۔،۔کش اورخودکش۔ محمد ناصر اقبال خان۔،۔


ایک وقت تھاجب ہماری قومی ٹیم کے بلے باز باہمی سیاست اورمنافقت کے نتیجہ میں رنزبنائے بغیر جان بوجھ کرآؤٹ ہوجایا کرتے تھے،سنا ہے بلے باز اپناسلگایا ہوا سگریٹ اپنے ساتھی کودے کرکہتا،یارتم “کش لگاؤ”میں ابھی آیا اوروہ کچھ دیربعدآؤٹ ہوکر واپس آجاتا اور فاتحانہ انداز میں اس سگریٹ کاکش لگاتا جواس نے کریز پر جاتے وقت اپنے دوست کو تھمایا تھا۔ “سی پی او” میں بھی اس قسم کی صورتحال درپیش ہے،ایک آئی جی چارج سنبھالتا ہے توپیچھے دس امیدوار اپنی باری کے انتظار میں گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن بی اے ناصر کوآج تک اس دوڑمیں نہیں دیکھا گیا۔تبدیلی سرکار کے “دور اقتدار”میں جہاں ہرروزکئی بار” اقدار” اورمیرٹ کاجنازہ اٹھتا ہے وہاں نام نہاد تبدیلی کی آڑ میں ” زر” اور”زور”کے بل پرتبادلے بھی جاری ہیں۔سرکاری دفاتر میں “پوسٹنگ بورڈ”پرابھی ایک آفیسر کے نام کی سیاہی پوری طرح سے نہیں سوکھتی،اس دوران وہ وہاں سے ٹرانسفر ہوجاتا ہے۔ اب “آئی جی” کوتقرر نامے کے ساتھ “گئی جی” کاپروانہ بھی ملتاہے۔تخت لاہور پربراجمان تبدیلی سرکار نے تین برس میں چھ آئی جی اورچارچیف سیکرٹری کیوں ” تبدیل “بلکہ “ذلیل” کئے اس بارے میں آج تک کسی قسم کی وضاحت نہیں کی گئی۔بزدار اپنی مرضی ومنشاء سے چیف سیکرٹری اورآئی جی کاانتخاب کرتا اورپھر چندماہ بعد ان سے بیزار ہوجاتا ہے۔بزدار کا انتقامی رویہ اس کی انتظامی صلاحیت پرغالب ہے۔ مجھے پنجاب پولیس کی یتیمی، بے بسی اوربیچارگی پرترس آتا ہے، ماضی میں بھی پنجاب پولیس کوسیاسی مداخلت کاسامنا تھا لیکن تبدیلی سرکار تو ڈکٹیشن اوردخل اندازی کے معاملے میں حد سے تجاوزکرگئی ہے۔ان چھ میں سے کسی آئی جی کوحکمرانوں کے روبرو جرأتمندانہ اورآبرامندانہ انکار کرنے کی توفیق نہیں ہوئی،کاش ان میں سے کوئی تو یہ کہتا آپ نے میرے پیشرو آئی جی کوبھونڈے انداز سے ہٹایا ہے لہٰذاء میں احتجاجاً یہ منصب قبول نہیں کروں گا۔میں سمجھتا ہوں جواپنی عزت نہیں کرتا دوسرے بھی اس کی عزت نفس مجروح کرنے میں دیرنہیں لگاتے۔ بزدار سرکار کے تین برسوں میں مختلف” آئی جی” یا”گئی جی” حضرات کی تقرری کادورانیہ کچھ یوں ہے۔سیّد کلیم امام 13جون 2018سے 11ستمبر2018ء، محمدطاہر پروفیشنل اورزیرک ہونے کے باوجود11ستمبر2018ء سے 15اکتوبر2018ء،امجدجاویدسلیمی 15اکتوبر2019ء سے 17اپریل 2019ء، کیپٹن (ر)عارف نوازخان انتظامی قابلیت اورقائدانہ صلاحیت کے باوصف 17اپریل2019ء سے 28نومبر2019ء، شعیب دستگیر 28نومبر2019ء سے 8ستمبر2020ء جبکہ انعام غنی 9ستمبر2020ء سے 7ستمبر2021ء اوراب دیکھتے ہیں 7ستمبر2021ء کوآنیوالے آئی جی راؤسردارعلی خاں کس وقت “گئی جی “کی فہرست میں آتے ہیں۔راؤسردارعلی خاں نے بھی اپنے نسخوں کی روشنی میں پولیس پرتجربات کرنے کااعلان کردیا ہے، اگر ہرنیا آئی جی اپنی سوچ کااسیررہا تو پولیس کلچر نہیں بدلے گا، اس کیلئے ٹیم ورک اور مجموعی ویژن کے تحت دوررس اصلاحات کی ضرورت ہے۔تدبراورتسلسل کے بغیر پولیس کامورال اورسروسز کامعیار بلندجبکہ اس محکمے پر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔راؤسردارعلی خاں کی حالیہ سطحی گفتگو سنی توشدیدحیرت اور مایوسی ہوئی۔راؤسردار کی تقرری سے سوشل میڈیا پران کی راجپوت” برادری” بہت خوش ہے حالانکہ یہ منصب “بردباری” کامتقاضی ہے۔انعام غنی کوآئی جی لگانیوالے کردار نے اسے ہٹانے میں دیر نہیں لگائی،موصوف اپنے زعم کے ساتھ رخصت ہوگیا۔پنجاب پولیس کے بعد اب ریلوے پولیس اس کے ہاتھوں تختہ مشق بنے گی۔تعجب ہے ایک اناڑی اورسفارشی بزدار نامی بلے باز جوضدی کپتان کے آشیرباد سے اوپنگ کیلئے آیا تھا وہ بغیررنزبنائے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ کریز پر کھڑا ہے جبکہ اس کی کاہلی اورنااہلی کے سبب دوسری طرف آنیوالے متعدد بلے باز رنز آؤٹ ہورہے ہیں لیکن کوتاہ اندیش” کپتان” اپنے نام نہاد وسیم اکرم پلس کی بدترین ناکامی اوربدنامی کے باوجود اسے گراؤنڈ سے باہر بٹھانے کی بجائے دوسرے تجربہ کار ٹیم ممبرز کو اعتماد سے کھیلنے،رنز بنانے اورڈیلیورکرنے کیلئے مناسب مہلت دینے کیلئے تیار نہیں۔ تبدیلی سرکار میں کونسا وزیر،مشیریاآفیسر کس وقت تبدیل ہوجائے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔حالیہ تین برسوں میں عثمان بزداروہ واحد شخص ہے جس کی تبدیلی کیلئے راقم سمیت مختلف طبقات مسلسل قلم،قدم اورآوازاٹھارہے ہیں لیکن کپتان اپنے ہردورہ لاہور میں اس کے قصیدے پڑھتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں پنجاب کو”بزدار” نہیں میاں اسلم اقبال سے ” بردبار” اورانتھک منتظم اعلیٰ کی ضرورت ہے۔تبدیلی سرکار کو آئندہ انتخابات میں بلنداقبال میاں اسلم اقبال کی انتظامی صلاحیتوں اورتوانائیوں کے ضیاع کاخمیازہ بھگتنا پڑے گا۔میاں اسلم اقبال اپنے منصب سے بھرپورانصاف کررہے ہیں لیکن کپتان نے اپنے اس مخلص ومدبرٹیم ممبر کے ساتھ” انصاف” نہیں کیا۔عثمان بزدار نے چندروزقبل پنجاب کے نئے چیف سیکرٹری اورآئی جی کیلئے نام وفاق کوبھجوا ئے تھے۔آئی جی پنجاب کیلئے بی اے ناصر،راؤ سردارعلی،عامرذوالفقار،ظفر اقبال اورمحسن بٹ کے نام فہرست میں شامل تھے جبکہ چیف سیکرٹری کیلئے کامران علی،احمدنوازسکھیرا،اعجازجعفراور بابرحیات کے نام تجویزکئے گئے تھے۔اخبارات میں یہ فہرست دیکھنے کے بعدجہاں میں نے صمیم قلب سے بی اے ناصر کی بحیثیت آئی جی تقرری کیلئے دعا کی،متعدد احباب جو بی اے ناصر کے اوصاف حمیدہ کے شاہد ہیں انہوں نے بھی راقم کے ساتھ فون پر ان کی تقرری کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا کیونکہ عہدحاضر کی پولیس قیادت میں بی اے ناصر کے سواکوئی پولیس کلچر اورتھانہ کلچرتبدیل نہیں کرسکتا،تاہم دوسری طرف اس خیال کی آمد کے ساتھ دل بجھ گیا کہ نیک نام آئی جی (ر) محمدطاہر کی طرح پرعزم اورجہاندیدہ بی اے ناصرکو بھی اپنی تقرری کی مدت پوری اورڈیلیور کرنے کی مہلت نہیں ملے گی لہٰذاء وہ جہاں ہیں ان کیلئے وہیں بہتری ہے۔ میں سمجھتا ہوں “بزدار” سرکار کے ساتھ بی اے ناصر سے “بردبار” اوروضع دار آفیسرنہیں چل سکتے،مجھے یاد ہے سی سی پی اولاہور کے آفس میں بی اے ناصر سے ایک سیرحاصل ملاقات میں مجھے ان کاتیار کیا ہوا پولیس اصلاحات کامسودہ دیکھنے اورپڑھنے کااتفاق ہواتومیرے دل میں خیال آیا یہ توہمارے کنددماغ حکمرانوں کے اوپرسے گزر جائے گا۔میں وثوق سے کہتا ہوں بی اے ناصر،غلام محمودڈوگر،اشفاق احمدخان،سیّد خرم علی شاہ،رفعت مختارراجا،ساجدکیانی،شہزادہ سلطان،طارق عباس قریشی،سلطان احمدچوہدری اورمحمدعلی نیکوکارہ سے منجھے ہوئے آفیسرزیقینا ٹیم ورک کی صورت میں پولیس کلچر کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ سی پی او سے متعصب انعام غنی کی رخصتی کے بعدطارق عباس قریشی،افضال احمدکوثر اورکیپٹن (ر)لیاقت علی ملک کی پنجاب میں واپسی ازبس ضروری ہے۔ وزیروں کے قلمدان جبکہ انتظامی عہدیداروں کوبار بار تبدیل کرنے سے ملک میں تبدیلی آئی اورنہ آئے گی۔تبدیلی سرکار صوبہ پنجاب اوربالخصوص پنجاب پولیس پر”خودکش” حملے بندکرے۔کپتان کو دوسروں کامائنڈسیٹ تبدیل کرنا ہے تو پہلے اپنامائنڈسیٹ بدلناہوگا۔پنجاب میں وزیروں،چیف سیکرٹری اورآئی جی نہیں بلکہ منتظم اعلیٰ یعنی وزیراعلیٰ پنجاب کوتبدیل کرنااشد ضروری ہے۔ایک شخص جس کے پاس “تین سال” کاناقص تجربہ ہے اسے” تیس تیس برس” کے تجربہ کارآفیسرز کی صلاحیتوں کو پرکھنے اوران کی عزت وقسمت سے کھیلنے کاحق کس نے دیا۔کامران علی کی مدت چارماہ بعد ختم ہوجائے گی لہٰذاء ان کی تقرری ایک سوالیہ نشان ہے،اس سے ہزار درجے بہترتھا زیرک اورانتھک میجر(ر)اعظم سلیمان خان کوپھر سے زحمت دی جا تی۔پنجاب میں ہوم سیکرٹری،چیف سیکرٹری اورصوبائی محتسب کی حیثیت سے میجر(ر)اعظم سلیمان خان کی انتظامی اصلاحات،ان کے اثرات اورثمرات سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ میجر(ر)اعظم سلیمان خان کواب تک جوبھی منصب دیاگیا انہوں نے وہاں ڈیلیورکیا۔دوسری طرف راؤسردارعلی خاں سے زیادہ بی اے ناصر آئی جی پنجاب کیلئے موزوں تھے کیونکہ انہوں نے بحیثیت سی سی پی اولاہور اپنے منفردکام اورکردار سے انمٹ نقش چھوڑے ہیں،بی اے ناصر کی نیک نامی اورمجموعی کامیابی وکامرانی پرکوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا۔ پچھلے دنوں عثمان بزدار سکیورٹی ایس اوپیز روندتے ہوئے اسدکھوکھر کے بیٹے کی شادی میں جا پہنچا اوروہاں ہزاروں کے ہجوم میں صوبائی وزیرکابھائی قتل ہوگیا،اس پاداش میں منتقم مزاج بزدارنے لاہور کے مستعداورفرض شناس ڈی آئی جی آپریشنز ساجدکیانی،باصلاحیت ایس ایس پی آپریشنز سیّد ندیم عباس اورایس پی حسن جہانگیر کو مینارپاکستان واقعہ کی آڑمیں ٹرانسفر کردیا،قصوروار بزدار تھا لیکن” کرے کوئی بھرے کوئی” کے مصداق سزا ساجد کیانی،سیّدندیم عباس اورحسن جہانگیر کو بھگتنا پڑی۔ تبدیلی سرکار احتساب کی حامی ہے تومعلوم کرے پنجاب حکومت کی کس شخصیت کوڈی ایچ اے میں دوکنال کاقصر بطورتحفہ دیاگیا اورملتان میں چھ کنال پرکس کامحل زیرتعمیر ہے۔کپتان اورچیئرمین نیب معلوم کریں پنجاب کے کس صوبائی وزیرکاسیاسی خمیرقبضہ مافیا سے اٹھا ہے۔