۔،۔ ( خدا ئی پہچان کا زینہ )طارق حسین بٹ شانؔ ۔،۔

وہ دنیا جس میں ہم سانس لے رہے ہیں فانی ہے،کسی انسان کو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ اس کی سانسوں کی ڈور کب ٹوٹ جائیگی اور اس خوشنما دنیا سے اس کا رشتہ کب ٹوٹ جائیگا۔بعض اوقات صحت مند انسان کسی حا دثہ کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ لاغر و بیمار انسان جن کی زندگی کی کوئی امید باقی نہیں ہوتی تندرست و توانا اور صحت مند ہو کر اپنے خاندان میں لوٹ آتے ہیں۔انسان کی ازلی خواہش تو یہی ہوتی ہے کہ وہ سدا جوان رہے،صحت مند رہے،خوشحال رہے،توانا رہے اور باہمت رہے تا کہ کائنات کے حسن اور اس کی جاذبیتوں سے مکمل طور پر لطف اندوز ہوتا رہے لیکن اس کائنات کے خالق نے اس کائنات کیلئے جو اصول و ضوابط مقر کر رکھے ہیں اس کی رو سے انسان کیلئے ا س دنیا میں ایک معینہ مدت تک قیام کا قانون نافذ کریا گیا ہے۔انسان جتنا بھی دولت مند ہو جائے،طاقتور ہو جائے،صحت مند ہو جائے اسے اس دنیا کو ایک دن خیر آباد کہنا ہی پڑتا ہے۔سکندرِ اعظم جیسے فاتح عالم کو تو عین شباب میں اس دنیا سے رخصت ہو نا پڑا تھا۔ (کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں)۔سیانوں کا قول ہے کہ(چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات)۔ زندگی اور موت کا یہ کھیل دھوپ چھاؤں کی مانند انسان کی حیاتی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔انسان کے بس میں بس یہی ہے کہ وہ ان اعمال کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے جن کا حکم اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفے ﷺ کی وساطت سے انسانوں تک پہنچایارکھا ہے۔ان خدائی احکامات پر عمل تو مشکل کام ہے لیکن اس کے بغیر کوئی چارہِ کار بھی نہیں ہے۔ویسے تو زندگی نے نیک اعمال اور عملِ خیر کے بغیر بھی گزر ہی جانا ہے تو کیا ہی اچھاہوتا کہ انسان اجلے اعمال پر اپنی زندگی کی بنیادی استوار کرے اور جب مالکِ ار ض و سماء سے اس کی ملاقات ہو تو اسے اتنا اطیمنان تو ضرور ہو کہ اس کا شمار ان افراد میں ہو گا جو راہِ حق کے مسافرتھے۔ جزا ؤ سزا والے دن انسان کیساتھ کیسا سلوک ہو گا کسی کو کچھ پتہ نہیں لیکن خدا کی رحمت کے پیشِ نظر اتنا ضرور ہے کہ خدا اپنی مخلوق کے ساتھ رحمت کا مظاہرہ کریگا۔ نیلی چھتری والے کی طرف سے انسان کے کسی کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی کیونکہ اچھے اور برے کی تمیزعطا کرنے کے بعد اس نے یہ انسان پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ صراطِ مستقیم کو اپنائے یا شیطان کی پیروی کرے۔ فیصلہ کرنے کی آزادی کا جوہر ہی انسان کو دوسری مخلوقات سے ممیز کرتا ہے۔وہ جیسے اعمال کا سزوار ہو گا اسے ویسا ہی صلہ عطا کیا جائے گا۔نیک اعمال کا صلہ جنت کی صورت میں ہو گا جبکہ برے اعمال کا صلہ دوزخ کے دہکتے ہوئے شعلے ہوں گے۔۔خدائی دعوی کرنے والے نمرود نے اپنی خدائی کے ثبوت کیلئے جو جنت بنائی تھی اسے وہی دیکھنا نصیب نہ ہو سکی تھی کیونکہ جس دن اس نے اپنی تیار کردہ جنت کو دیکھنے جانا تھا اسی دن اس کو موت کے فرشتے نے آن دبو چا تھا۔کتنا بد نصیب انسان تھا وہ کہ جس چیز کو دیکھنے کی حسرت میں سالہا سال گزار دئے تھے اسی کی دید سے محروم رہا۔خدا بنتا پھرتا تھا لیکن یہ بھول گیا تھا کہ اس کی زندگی کی ڈوریں کسی اور قوت کے ہاتھ میں ہیں۔انسان طاقت میں اندھا ہو جائے توخدا ہی بننے کی کوشش کرتا ہے۔ہمارے چاروں طرف غیر اعلا نیہ خداؤں کا ایک انبار لگا ہوا ہے۔وہ کسی کو بھی انسان سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔وہ اپنے تئیں یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اس دھرتی کے خدا ہیں وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں لیکن جب موت کا فرشتہ حاضر ہو جاتا ے تو پھر انھیں علم ہو تا ہے کہ ان کی بنائی گئی جنت الٹ چکی ہے۔ تاریخ میں خدائی دعوی کرنے والوں کا انجام ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔،۔ بقولِ ابو شان ؔ (اک تماشہ ہے تہہِ خاک ازل سے جاری ۔،۔ لوٹ کر آتا نہیں کوئی بھی جانے والا)۔ہم روز اپنے پیاروں کو خود سے جداہوتے ہوئے دیکھتے ہیں،اپنے والد ین کو موت کی آغوش میں جاتا ہوا دیکھتے ہیں،اپنے دوست احباب کی ارتھیاں اٹھاتے ہیں لیکن پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔دنیا کی جاذبیت نے ہمیں اپنے شکنجہ میں یوں جکڑ رکھا ہے کہ ہم راہِ حق کا مسافر بننے کی بجائے سودو زیاں کی منڈیاں سجائے ہوئے ہیں۔رزقِ حلال کمانا نیکی ہے لیکن اس نیکی کے نام پر بد دیانتی،ملاوٹ، دھوکہ دہی اور وعدہ شکنی کا بازار سجا ہوا۔ایسا کرنے کا حکم کس نے نے دیا ہوا ہے۔؟دولت کی اندھی محبت نے انسان سے اس کی حسیات تک چھین لی ہیں،وہ رشتوں ناطوں کی اہمیت بھول چکا ہے۔اور اس کی نظر میں دولت ایک الہ کا روپ دھار چکی ہے جس سے وہ کسی بھی صورت دسست کش ہونے کے لئے تیار نہیں ہے۔وہ پندو نصائح بھی سنتا ہے،مذ ہبی تقریبات میں بھی حاضری یقینی بناتا ہے لیکن اس کے من میں دولت کی محبت جس طرح سرائیت کر چکی ہے وہ اس کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ اسی دولت کے بل بوتے پر اس نے معا شرے میں اپنے مقام کا تعین کرنا ہوتا ہے۔کبھی کبھی ایک واقعہ کسی انسان کی پوری حیاتی کو بدل کر رکھ دیتا ہے اور انسان کااندازِ زیست چھین کر چلتا بنتا ہے۔آسمان کو چھونے والے درویشی پر اتر آتے ہیں اور دلوں کا روگ مٹانے میں لگ جاتے ہیں۔ان کے اندر کا انسان دہل جاتا ہے اور دنیا کی بے ثباتی ان پر عیاں ہو جاتی ہے۔وہ بدلی ہوئی روح سے دنیا کی جانب مراجعت کرتے ہیں تو ان کے رویے اور ان کے افعال بالکل الگ کہانی سنانے لگ جاتے ہیں۔زمانے کے موانعات، مصائب و آلام،مشاہدات،تلخ و شیریں واقعات بدلاؤ کے پیام بر بنتے ہیں۔وقت انگڑائی لیتا ہے تو سب کچھ بدل جا تا ہے۔وقت کے دھارے میں یار بچھڑ گے،محفلیں اجڑ گئیں،رنگ پھیکے پڑ گے۔چاہتوں میں نہائی ہوئی فضا روٹھ گئی؟ ر نگ نور کی محفلیں کیا ہوئیں؟کہاں گئیں ہ دلنشیں ادائیں؟ کہاں گئے وہ دلکش رنگ؟ کہاں گیا وہ دلوں کو چھونے والا اندازِ محبت؟کہاں گئے وہ عہد و پیمان؟کہاں سے لاؤں خلوس و وفا کی وہ باز گشت جو فضاؤ ں کو گلناربنا دیتی تھیں۔۔سیلِ رواں کی بے رحمی سے دوریاں اور ہجرت ہمارا مقدر بنی۔ بقولِ شاعر(اب کہاں ان کی وفا یادِ وفا باقی ہے ۔،۔ ساز تو ٹوٹ گیا اس کی صدا باقی ہے)۔ خوشی میں ستارے آنکھوں میں جھلملاتے ہیں جبکہ حالتِ غم میں چاند تاروں کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے اور انسان تاریکیوں میں کھو جاتا ہے۔ خوابیدہ نغموں کو جب بھی مضراب سے جگایا جاتا ہے تو رنگِ بہار نکھر جاتا ہے۔بقولِ شاعر (تم پہاڑو ں میں جا کر کبھی صدا مت دینا۔،۔ان کو آواز پلٹنے کا ہنر آتا ہے)کاش ایسا ہوجائے توہم بھی کھو ئی ہوئی آوازوں کی باز گشت سن لیتے۔ در اصل محبت اس شبنم کی مانند ہوتی ہے جو رخِ گل کو اور بھی نکھار دیتی ہے اور یہی کام آنسو کرتے ہیں۔یادوں کی تسبیح اسی کا نام ہے۔ یہ الگ بات کہ رخِ گل کو نکھار بخشنے والے دوستوں کی عدم موجودگی انسانیت کو تہی دامن کر دیتی ہے۔پیارے بچھڑ جائیں تو جینے کا مزہ باقی نہیں رہتا لیکن چونکہ زندہ رہنا فرض ہے لہذا انسانی محبت اظہار کیلئے اپنا رنگ اور روپ بدل لیتی ہے لیکن اس کی روح قدیم اور دائمی رہتی ہے۔، روح جو انسان کی بلند پروازی کی بنیاد ہے، روح جو انسان کی عظمت کی علامت ہے،روح جو سچائی کی نوا ہے،روح جو انسان کی بڑھائی کی داستان ہے،روح جو محبتوں کا گہواراہے،روح جو انسان کی اجلتا کی کہانی ہے،روح جو انسان کی لطافت کا پرتو ہے،روح جو خودی کی آماجگاہ ہے،ر وح جو وجدان ہے،روح جو امانت و دیانت کا مسکن ہے، رو ح جو خدا ئی پہچان کا زینہ ہے اور روح جو سارے عالم کی محبتوں کی امین ہے لہذا مجھے ببانگ دہل اعلان کرنے دیجئے کہ (زندہ باد اے محبت زندہ باد)۔ وہ لوگ جو اپنی روح کی کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اعلی و ارفع مقامِ پر فائزہوتے ہیں۔انھیں علم ہوتا ہے کہ روح کی سننے والے سدا سرِ افلاک کو چھوتے ہیں۔روح کی کوملتا کو حرضِ جان بنانے والے سدا کامیابیوں سے اپنا دامن بھرتے ہیں۔ایک سچے اور آئینہ صفت انسان کی یہی پہچان ہے کہ وہ محبت کی وادی میں بلا خوف وخطر محوِ پرواز رہتا ہے۔زمانے کا خوف یا سنگدلوں کی ہرزہ سرائی اس سے محبت کی وہ دولت کبھی چھین نہیں پاتی جو اس کی ذات کا جزوِ لا ینفک ہوتا ہے۔بقولِ شاعر (وہ طائر جس کے سینے میں دلِ آزاد ہوتا ہے۔،۔ وہاں قصدا چہکتا ہے جہاں صیاد ہو تا ہے)۔،۔