا حاصل کر نے کے بعد چھوڑ دیتا ہوں تو میں نے کہا اب تو بہ کر لو نہیں تو جس خدا کے مذہب کو تم کارڈ کے طور پر استعمال کر تے ہو وہ تمہارا تما شہ بنا دے گا میں نے بہت سمجھایا لیکن یہ نہیں مانا تومیں یہ کہہ کر آگیا کہ ڈرو اُس دن سے جب خدا کی لاٹھی حرکت میں آئے گی اور تم تماشہ بن کر رہ جاؤ گے اور آ ج تنے سالوں بعد وہی چوہدری ہیرا زندہ لاش بنا اجڑ کر میرے سامنے بیٹھا تھا بڑی مشکل سے بولنا شروع ہوا پروفیسر صاحب میں نے خدا کے مذہب کو تماشہ بنا یا تھا آج میں تماشہ بن کر رہ گیا ہوں میری بد معاشیاں جاری تھیں تین سال پہلے شوگر اور جگر کی خرابی سے جسمانی کمزوری کی وجہ سے زنا کاری چھوڑنا پڑی جسم میں جان بھی نہ رہی ایک سال پہلے میری جوان بیٹی گھر سے بھاگ گئی کہ گھر کے ماحو ل میں دل نہیں لگتا بڑ ی مشکلوں سے اُس کو واپس لایا لیکن وہ چند دن بعد پھر بھاگ گئی اب تک وہ گھرسے سات بار مختلف لڑکوں کے ساتھ بھاگ چکی ہے کوئی اُس سے شادی کر نے کو تیار نہیں ڈانس کلبوں میں ناچتی ہے مار مار کر تھک گیا ہوں لیکن اُسے جیسے موقع ملتا ہے کسی کے ساتھ بھاگ جاتی ہے آخری بار تو میرے مخالف کے بیٹے کے ساتھ بھاگ گئی میری زندگی تماشہ بن گئی ہے خدا کے لیے مجھے خدا سے معافی لے دیں میں اجڑ گیا ویران ہو گیا تماشہ بن کر رہ گیا میری بیٹی کے ٹھیک ہو نے کی دعا کر دیں پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رو کر خدا سے معافیا ں مانگتا رہا پھراُٹھ کر چلا گیا میں ایک ایسے شخص کو جاتا دیکھ رہا تھا جس نے مذہب کو تماشہ بنایا تو خدا نے اُس کی عزت کو تماشہ بنا کر رکھ دیا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے