۔،۔ دعا التجا اور قضا ۔۔۔ طارق حسین بٹ شان،۔


انسانی تخلیق کا مقصدِ اولین خدائے بزرگ و بر تر کی اطاعت اور اس کے احکامات کی بجا آوری ہے۔انسان کا سب سے بڑا فریضہ اس ہستی کے سامنے دو زانو ہونا ہے جو اسے عدم سے وجود میں لائی تھی۔مالکِ ار ض و سماء کی حمدو ثناء کے لئے ملائکہ کی موجودگی میں انسانی تخلیق کا معرکہ کائناتی محبت کا امین تھا۔سچ تو یہ ہے کہ قوانینِ فطرت کی پیروی سے ہی انسان اعلی و ارفع مقام سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ ربِ کائنات نے انسانی فطرت کے اندر صالح پن کا عظیم جوہر انسان کی پیدا ئش کے ساتھ اس کے اندر جاگزین کر دیاتھا جو اس کی حقیقی پہچان،رفعت، بڑائی اور عظمت کی بنیاد تھاجس سے وہ اشرف المخلوقات بنا تھا۔حالات کی ستم ظریفی،ضروریاتِ زند گی کی طلب،خود پسندی،خودنمائی،حالات کی عدمِ موافقت،ظلم و نا انصافی، خاندانی تفاخر،بد گمانی کا زہر، نسلی امتیازکی آگ،انا کی تسکین اور خوداری کا خون اسے ایسی دنیا میں لے گیا جہاں پر وہ اپنی تخلیقی عظمت اور پیدائشی جو ہر کو فرا موش کر کے سطحی سوچ،سفلانہ جذبات اور پستی کا راہر و بن گیا۔وہ بھول گیا کہ اس کی تخلیق پر فرشتوں نے اسے سجدہ کیا تھا اور مالکِ ارض و سماء نے اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کی گواہی دی تھی۔معاشی مسائل،تنگ دستی،بے روزگاری اور حالات کی بے مروتی نے انسان سے اس کی وہ حس چھین لی ہے جو اسے روزِ ازل کو اپنے خالق سے بلا معاوضہ ودیعت ہو ئی تھی۔انسا ن اس کرہِ ارض پر امن و سکون، چین اور بقائے باہمی سے زندہ رہنا چاہتا ہے لیکن وقت کی بے رحمی اس کی راہ میں روڑے اٹکا کر اسے اس کی سجائی گئی منزل سے کوسوں دور کر دیتی ہے۔سوال ایمان کا نہیں ہوتا بلکہ سوال اس کی ذات کی بقا کا ہو تا ہے لہذا اسے زندہ رہنے کیلئے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اسے جھوٹ اور سچ کے پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے،اسے دیانت و امانت کے دریا کو عبور کر نا پڑتا ہے اور اسے صالحیت کے پہاڑ کو اٹھا نا پڑتا ہے جواسے انتہائی دشوار لگتا ہے۔انسان ننگ، بھوک،جبر،نا انصافی، خستہ حالی اور خالی پیٹ میں بھی اس علم کو جس کا درس اس کے آبا ؤ اجداد نے اسے ازبر یاد کروایا تھا سربلند رکھنا چاہتا ہے لیکن وہ لمحہ لمحہ زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرتے ہوئے اپنی کھلی آنکھوں کے سامنے انسانی عظمت کی چادر کو تار تار ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے اندر کا انسان باغی ہو کر غلط راہوں پر نکل کھڑا ہو تا ہے اور یوں اس کی ساری عظمت معاشرے کی بے راہ روی کی نظر ہو جاتی ہے۔معاشرے سے انتقام کی ضد میں وہ خود سے انتقام لینا شروع کر دیتا ہے جس سے معاشرہ اور بھی نا ہموار ہو جاتا ہے۔،۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسانی خوا ہشیں انتہائی مختصر اور قلیل ہوتی ہیں۔انسان بنیادی طور پر اپنی اولاد کی طویل عمری،اس کی سر بلندی، اس کی کامیابی اور اس کی خوشخالی کا متمنی ہو تا ہے۔ وہ اپنے لئے روزگار، صحت، تندرستی اور اعلی مدارج کا طلبگار ہو تا ہے۔وہ کاروبار میں ترقی کی دعائیں مانگتا ہے،وہ اپنے والدین کی خدمت کا خواہاں ہو تا ہے اور وہ ایک ایسی مہ جبیں کا دلداہ ہو تا ہے جو ہر حال میں اس سے وفا کا عہد نبھائے۔با حیا، پاکیزہ اور عفت و عصمت کی محافظ عورت اس کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ وہ اپنی بساط کے مطابق آسائشاتِ دنیا کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن ان کے حصول میں متشدد نہیں ہوتا۔ دنیا و آخرت میں اس کی سر خروئی اس کی دعاؤں کا محور ہو تا ہے۔وہ ایمان کی دولت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو نا چاہتا ہے۔وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق اور رشتہ کو قوی رکھنا چاہتا ہے جس کیلئے وہ ساری حیاتی شرک سے توبہ کرتا اور وحدانیت کی صدائیں بلند کرتا رہتا ہے۔ اس کی دعائیں اس کی قلبی کیفیت کی آئینہ دار ہو تی ہیں۔وہ دعاؤں کی قوت سے معاشرے کو بدلنا چاہتا ہے،گردو پیش میں تبدیلی کے پھول کھلانا چاہتا ہے اور معاشرے میں پھیلے ہوئے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے لیکن ایسا ہو تا نہیں ہے۔اس کی دعائیں وقت کی سنگلاخ چٹانوں سے ٹکرا کر واپس لوٹتی ہیں تو اس کے اندر شرارے بھر جاتے ہیں۔وہ معاشرتی نا انصافی اور بے حسی کے مظاہرے سے خود کو مجرم تصور کرنے لگ جاتا ہے۔ وہ حق کو نا حق اور نا حق کو حق میں ڈھلتا دیکھ کر شرمساری محسوس کرتا ہے۔وہ اس سوسائٹی سے جو باطل نظریات کا پرچار کرتی ہے شدید نفرتکرنے لگ جاتا ہے۔ اسے سیدھاراستہ نہیں ملتا تووہ طاقت سے نیا راستہ بنانے کی سعی میں جٹ جاتا ہے اور یوں اس کا ہدف بدل جاتا ہے۔مغربی سوچ کے پروردہ انسانی آزادی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جبکہ مشرقی روایات کے امین احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔انسانی زندگی دریا کے کناروں پر ڈیرے ڈالے انہی دونوں گروہوں کی داستا ن ہے جو بالکل قریب ہونے کے باوجود اپنے اپنے افکار میں ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ دونوں کو اپنی اپنی دنیاؤں کی خوشنمائی پر مان ہو تا ہے۔دل والے آسما نوں پر جلوہ فرما خدا سے قربتوں پر فخر کرتے ہیں تو یورپی اقوام کرہِ ارض پر انسانی ارتقاء کی خوشنمائی پر پھولے نہیں سماتیں اور انسانی ترقی سے خود میں فخرو انسباط کی لہریں محسوس کرتی ہیں۔کون سچ کی راہ پر گامزن ہے ا ور کون بے ثمر جدو جہد کا راہی ہے اس کا حتمی فیصلہ اس ذات ِ اقدس کے ہاتھوں میں ہے جو دلوں کے حال جانتا ہے، جو لامکاں میں جلوہ گر ہے اور جس کی تسبیح ہجر شجر اور کائنات کی ہر شہ کرتی ہے۔،۔دعاؤں سے دنیاتو بدل نہیں سکتی لیکن اس سے انسان کی قلبی کیفیت ضرور بدل جاتی ہے۔انسان کے اندر عفو در گزر اور انکساری کی کیفیت اسے ایک اعلی انسان بننے میں ممدو معاون ہو جاتی ہے۔ یہ ایک قلبی کیفیت ہے جس کا ادراک صرف صاحبِ دعا کو ہی ہو تا ہے۔میں نے کئی افراد کو دعاؤں میں بلبلاتے ہو ئے دیکھا ہے۔کیاان کے آنسو ان کی قلبی کیفیت کے آئینہ دار ہو تے ہیں؟کچھ لوگ انھیں پچھتاوا کا نام بھی دیتے ہیں،کچھ لوگ انھیں خوابیدہ آرزوؤں کا نام دیتے ہیں لیکن کچھ انھیں انسان کی قلبی ماہیت سے موسوم کرتے ہیں۔کچھ بھی ہو آنسو یوں ہی تو نہیں ٹپکتے۔در اصل انسان اپنی حاجات کو رو رو کرا علی و ارفع ہستی کے سامنے بیان کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں جسے آنسو بہت عزیز ہو تے ہیں۔یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ سالہا سال تک دعاؤں کیلئے ہاتھ بلند کرنے والے لوگ اس دنیا سے اکثر خالی ہاتھ ہی لوٹ جاتے ہیں اور کئی ایسے لوگ جن کا دعاؤں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتاوہ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ان کے ہاں مال و دولت کی ریل پیل ہو تی ہے لیکن ان کی عملی زندگی اس میزان پرپوری نہیں اترتی جو ہمارے ہاں مستعمل ہے۔دروغ گوئی،نا انصافی اور بد دیانتی کچھ افراد کا شیوہ ہوتا ہے لیکن کامیابی کا ہما پھر بھی انہی کے سر پر ہی جلوہ افروز ہو تا ہے۔یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس کی گہرائی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔کہتے ہیں خدا اپنے قوانین نہیں بدلتا۔تاریخ تو ہمیں یہی بتاتی ہے کہ کسی کی چیخیں، آہ و بقا،آنسو اور رونا دھونا خدا ئی قوانین ِفطرت میں تبدیلی نہیں لا تے۔اگرخدا آنسوؤں کی جھڑیوں سے اپنے قوانین میں بدلاؤ لاتا رہتا تو پھریہ کائنات ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔سچ تو یہی ہے کہ خدا صاحبِ اختیار ہو کر بھی اپنے فیصلے نہیں بدلتا۔وہ خالق تو ہے لیکن اس نے دنیاوی معاملات کیلئے پیمانے مقرر کر دئے ہیں لہذا سب کچھ انہی پیمانوں کی رو سے طے ہوتا ہے۔پیمانے بار بار بدلے نہیں جاتے۔روزِ قیامت کسے اجر ملے گا اور کس کے اعمال رائیگاں جائیں گے یہ الگ موضوع ہے،علامہ اقبال کے دو اشعار۔،۔
تیری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی۔،۔ لیکن ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل جائے
تیری دعا ہے کہ ہو آرزو تیری پوری۔،۔ اور میری دعا ہے کہ تیری آرزو بدل جائے

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے