۔،۔ سابق صدر اشرف غنی نے قومی خزانے سے لاکھوں ڈالر چوری کرنے کے الزامات کی تردید کر دی۔نذر حسین۔،۔
٭صدارتی محل کی سیکورٹی کی درخواست پر کابل کی سڑکوں پر خونریز لڑائی کے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا تھا٭

شان پاکستان متحدہ عرب امارات۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ کابل چھوڑ کر فرار ہونا،کابل اور وہاں بسنے والے 60 لاکھ شہریوں کی زندگی بچانا،سڑکوں پر خونریز جنگ کے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ قدم اُٹھایا تھا جس کے لئے میں معذرت چاہتا ہوں، میں نے اپنی زندگی کے بیس سال افغان عوام کو جمہوری اور خود مختار ریاست دینے کے لئے وقف کئے تھے، میں اس الزام کو مسترد کرتا ہوں کہ سرکاری خزانے سے لاکھوں ڈالر چوری کر کے بھاگ گیا ہوں، ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سرکاری آڈٹ یا مالی تحقیقات کا خیر مقدم کرتا ہوں تا کہ اپنے بیانات کی سچائی ثابت ہو سکے، جو سوشل میڈیا پر غلط بیانی کی جا رہی ہے کہ صندوقوں کے صندوق ڈالروں سے بھرے لے کر فرار ہوا ہوں۔