-,- شادیوں پرپابندی بدترین اقدام ہے: محمدناصراقبال خان-,-
نااہل حکمران سفیدپوش خاندانوں کو”کفن پوش” بنانے کے درپے ہیں

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی صدر محمدناصراقبال خان نے کہا ہے کہ شادیوں پرپابندی تبدیلی سرکار کابدترین اور عاقبت نااندیشانہ اقدام ہے۔حکمران اپنی نااہلی چھپانے کیلئے کیا کیا بندکریں گے۔نااہل حکمران پاکستان کے کروڑوں سفیدپوش خاندانوں کو”کفن پوش” بنانے کے درپے ہیں۔حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کرسکتی۔حکومت سادگی سے بیٹیوں کے نکاح اوران کی رخصتی کی اجازت دے۔کوئی اسلامی معاشرہ بیٹیوں اوربیٹوں کے نکاح میں تاخیر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ حکمران ناپسندیدہ سرگرمیوں کاراستہ کاہموار نہ کریں۔تبدیلی سرکار میں وفاق سے صوبوں تک بزدار بیٹھے ہیں،ان سے کسی رواداری اور بردباری سے بھرپور اقدام کی امید نہیں کی جاسکتی۔اپنے ایک بیان میں محمدناصراقبال خان نے مزید کہا کہ تبدیلی سرکار کاشادیوں پرشب خون مارنا قدرت کے غضب کودعوت دینے کے مترادف ہے۔حکومت کے اس منفی فیصلے سے عوام میں شدید بے چینی کی لہردوڑ گئی ہے، متنازعہ فیصلہ فوری واپس لیاجائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت شادیاں روکنے کی بجائے کورونا سے بچاﺅ کیلئے ایس اوپیز کی پاسدار ی یقینی بنائے۔جس محنت کش یاپنشن پرانحصارکرنیوالے باپ نے پائی پائی جوڑ کراپنی بیٹیوں کی شادی کاانتظام کیا ان کے دل پرکیا گزررہی ہوگی یہ حکمران طبقہ نہیں سمجھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں سے منسوب فضول رسومات پرقدغن لگانے جبکہ ون ڈش کی پابندی کروانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔حکومت نکاح کوآسان بنانے کیلئے جہیز کی بھی حد مقرر کردے تو اس سے یقینا بیٹیوں کی زندگی میں آسانی اورآسودگی آجائے گی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے