-,-بلاول بھٹو زرداری -ای آراشرف-,-


کشور خداداد پاکستان کی75سالہ تاریخ ایسے ایسے دلخراش واقعات سے لبریز ہے کہ عام آدمی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہمارے قومی زُعما اور جرنیل ایسے گھناونے کردار کے مرتکب ہو سکتے ہیں اس بارے میں پھر کبھی تفصیل بیان کرونگا ۔اس موقع پر جناب بلاول بھٹو زرداری اور اُس کے خاندان کے بارے میں چند معروضات پیش خدمت ہیں شہید بھٹو سے اس سیاسی کھیل کا آغاز20دسمبر1971 کو ہواجب جنرلوں نیسابق صدر یحیٰ خان کو زبردستی رخصت کرکے شہید بھٹو کوسویلین چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹراور صدربنا کروطن عزیزمزید تباہی سے بچانے کاچیلنج سونپا گیا جسے اُنہوں نے ملک وقوم کو متفقہ آئین اورجمہوریت دیکرترقی کی راہ پر گامزن کیا مگر 4 جولائی1977کوجنرل ضیاالحق نے شب خون مار کر آئین اور جمہوریت کا جنازہ نکال دیا تھا۔اب ایکبار پھر سب سے کم عمری میں وزارت خارجہ کیقلمدان سنبھالنے کا اعزاز پانے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے،شہید بے نظیر کے لخت جگر اور سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کے صاحبزادے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں اپنی ذمہ داریاں وطن عزیز کی خود مختاری،سلامتی اور آزادانہ خارجہ پالیسی پرعمل کرنے اور دنیا کیعظیم راہنما اور شہید جمہوریت والدہ مخترمہ کے مشن کو جاری وساری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیاور جسطرح شہید ذوالفقار علی بھٹو اور آپکی والدہ مرحومہ نے اپنی اہلیت اور انتھک محنت سے اقوام عالم میں بہترین سیاسی لیڈر ہونے کا اعزاز پایا تھا آپ بھی اس روایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔جناب بلاول بھٹو زرداری اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ اُنہیں یہ منصب حاصل کرنے کیلئے اپنی والدہ مخترمہ کی طرح اُن مصیبتوں اور مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن سے وہ دوچار ہوئیں وقت کے آمر جنرل ضیاالحق نے کونسی ایسی اذیت تھی جواُسنے شہید بی بی اور اُنکی والدہ مرحومہ نصرت بھٹو پراستعمال نہ کی تھی اُنکی مظلومیت اور بیکسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 4اپریل 1979کو راولپنڈی جیل میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی پھر رات کے اندھرے میں سخت پہرے میں اُنکا جسد خاکی گڑھی خدا بخش پہنچایا گیا اور چند اہل خانہ کو بند تابوت میں آخری دیدار کرایا گیا اور جنازے میں کسی بھی اہم شخصیت کو شریک ہونے کی اجازت نہ دی بلکہ شادی کے بعد جناب آصف علی زرداری بھی نہ کردہ گناہوں کا کفارہ ادا کرتے رہے مگر آمر اپنی تمام ترستم ظریفی کے باوجود اُنہیں شہید بی بی کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور نہ کر سکیاُنکی دلیری اورثابت قدمی کو دیکھ کر ہی مایہ ناز صحافی مرحوم مجید نظامی نے اُنہیں۔مرد حر۔کا خطاب دیا تھا مگرکچھ ایسے مخصوص اعزازات ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی جدو جہد اور اہمیت کو اُجاگر کردیتے ہیں اُن میں سے پاکستان کے دولخت ہونے کے سانحہ کے بعد فوری طور پر اسلامی کانفرنس کا انعقاد نوے ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی،ایٹمی پروگرام کا آغاز اور1973 کے آئین کا نفاذ شامل ہیں اور اس کیعلاوہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کا اعزاز بھی شہید مخترمہ بے نظیر بھٹو کے حصے میں آیا ۔شہید بی بی نے اپنے دور حکومت میں وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے میزائیل ٹکنالوجی کا انمول تحفہ دیا اوراپنی جان کا نذرانہ دیکر شہید جمہوریت کہلائیں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو اس منصب پر فائز ہوئے تو اسوقت اُنکی عمر 35 سال پانچ مہنیاور دس دن کی تھی شہید ذوالفقار علی بھٹو24 جنوری1963 کو مرحوم صدر ایوب خاں کی حکومت میں شامل ہوئے مگر وہ یہ منصب سنبھالنے سے پہلے کئی بڑے اور اہم امور سرانجام دے چکے تھییعنی یورے ساڑھیتین سال یعنی1963سے1966تک امورخارجہ امورکی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے اور جنرل یحیٰ کیساتھ بھی کچھ عرصہ کام کیامیدوا ثق ہیکہ جناب بلاول بہترین خارجہ پالیسی اپنا کر اپنے نانا اور والدہ کی یاد تازہ کرینگے –