۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد(لوح و قلم تیرے ہیں)دکتورساجدخاکوانی ۔،۔

منگل21ستمبر بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست G6/2اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں ”مغربی ثقافت اورہماری اقدار(حصہ دوم)“کے عنوان سے جناب خالد حسن کامقالہ طے تھا۔نوجوان شاعر اوردانشورجناب جمال زیدی نے صدارت کی۔جناب مشتاق کیانی نے تلاوت قرآن مجیدکی،جناب شہزادمنیراحمدنے مطالعہ حدیث نبویﷺ پیش کیا،ڈاکٹرصلاح الدین صالح نے نعت بحضورسورکونینﷺپیش کی اورمعروف صحافی جناب نعیم اللہ خان نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔ صدرمجلس کی اجازت سے جناب خالدحسن نے اپنامقالہ پڑھا،انہوں نے مغربیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سخت تنقیدکانشانہ بنایااورمثالیں دے کر وضاحت کی مغرب معاشی واقتصادی ہتھکنڈوں کے ذریعے دنیاکواپنا تہذیبی غلام بنانے چلاہے،انہوں نے مصنوعات کی اشتہاربازی کے بہانے اپنی ثقافت کوپوری دنیامیں برآمدکرنے پر مغربی سماجی اداروں کاعلمی محاسبہ کیا،انہوں نے تاریخی واقعات سے اپنے موقف کومضبوط ترکیااورکہاکہ یہ سب کچھ اتفاقاََنہیں ہے بلکہ سوچے سمجھے ارادوں کے نتیجے ہیں،آخرمیں انہوں نے اپنے مضمون کے تجزیاتی حصے میں شرکاء کوبتایاکہ جس طرح اسلامی ترکی کو سیکولرترکی بنایاگیااسی طرح کامکروہ کھیل اب پاکستان کے ساتھ بھی کھیلاجارہے۔مقالہ ختم ہونے پر شرکاء میں سے ڈاکٹرساجدخاکوانی،ڈاکٹرصلاح الدین صالح اورچوہدری منیرگجرنے سوالات اٹھائے،سوالات اگرچہ سخت تنقیدکے حامل تھے لیکن صاحب مقالہ نے بڑے تحمل سے تفصیلی جوابات دیے۔مقالے پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب شہزادمنیراحمدنے کہاکہ مسلمانوں کواپنے رویوں میں تبدیلی لاناہوگی،انہوں نے خاص طورعصری تقاضوں کے حوالے سے کہاکہ مسلمان امت کووقت کے ساتھ چلناہوگاتب ہی دجالی فتنوں سے مقابلہ ممکن ہوسکے گا۔جناب ساجد حسین ملک نے کہا کہ صاحب مضمون کاآج کامقالہ گزشتہ مقالے سے زیادہ اچھاہوناچاہیے تھاانہوں نے کہاکہ شایدطوالت کے خوف سے فاضل مقالہ نگارنے مغربی ثقافت پر نقد نہیں کیا،انہوں نے نفس مضمون سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ امت مسلمہ تعلیمی ترقی سے ہی دنیاکے شانہ بشانہ چل سکتی ہے۔جناب چوہدری منیرگجرنے کہاکہ گزشتہ دوسوسالوں سے مسلمانوں کاکوئی کارنامہ سامنے نہیں آیاتب ساری دنیاانہیں لوگوں کے پیچھے چلے گی جودنیامیں اپنی محنت کی بدولت سربلندہیں۔جناب میرافسرامان نے کہاکہ مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی کا تدارک قرآن مجیدکی صورت میں موجودہے۔ڈاکٹرساجدخاکوانی نے کہاکہ موجودکشمکش تہذیبی نوعیت کی قطعاََبھی نہیں بلکہ دراصل یہ مذاہب کے درمیان صف بندی ہے جس کااستعمارکی طرف سے متعددبار برملااظہاربھی کیاگیاہے۔ بعدازاں شعرانے اپنااپناکلام سنایاجن میں ڈاکٹرصلاح الدین صالح،ڈاکٹرآغانورمحمد،شہزادمنیراحمداورشیخ عبدالرازق عاقل شامل تھے۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپناحاصل مطالعہ شرکاء محفل کے ساتھ تازہ کیا۔آخر میں صدرمجلس جناب جمال زیدی نے مقالے کی تعریف کی اورکہاکہ طاغوت کاکردارہمیشہ ننگ انسانیت رہاہے،انہوں نے کہا دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی سامراج نے مسلمانوں سے وعدہ کیاتھاکہ جرمنی کوسبق سکھانے کے بعد سلطنت عثمانیہ کو کچھ نہیں کہاجائے گا،لیکن فتح حاصل ہوتے ہی انہوں نے اپنے تمام وعدے فراموش کردیے اور خلافت اسلامیہ کا چراغ گل کرکے اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیاجس سے مسلمان بہت رنجیدہ خاطرہوئے۔صدارتی خطبے کے بعد آج کی نشست ختم ہوگئی۔