۔،۔ 11ستمبر2021پاکستان جرمن پریس کلب کی سالانہ میٹنگ کا انعقاد۔ نذر حسین۔،۔


٭آزادی صحافت آزادانہ سماج میں ہی فروغ پا سکتا ہے۔سید حیدر،صحافی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ لوگوں تک صحیح اور غیر جانبداری سے خبروں کو پہنچائے،عمران مہر٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/روڈ گاوُ۔ ایجنڈے کے مطابق مورخہ 11 ستمبر 2021 کو پاکستان جرمن پریس کلب کی سالانہ میٹنگ کا روڈ گاوُ میں انعقاد کیا گیا،میٹنگ میں پندرہ خصوصی افراد نے بھرپور شرکت کر کے میٹنگ کو کامیاب بنایا، جرمنی کے دور دراز شہروں، برلن، ڈورٹمُنڈ، بون اور سٹٹگارٹ سے ساتھی تشریف لائے، میٹنگ کے آغاز میں نذر حسین نے میٹنگ میں تشریف لانے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا، صدر سلیم پرویز بٹ نے پاکستان جرمن پریس کلب کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی،میٹنگ میں حصّہ لینے والے صحافی دوستوں نے اپنا تعارف کروایا،ایجنڈہ کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ مقدار کی بجائے ہمیں معیار چاہیئے اور یہی پہچان ایک صحافی کی ہے۔سلیم پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ یو تیوبر بھی کلب کی شمولیت حاصل کر سکتے ہیں، میٹنگ میں شامل صحافیوں نے یک آواز اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈی ڈبلیو کے صحافییوں کو ہمارے کلب میں شمولیت نہیں حاصل ہو گی کیونکہ وہ پاکستان مخالف ایجنڈا پر کام کرتے ہیں سے بچناچاہیئے۔ اس بات پر بھی متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں جرمن پریس کلبوں سے رابطہ کرنا چاہیئے جس کے لئے ایک قائمہ کمیٹی کا انتخاب کیا گیا، جس میں عمران مہر۔ شاہد امیر گورایا، سید حیدر، مرزا روحیل بیگ اور مطیع اللہ شامل ہیں۔ پاکستان جرمن پریس کلب کی کابینہ کے متفقہ فیصلے پر قائم مقام جنرل سیکٹری کے لئے عمران مہر کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جبکہ سید حیدر کو کیشیئر(خزانچی) کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔صحافت کے اصولوں اور ضابطوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام دوستوں کا فیصلہ تھا کہ ان کا یہ فرض ہے کہ وہ ملک اور معاشرے میں اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں مدد گار ثابت ہوں گے، فرقہ وارانہ جذبات و منافرت پیدا کرنے والے مواد کی اشاعت سے پرہیز کریں گے۔ خبریں سیاسی رہنماوں،کسی فرقے یا جماعت کے خلاف بدکلامی سے پاک ہوں کوئی تحریر ایسی نہ ہو جس سے تشدد بڑھکنے کا اندیشہ ہو، ہم کو چاہیئے کہ ہم کبھی بھی سچائی سے سمجھوتا نہ کریں، کسی فرقہ وارانہ واقعہ پر جھوٹی رپورٹنگ سے پرہیز کریں۔ ملک اور قوم کے مفاد میں اشتعال انگیز اور سنسنی خیز سرخیوں سے گریز کریں،کسی طبقے یا برادری کے جذبات مجروع نہ ہوں۔میٹنگ کے اختتام پر صحافیوں کو طرح طرح کے پاکستانی کھانے پیش کئے گئے جس کا اہتمام سلیم پرویز بٹ اور نذر حسین نے کیا تھا۔٭پاکستان جرمن پریس کلب کی کابینہ نئے ممبران اور عہدے داروں کو دل کی گہرائیوں سے مبار باد پیش کرتی ہے٭