۔،۔۔درندگی کا بخار۔اے آراشرف۔،۔


کم از کم میری سمجھ سے تویہ بات بالاتر ہے کہ کیا ہمارے ریاستی ادارے اسقدر کمزور اور بے بس ہیں کہ ایک مجبوراور نہتے شہری پر بہیمانہ تشدد ہوتا ہوادیکھ کر بھی تماشائی کا کردارکیوں اداکرتے ہیں؟ اور کیاقانون نافذ کرنے والوں کو بھی مشتعل ہجوم کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہ تھی؟اور کیا نام نہاد ناموس رسالت کے دعویداروں کی نظر میں بھی اللہ کے احکام اوررسول ﷺکے فرمان کی کوئی اہمیت نہ تھی یہ کیسے پروانے تھے جو دعوئے تومودت رسولﷺ کے کرتے ہیں لیکن اُنکےﷺ کے فرمان کی اتباع کرنے سے گریز کرتے اسے مودت نہیں منافقت ہی کہا جائے گا جو تمام تر احکام اور فرمان کو پس پشت ڈال کر سُنی سنائی خبروں پریقین کرلیتے ہیں اور اپنا کا دیکھے بنا۔کُتے کے پیچھے دوڑ لگا دیتے ہیں۔جبکہ ہمارے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی خبرپہنچے توپہلے اس خبر کی اچھی طرح تصدیق کرلوکہ آیا یہ خبر درست بھی ہے یا نہیں۔اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ مرحوم سری لنکن شہری پر توہین رسالت ﷺ کا االزام لگا نے والے ور ہجوم کو مذہبی اشتعال دلا کر انتشار پھیلانے والے کسی دشمن ملک کے آلہ کار نہ تھے ہماری قوم میں شدت پسندی،جنون اور پاگلوں جیسی سوچ کا رحجان جس تیزی سے سرایت کر رہا ہے یہ ملک و قوم کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے اگرچہ ان کی تعداد بہت قلیل ہے۔مگر وہ جو کہتے ہیں کہ۔ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔یہ سیالکوٹ کا ہولناک سانحہ نہ کوئی پہلا سانحہ نہیں اس سے پہلے عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک طالب علم مشعال خان پر بھی توہین مذہب کا الزام لگاکر بے قابوہجوم نے اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا تھاپھر مارچ ۳۱۰۲میں لاہور کے علاقہ بدامی باغ میں توہین مذہب کے نام پر عئائیوں کے گھروں کو نظرآتش کر دیاگیاتھاجبکہ دین اسلام میں جبر اور شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں اسلام تومکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ہر کسی کو بغیر رنگ و نسل اورمذہب کی تفریق کے ہر ایک کومکمل آزادی ور عزت و آبرو سے رہنے کے حقوق فراہم ہیں ا یسے پُر تشدد واقعات نہ صرف ریاست مدینہ کیلئے ہی لمحہ فکریہ ہیں بلکہ یہ پاکستانی معاشرے کیلئے بھی اس میں درس عبرت ہے کہ اب ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو ایسے بیہودہ،جنونی اورشدت پسندمافیا سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں سیانوں کی متفقہ رائے ہے کہ جب کسی درندے کو پاگل پن کا دورہ پڑتا ہے توانسانوں کی حفاظت کیلئے اُسے گولی مار دی جاتی ہے۔ہمارے اس پُر سکون معاشرے میں بھی کچھ مُٹھی بھردرندے گھس آئے ہیں جو انسانوں کے روپ میں بھیڑیے ہیں جو کبھی مذہب کی آڑ میں اور کبھی لسانی بنیادوں پر فساد پھیلاکر ریاست میں درندگی کی ایسی تاریخ رقم کرتے ہیں جو نہ صرف قابل مذمت ہی ہے بلکہ ایسی ہولناکی اور سفاکی کودیکھ کرپوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں اوریہ بات اور بھی باعث مذمت ہے کے ہزاروں کے جم گفیر میں صرف ایک فرد ہی حسینی نکلا جس نے جُرات اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُ ن درندوں سے مظلوم،مجبور اور بیکس کو بچانے کیلئے اپنی جان کی بھی پروہ نہ کرتے ہوئے سامنے آیا اور جنونی ہجوم کے تشدد کا نشانہ بھی بنا۔ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان نے اُسکی بہادری اوردلیری پر اُسے تغمہ شجاعت دینے کااعلان کیا ہے جو خوش آیندبات ہے اگر کچھ اور افراد بھی ایسی ہی جُرات اور بہادری کا مظاہرہ کر جاتے تو سری لنکا کے مظلوم شہری کی جان بچ جاتی۔جہاں تک ناموس رسالتﷺکا سوال ہے ہم سب مسلمان ہیں اوروطن عزیز کا بچہ بچہ آپﷺ کی ذات اقدس کے نام پر اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے مگرپاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے اور یہاں توہین رسالتﷺکا ایک مجوزعہ قانون موجود ہے جس کے تحت ملزم کوجرم ثابت ہونے پر قرارواقعہ سزا ہو سکتی ہے اگر فرض کریں مرنے والا توہین رسالتﷺکامرتکب ہوا بھی تھا تواس ملک میں مضبوط عدالتی نظام موجودہے کسی بھی شہری کو قانون ہاتھ میں لینے کی قطعاََ اجازت نہیں اس جنونی گروہ نے نہ صرف قانون شکنی کی ہے بلکہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرکے ماورائے عدالت قتل کیا ہے جب کہ اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل تصور کیا جاتا ہے اور رسول اسلامﷺ کی تعلیمات کی نفی ہے اگر اس نام نہاد جنونی گروہ کے دل میں ذرہ برابربھی اپنے رسولﷺ سے محبت ہوتی تو سب سے پہلے اُنﷺکی تعلیمات پر عمل کرتے۔ہمارے رسولﷺ نے تو فتح مکہ کے موقع پر اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کردیا تھااللہ تعالیٰ وطن عزیز کو شدت پسندوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین۔