۔،۔ناقابل فراموش سانحہ۔اے آراشرف۔،۔

ستائیس دسمبر اس لحاظ سے پاکستانی عوام کیلئے بڑا منحوس دن ثابت ہوا کہ اس روزعوام کی ہردلعزیز لیڈراور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم مخترمہ بے نیظیربھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ناکردہ گناہوں کے جرم میں گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کردیاگیااُنکا بیہمانہ قتل نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ اقوام عا لم اور بلحصوص اسلامی دنیا میں ایک عظیم اور ناقابل فراموش سانحہ تصورکیا جاتا ہے اس سانحہ کو چودہ سال گذر چکے ہیں مگر دنیابھر میں جہاں جہاں بھی پاکستانی جیالے موجود ہیں اُنکے دلوں میں ابھی تک اپنی محبوب لیڈرشہید ذوالفقار علی بھٹو اورشہید رانی مخترمہ بینظیرکیلئے عقیدت و اخترام کے جذبات ٹھاٹھیں مارتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی موجود ہیں عوام کی ہمدرد اورمحسن پاکستان لیڈرکیلئے خیرسگالی کے جذبات رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ۔برسی ہو یا سالگرہ بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں اور دعایا تقریبات کا انعقادکرتے ہیں دوسرے شہروں کیطرح فرنکفراٹ میں بھی جرمنی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر سید زاہد عباس،سیکرٹری جنرل چوہدری فاروق احمد،ڈپٹی سیکرٹری جنرل جناب راسد نسیم میرزا اور نائب صدر جناب محمدیونس نے غوثیہ مسجد دارالسلام میں ایک پُرتکلف دعایا تقریب کا اہتمام کیا جس میں تارکین وطن کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے شہید بی بی سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا مخترمہ بینظیر بھٹو شہید کی زندگی کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اُسے اپنے شفیق باپ شہید ذوالفقار علی بھٹوکے عدالتی قتل کے بعدکن کن اذیتوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا دراصل شہید رانی کی کہانی کاآغاز۴اپریل۹۷۹۱کو ہوا جب اُسکے باپ کوراولپنڈی جیل میں تختہ دار پرلٹکا یا گیا اُسوقت غالباََ مخترمہ اپنی زنندگی کی چوبیس بہاریں گذار چکی تھیں بلکہ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ اُسوقت تک بی بی شہید نے ایک شاندار اور پُرسکون زندگی گزاری تھی جس میں دکھوں اور مصیبتوں کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھامگر اپنے شفیق باپ کی گرفتار ی کے بعداُنہیں مختلف اداروں او رپھرحصوصاََ جسٹس مولوی مشتاق حسین کے ہاتھوں باربارتذلیل کا نشانہ بنتے دیکھا گیامگر راولپنڈی جیل کی پھانسی کی کوٹھری میں اُنہیں بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑالیکن اُن تمام تر اذیتوں کے باوجود اُس آہنی خاتوں کے کرداراور عزم میں مضبوطی دیکھی گئی بلکہ پوری جانفشانی اوردلیری سے جنرل ضیاالحق جیسے آمرکی تشدد آمیز کاروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔مشہورکالم نگار،مصنف،صحافی اور شاعرسید عباس اطہر مرحوم اپنی کتاب۔بینظیر کہانی۔میں لکھتے ہیں کہ۴اپریل۹۷۹۱کو جب راولپنڈی جیل میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کوسزا موت دے دی گئی اور پھر رات کے اندھرے میں فوجی پہرے میں میت کوگڑھی خدا بخش پہنچایا گیا اورچند اہلخانہ کو بند تابوت میں چہرے کا آخری دیدارکرایا گیااور ایک پرانی چارپائی پر جنازہ رکھ کرگڑھی خدا بخش لایا گیاپھر ادھر اُدھرکے کچھ لوگ اکٹھا کرکے نماز جنازہ پڑھائی گئی اور خاندان کے کسی اہم فرد کوشریک نہیں ہونے دیا گیااور کسمپرسی کے اسی عالم میں اُنہیں قبر میں اُتار کروہاں پہرہ لگا دیاگیاجو کئی ماہ بعد اُٹھا۔ستم ظریفی یہ تھی جس لیڈر کے ایک اشارے پر عوام اپنا تن من اور دھن قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے اُسکا آخری دیدار بھی کرنے کی آمر وقت نے اجازت نہ دی اس دکھوں بھری شام کا آغاز کچھ اس انداز سے ہواکہ مخترمہ کوسیاست کا کوئی عملی تجربہ تھا اورنہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں سے ہی کوئی شناسائی تھی اس کے باوجودشہید بھٹو نے اُنکی سالگرہ کے موقع پر جیل سے لکھے گئے خط میں اُنہیں اس جنگ کی قیادت سونپ دی تھی جو اُنکے قتل کے بعدشروع ہونی تھی کالم میں اتنی گنجائش نہیں کے اُس خط کی تفصیل بیان کی جائے لیکن سب جانتے ہیں کہ شہید رانی نے اپنے شفیق باپ کی وصیت پرعمل کرتے ہوئے احسن انداز سے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں بلکہ چشم فلک نے دیکھاکہ جلاوطنی کے بعدجب وہ پاکستان آئیں تو سید سجاد بخاری اپنی کتاب۔۔۲۷دن۔۔میں بیان کرتے ہیں کہ جنرل ضیاالحق کے مارشل لائی دور کے دوران طویل اسیری اور جلاوطنی اور صعوبتیں برداشت کرنے کے بعدمخترمہ بینظیرجب ۰۱اپریل۶۸۹۱کولاہور پہنچیں تو پاکستان کے عوام نے اُنکاایسا دالہانہ استقبال کیا کے تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی لاہور ایئرپورٹ سے مینار پاکستان تک عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندرتھا جسکی پُرجوش اورمحبت بھری لہروں نے انسانی جذبوں میں ایک تلاطم پیداکر دیا تھا۔ان دونوں باپ بیٹی کی پاکستان کیلئے کن کن خدمات کا تذکرہ کیا جائے بس یاد دہانی کے لئے اتنا کافی ہے کہ باپ سامراجی قوتوں کا مقابلہ کرتے کرتے تختہ دار پر چڑھ گیا مگر پاکستان کو ناقابل تسخیرایٹمی قوت بنا گیا اوربیٹی نے اپنے باپ کا مشن پورا کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی اور شہید جمہوریت کا اعزاز پایا اور پاکستان کو میزائل ٹکنالوجی کا انمول تحفہ دے گئیں بھلا۔کون ہے ان جیسا تو سامنے آئے۔