۔،۔عقیدہ ختم نبورت ﷺ پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔کمیٹی ختم نبوتﷺ۔نذر حسین۔،۔

٭عقیدہ ختم نبوتﷺ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ہمارا ختم نبوت پہ ایمان ہے٭

شان پاکستان جرمنی ہاناوُ۔ سید حامد شاہ کی کاوشوں سے ختم نبوت ﷺ کی میٹنگ بلوائی گئی تھی جس میں جرمنی بھر سے عاشقان رسولﷺ نے شرکت کی پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کی سعادت صفدر شاہ کو نصیب ہوئی،نعت افضل قادری۔جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں،شبیر، سلیم بھٹی، احسن تارڑ اور رانا آصف نے نعت شریف پیش کیں جبکہ ایک نوجوان نے قصیدہ بردہ شریف پیش کی۔پروگرام کی دوسری نشست میں سید حامد شاہ نے ختم نبوتﷺ کانفرنس کا ایجنڈہ پیش کیا خوشحال خان کو محفل کی صدارت کے لئے چنا گیا۔محفل کی نقابت احسن تارڑ نے سنبھالی،خوشحال خان کا کہنا تھا کہ اپنے ذاتی اختلافات کو ختم کر کے ختم نبوت پر کام کیا جائے گا، شیخ منیر نے تمام محفل کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ بند کمرے میں فیصلہ کر کے فیصلہ نہیں سنایا گیا جبکہ مشاورت سے فیصلہ کیا گیا ہے۔توقیر بٹر صابری، راجہ، رانا حسن، افضل قادری، افضال قادری، اعجاز پیارا، روحیل منیر، امتیاز قاہلو، نذر حسین، بابر چشتی، سید حامد شاہ اور عبد الطیف چشتی الازہری نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ انٹرنیشل شہر ہونے کی وجہ سے ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد بھی جرمنف کے شہر فرینکفرٹ میں ہی کی جائے گی۔ اس موقع پر ختم نبوت ﷺ کمیٹی کا بھی انعقاد کیا گیا ہے جس میں۔ حاجی خوشحال خان، رانا احسن، اقبال خان، روحیل منیر، چوہدری اجمل، توقیر بٹر صابری، افضال اقبال، سید صفدر، نذر حسین اور عمران خان شامل ہیں۔ احسن کا فرمانا تھا کہ ہر انسان کی عزت نفس ہوتی ہے عقل کے مطابق گفگو کرنی چاہیئے، خوشحال خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی محفل میں قادیانیوں کو بھی دعوت دینی چاہیئے، جبکہ عبد الطیف چشتی نے فرمایا کہ ماشا اللہ دن بدن قادیانی اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ان کا مزید فرمانا تھا کہ ان شا اللہ وہ دن دور نہیں جب یہ الاعلانیہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے ان کے کمیونٹی کے ساتھ چند ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے کھلے عام اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے سے گھبراتے ہیں۔٭محفل کے اختتام پر تمام دوست و احباب کو حسینی لنگر پیش کیا گیا واضح رہے کانفرنس میں پچپن افراد کے علاوہ پردہ میں رہ کرخواتین نے بھی شرکت کی٭