-,-ضمیرییاباضمیرے-اے آراشرف-.-


صاحب اقتدار ہوں یا محروم اقتدار مگر دونوں ہی ا یکدوسرے کو چور،ڈاکو،غدار اور نہ جانیاور کیسے کیسے القابات سے نوازتے ہیں کے سُننے والا بھی کان پکڑ لیتا ہے اور یہ سلسلہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ مٰیں جاری و ساری ہے دنیا میں ہر ریاست کے زُعما اپنی قوم و ملت کے لئیمشعل راہ تصور کئے جاتے ہیں لیکن ہماری سیاسی قیادتیں اور مذہبی راہنما دونوں ہی ملکراخلاقیات کا بڑی دھوم دھام سے جنازہ نکال رہے ہیں جسے دیکھو وہ اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا کر سمجھتا ہے کہ اُس نے کو ہمالیہ سر کر لیا ہے۔سیانوں کاکہنا ہے کہ جو جُھکتا نہیں وہ ٹوٹ جاتا ہیمیں اس موقع پر سابق صدر جناب آصف علی زرداری کی دانش مندی اور بہادری کی مثال پیش کرنے میں کوئی عار محسوس کرتا جہنیں معروف صحافی جناب مجید نظامی نے اُنہیں مرد حُر کے لقب سے نوازا تھا پھر انہوں نے مخترمہ بینظیر کی شہادت کے نازک موقع پر۔پاکستان کھپیکا۔نعرہ لگا کر اپنی حب الوطنی کا ثبوت اور سندھ میں برپا ہونے والے فتنہ کو روکا تھا اور پھر چوہدری برادران سیمصالخت کر کے اہم کردار ادا کیا تھا مگر یہاں تو ہر ایک کے دل و دماغ میں ارسطو اور افلاطون سمایا ہوا ہے یہ حالات کی ستم ظریفی سمجھیں یاکوتاہی کہ کوئی فرد بھی دیانت اور ایمانداری سیاپنی مقدس رائے کا اظہار کرنے کی جُرات نہیں کر رہا کے کون اپنے ضمیر کا محافظ ہے اور کون اپنا ضمیربیچ رہا ہے یہ تو صرفاورصرف ضمیر کا مالک ہی بتا سکتا ہے کہ اُس کا دل و دماغ بے ضمیرہے یا باضمیربھلا میں یا آپ کسی کے دل و دماغ کفیت کو کیسے جج کرسکتے ہیں ہم تو صرف کشور خداداد میں موجودہ سیاسی تنائوکو دیکھ کریہ کہہ سکتے ہیں کہ حزب اقتدار کے وزیروں اور مشیروں اور حزب مخالف کے زعما کی جانب سیجس طرز کی زبان استعمال ہو رہی ہیوہ ہماری قوم کے نوجوانوں کیلئیکوئی مُثبت پیغام نہیں قوم کی ترقی کا راز اخلاقیات میں پوشیدہ ہیمگر حکمران اور دیگر زعما اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کا درس دے رہے ہیں یہ تو ایک دو روز میں پتہ چل ہی جائے گاکہ ٹحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا ناکام مگر اُس سے پہلے فریقین کو وضوکرکے اپنی اپنی زبانیں پاک کرلینی چاہییں اور رب کریم کی بارگاہ میں توبہ کرنی چاہیے کیونکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا نا کامی کے بعد جو طوفان بدتمیزی برپا ہو گا اُسیروکنا بھی ایک بہت بڑا چلنج ہوگااس میں کسی قسم کا ابہام نہیں کے وزیراعظم جناب عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے پیشتر عوام سے جو وعدے کئے تھیاُن میں سے کوئی ایک بھی وہ پورا نہ کرسکیبلکہ ایک کروڑ نوکریاں پچاس لاکھ گھروں کی تعبیر کیا ملنی تھی اُلٹا اُنسے لگا روزگار بھی چھین لیا گیا پھر مہنگائی کا جن ایسا بے لگام ہوا کہ حکومت اُسے قابو کرنے میں بُری طرح ناکام ہوئی دوسری جانب اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کرجناب عمران خان کا رویہ حزب اختلاف سیجارخانہ رہا وہ کسی بھی معاملہ میں اُن کو شجر ممنوعہ قرار دیتے آئے ہیں اُن سے مشاورت تو درکنار ہاتھ ملانا بھی پسند نہ کرتے تھے جس کا نتیجہ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آ گیا اس کے علاوہ تحریک انصاف کے اندر ہی ایک باغی گروپ نے جنم لے لیا اور اُن باغی اراکین نیمشیران حکومت کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کر سندھ ہائوس اسلام آباد میں پناہ لے لی مگرتحریک انصاف کے اراکین میں سے چند افراد نے سندھ ہائوس پر حملہ کر دیا۔تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا ناکام اس کا اندازہ لگانا مشکل معاملہ ہے کیونکہ دونوں فریق ہی نمبر پورے ہونے اوراپنی اپنی کامیابی کیلئے پُر اُمید نظر آتے ہیں آج تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ ہونا تھا مگر سپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر نے حالیہ دنوں میں وفات پانے والے اراکین اسمبلی کیلئے دعا مغفرت کرانے کے بعد28مارچ تک اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہیکہ ایسا فیصلہ ہو جو ملک و قوم کی امنگوں کا ترجمان ہو-