۔،۔بیداری فکراقبالؒ۔(مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرادیکھ)دکتورساجدخاکوانی ۔،۔

بدھ 8 ستمبر2021 بعد نمازمغرب (عالمی مجلس)”بیداری فکراقبالؒ“کی ہفت روزہ ادبی نشست لہروں کے دوش پر منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں نظم جبریل اورابلیس میں ”ابلیس کی ماہیت اور حقیقت“(نصف اول)“کے عنوان پرملتان سے پروفیسرفارحہ جمشید(پی ایچ ڈی اسکالر،بہاؤالدین زکریایونیورسٹی،ملتان)کاخطاب طے تھا۔گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسمئیل خان سے صدرشعبہ عربی جناب پروفیسرڈاکٹرمنظورسیالوی نے صدارت کی۔راولپنڈی سے سیدعابدعلی زیدی نے تلاوت قرآن مجیدکی،لاہورسے پروفیسربلال انجم شعبہ اردو نے مطالعہ حدیث نبویﷺ،اوربزرگ کالم نویس میرافسرامان نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے محترمہ فارحہ جمشیدنے قرآن مجیدکی ان آیات سے اپنے خطاب کاآغازکیاجن میں انکارابلیس کاذکرکیاگیاہے،انہوں نے کہاکہ علامہ کہ یہ نظم مکالماتی اسلوب میں لکھی گئی ہے جس میں ابلیس کامتحرک کردارہے،اس کے بعد انہوں نے پوری نظم حاضرین کوسنائی اور اشعار کی ضروری وضاحت بھی کی،فاضل محققہ نے کہاکہ انسان کو دنیامیں جہدمسلسل سے اپنامقام حاصل کرناہے جس کے لیے اسے ابلیس سے برسرپیکاررہناپڑے گا،انہوں نے بتایاکہ کائنات میں شرکی قوت اسی لیے ہے کہ انسان بھلائی اوربرائی میں فرق پہچانے۔ان کے مطابق علامہ نے شیطان کوعقل قراردیاہے اوراس سے جنگ کے لیے مومن کوعشق کاہتھیارتھمایاہے،انہوں نے علامہ کے پیر مولانا جلال الدین رومی کے حوالے سے بتایاکہ مولانانے شیطان کو سانپ سے تشبیہ دی ہے جو چھپ کروارکرتاہے اورانسان کی بے عملی کو تقدیرسے جوڑ کر اختیارآدم کومجبورمحض بنادیتاہے۔وقت کی قلت کے باعث سوالات کا دورانیہ معطل کیاگیالیکن پھر بھی جناب شہزادمنیراحمداور جناب خالد حسن نے کچھ وضاحتوں کے حوالے سے استفسارکیے جن میں سے ایک کامختصرجواب دیاگیااوردوسرے کے بارے میں صاحبہ خطاب نے کہا کہ اس موضوع کے حصہ دوم میں اس کا تفصیلی جواب آجائے گا۔تبصروں کا آغازڈاکٹرضمیراخترسے ہواانہوں نے آج کے خطاب کوبہت شاندارقراردیااور کہاکہ انہیں شاعری سے کبھی دلچسپی نہیں رہی لیکن اس خطاب کے بعد وہ علامہ کو مزیددلچسپی اورشوق سے مطالعہ کریں گے۔سری نگرمقبوضہ کشمیرسے عاقب نیازنے بھی خطاب کوبہت پسندکیا۔لوئردیرسے جناب عطاالرحمن نے کہا کہ آج کے خطبے سے انہوں نے بہت کچھ سیکھاہے انہوں نے کہاکہ اس نشست کی وسیع پیمانے پر تشہیرہونی چاہیے۔ایبٹ آبادسے محمدبلال الرحمن قادری نے کہا قرآن و حدیث اورفلسفہ و افکارصوفیاء سے مززین آج کا خطاب بہت معلومات افزاتھا۔جناب عابدعلی زیدی نے کہا کہ علامہ رات گئے بیدارہوتے تھے،ان کے سرہانے دائیں طرف قرآن مجیدہوتاتھا،وہ تلاوت کرتے تھے،ان کے اشک رواں جاری رہتے اور ساتھ ہی ساتھ وہ اشعاربھی تحریرکرتے جاتے تھے۔۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے علامہ اقبال کی فارسی کلام سے اپناحاصل مطالعہ پیش کیا۔آخر میں صدارتی خطبے کے لیے جناب ڈاکٹرمنظورسیالوی سے درخواست کی گئی انہوں نے ایک جامع خطاب پر موصوفہ کومبارک بادپیش کی اورکہاکہ یہ دوکرداروں کی حامل نظم ہے،ابلیس کاکرداربغاوت،ہٹ دھرمی،خودنمائی اورسرکشی پر مبنی ہے جبکہ جبریل اطاعت و فرمانبرداری کامرقع ہے،انہوں نے کہا انسان کو اللہ تعالی نے ان میں سے ایک کردارچننے کا اختیاردیاہے کہ چاہے تو شکرگزاربنے اور چاہے تو ناشکری کی روش اختیار کر کے راندہ درگاہ ہوجائے۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی نشست اختتام پزیرہوگئی۔