۔،۔(عالمی مجلس)بیداری فکراقبالؒ (مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرادیکھ)۔دکتورساجدخاکوانی ۔،۔
بدھ 22ستمبر2021 بعد نمازمغرب (عالمی مجلس)”بیداری فکراقبالؒ“کی ہفت روزہ ادبی نشست لہروں کے دوش پر منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں ”علامہ کاتصورپاکستان؛قبل ازآزادی(نصف اول)“کے عنوان پرقصور سے پروفیسرعاقب رضانورکاخطاب طے تھا۔متحدہ عرب امارات دبئی سے جناب پروفیسرسیدعلی یارنے صدارت کی۔اسلام آباد سے جناب نویدخان نے تلاوت قرآن مجیدکی،لاہورسے پروفیسربلال انجم نے مطالعہ حدیث نبویﷺپیش کیااورجھنگ سے جناب احسان یوسف نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔ صدرمجلس کی اجازت سے جناب پروفیسرثاقب رضانورنے اپنے خطاب کاآغازکیااورکہاکہ قیام پاکستان تاریخ انسانی کاایک انوکھاواقعہ ہے،انہوں نے 1930کے خطبہ آلہ آبادکے کی کچھ سطورپڑھ کر سنائیں جن میں علامہ نے تصورپاکستان پیش کیاتھا،پروفیسرصاحب نے ایک طبع شدہ کتاب کے حوالے سے بتایاکہ علامہ اقبال نے اپنے ایک قریبی دوست کو بتایاتھاکہ یہ خطبہ آلہ آباد حضرت سیدعلی ہجویری داتاگنج بخش نے عالم رویاء میں انہیں املاکروایاتھا،صاحب خطاب نے مزیدبتایاکہ شق قمرکاواقعہ جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرالہ کے ہندوراجہ نے بچشم خود دیکھاتھاپھراگلے دن اس کے درباری علماء نے بتایا کہ اس واقعے کاتذکرہ ان کی مذہبی کتب میں موجودہے،تفصیلات معلوم ہونے پر یہ راجہ خدمت اقدسﷺمیں پیش ہوااورمسلمان ہوکرلوٹااورہندوستان میں پہلی مسجدتعمیرکی،انہوں نے مزیدبتاکہ مکہ کابت”منات“ہندوستان لایاگیااوراس کے نام کے ساتھ سو(100)لگاکراسے ”سومنات“کے مندرمیں رکھ دیاگیا،تب سلطان محمودغزنوی کو دربارنبوتﷺسے اس بت کوتوڑنے کااذن ہوا،ٖفاضل مقررنے ان واقعات کو تاسیس پاکستان کی روحانی وجوہات قراردیا۔خطاب پر اسلام آبادسے میرافسرامان اور پلواما،مقبوضہ کشمیرسے عاقب شاہین نے سوالات اٹھائے جن کاجواب دے دیاگیا۔خطاب پر راولپنڈی سے ڈاکٹرضمیراختر،رحیم یارخان سے پروفیسرڈاکٹرمختارعزمی،اسلام آبادسے صابرصدیقی،ملتان سے پروفیسرفارحہ جمشید،گولڑہ شریف سے افتخارکیانی،اسلام آبادسے خالد حسن،لاہور سے پروفیسربلال انجم اور جناب اکرم الوی نے تبصرے کیے،مبصرین نے خطاب میں پیش کیے گئے واقعات کے حوالوں کاتقاضا کیاجس پر صاحب خطاب نے ان کی فراہمی کاوعدہ کیااگرچہ دوران خطاب انہوں نے حوالوں کاذکر کیابھی تھا،مبصرین کا کہناتھا کہ خطاب بہت عرق ریزی سے تیارکیاگیا اور بہت نادر معلومات فراہم کی گئیں،شرکاء نے اس خطاب کے اگلے حصے کا بے چینی سے انتظار کرنے کا بھی ذکر کیا۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے علامہ اقبال کی فارسی کلام سے اپناحاصل مطالعہ پیش کیا۔آخر میں صدارتی خطبے میں جناب پروفیسرسیدعلی یار نے کہاکہ مذکورہ واقعات پہلی دفعہ سننے کو ملے اور بہت حیرانی ہوئی،انہوں نے صاحب خطاب کی تعریف و توصیف کی کہ انہوں نے بڑی محنت سے تاسیس پاکستان کے تصورات کو تلاش کیااورمنظرعام پرلائے،انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اورقائداعظم کے فرامین پرعمل کیاجائے تو حالات بہترہوسکتے ہیں،انہوں نے تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی نشریاتی اداروں پر ایک خاص ذہن مسلط ہے جو بانیان پاکستان اور نوجوانان پاکستان کے درمیان خلیج کو وسیع ترکرناچاہتاہے،انہوں نے زوردیتے ہوئے کہاکہ علامہ اقبال اورقائداعظم کی تعلیمات کو نسل نوتک پہنچانے وسیع پیمانے پرانتظام ہوناچاہیے۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی نشست اختتام پزیرہوگئی۔