-,-سانحہ امامیہ مسجد پشاور اے آر اشرف -,-

افسوناک امر یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہوں یا حزب اختلاف یا پھر دیگر سیاسی جماعتوں کے زُعمایہ سب کے بے حس،موقع پرست اور وعدہ خلاف واقع ہوئے ہیں بالکل۔ ہاتھی کے دانتوں کی طرح جوکھانے کے لئے اور ہیں دکھانے کیواسطیاور۔ دونوں ہی بیچاری معصوم اور مظلوم عوام کو انتحابات سے پہلے ایسے ایسے سبز باغ دکھا کر گمراہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں اور اپنا مطلب پورا ہونے اور اقتدار حاصل کرنیکے بعد عوام پھراُنکے لئے شجر ممنوعہ بن جاتی ہے۔اب بھی یہ سب کے سب اقتدار کی ہما۔کے حصول میں دیوانے ہو رہے ہیں ایک اپنی کرسی بچانے کے لئیسر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے اور دوسرا فریق کرسی چھیننے کی جدوجہد میں دیوانے ہو رہے ہیں ان دونوں کو عوام کے دکھ درد اور مشکلات کاذرا بھر احساس نہیں اس بات کا اندازہ اس ہولناک سانحہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور خون میں نہا گیا ہے۔ امامیہ مسجد پشاورمیں دہشتگردی کا ایسا دلخراش سانحہ رونما ہوا ہے جس میں ستر کے قریب معصوم اور بیگناہ شہری شہید اور دو سو کے لگ بگ زخمی ہوئے ہیں اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن دونوں ہی نے صرف ایک ایک عدد رویتی مذمتی بیان دیکر یہ سمجھتے ہیں کے اُنہوں نے اپنا فرض ادا کردیا ہے ذرا یہ سب اپنے اپنے مُنہ اپنے گریبانوںمیں ڈال کر سوچیں کہ ان میں سے کسی کا باپ،ماں،بھائی،بہن،بیٹا،بھتجا یا کوئی بھی خونی رشتہ دار یا قریبی دوست اسطرح دہشت گردی کا شکار ہو ا ہوتا تو کیا یہ لوگ پھر بھی بڑے جلسوں جلوسوں لانگ مارچ یا شارٹ مارچ کا سلسلہ جاری رکھتے۔یقیاَاس کا جواب نفی میں ہو گا اور کئی روز تک سوگ منایا جاتاا بلا شُبہ امامیہ مسجد پشاور میں شہید یا زخمی ہونے والیہمارے رشتہ دار،دوست یا عزیز نہ تھے مگر ہیں تو وہ سب ہمارے مسلمان بھائی کم از کم انسانیت کے ناطے ہی حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو اپنی ہوس اقتدار کے جنون سے نکل کر شہید یا زحمی ہونے والوں کے وارثین کے دکھ میں شریک ہوتے اور کم از کم تین دن تک اپنی تمام تر سیاسی سرگرمیاں منقطع کر کے شہدا کے غم میں شریک ہو تے اور اُنکے زحموں پر مرہم رکھتے اورسوگ مناتے اسلام کا زریں اصول تو یہ ہے کہ۔ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ہونا تویہ چاہیے تھا کہ ہمارے عزتماب وزیراعظم جناب عمران خان اپنی تمام مصروفیات منقطع کرکے فوراَ جائے وقوع پر پہنچ کر لواحقین کے غم میں شریک ہوتے اور تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے مگر اُنہیں تو اس وقت تحریک عدم اعتماد کے آنیکے خوف نے پریشان کر رکھا ہیاُنہیں اس تحریک کو ناکام کرنے کے علاوہ کوئی دوسری بات سوجھتی ہی نہیں اس وقت ریاست مدینہ میں جسطرح لا اینڈ ارڈر کی صورت حال بد سے بد تر ہو رہی ہے لگتا یوں ہے کہ قانون شکن اور قبضہ مافیا جیسے مُنہ زوروں پر حکومت کی گرفت کمزور پر گئی ہے۔خدا خدا کر کے وطن عزیز میں سیکورٹی اداروں کی بیمثال قربانیوں اور بہادری کے طفیل دہشت گردی کی کاروائیوں کو کنٹرول کر لیا گیا تھا لیکن کچھ عرصہ سے دہشت گردوں نے پھر سے اپنی کاروائیاں تیز کر دی ہیں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کی وارداتوں سے ظاہر ہوتا ہیکہ شاید دہشت گردوں نیاپنے نیٹ ورک کو پھر سیمنظم کر لیا ہیجو نہ صرف حکومت بلکہ مقتدرہ اداروں کیلئے بھی لحمہ فلریہ ہیکہ کشور خدا داد میں غیر ملکی دشمن قوتیں اپنی ایک مذموم سازش کے تحت وطن عزیز میں مذہبی منافرت پھیلا کر ریاست کو غیر متحکم کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں جبکہ وہ جانتیہیں کہ پاکستان کیغیور عوام اورہماری بہادر افواج دشمن کی ہر سازش ناکام بنانے کیعلاوہ مُنہ توڑ جواب دینابھی اچھی طرح جانتی ہیں یہ پہلا موقع نہیں کہ دشمن نے بزدلانہ سازش کی ہے اس سے پیشتر بھی ہر بار اُسے مُنہ کی کھانی پڑی اور شکست ہی سامنا کرنا پڑا۔