۔،۔کشمیر میں عنقریب امن اورآزادی کاسویرا طلوع ہوگا: میاں اویس علی۔،۔
* افسوس وہاں کشت وخون پرعالمی ضمیر نے کیوں گہری خاموشی کی چادرتان لی ہے*

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ قصور کے صدر میاں اویس علی نے کہا ہے کہ جس طرح ہرتاریک رات کے بعد روشن صبح کاظہورہوتا ہے، اس طرح کشمیر میں بھی عنقریب امن اورآزادی کاسویرا طلوع ہوگااورہمارے کشمیری بھائی اپنے مستقبل کے فیصلے اوراپنے نمائندوں کاانتخاب خود کریں گے۔استعماری قوتوں کی گہری سازشوں کے باوجود ہراسلامی ریاست امن وآشتی اوراستحکام کاگہوارہ بنے گی۔ فلسطین اورکشمیر میں کشت وخون پرعالمی ضمیر نے کیوں گہری خاموشی کی چادرتان لی ہے۔مہذب دنیا کہاں ہے،انسانیت کی بقاء کیلئے انسانوں کو فلسطین اورکشمیر میں جاری قتل عام کیخلاف مزاحمت کرنا ہوگی۔وہ اہل کشمیراورفلسطین کے ساتھ اظہاریکجہتی کے سلسلہ میں ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ میاں اویس علی نے مزید کہا کہ فلسطین اورکشمیر میں معصوم بچوں اورنہتے شہریوں کوکس گناہ کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتاراجارہا ہے۔ کشمیر کے طویل محاصرے کے باوجود جولوگ زندہ ہیں انہیں ادویات اورخوراک سمیت بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دین فاؤنڈیشن اورڈاکٹر اے کیوخان ہسپتال ٹرسٹ سمیت جو ثروت مند لوگ صلہ رحمی اورفلاحی ادارے امدادی سرگرمیوں کیلئے کشمیر جاناچاہتے ہیں انہیں روکاجارہا ہے۔ حکومت پاکستان نہتے کشمیری اورفلسطینی مسلمانوں کی آزادی وآسودگی کیلئے اپنااثرورسوخ استعمال کرے۔انہوں نے کہا کہ ابھی روہنگیامسلمانوں کے کفن میلے نہیں ہوئے،ابھی نہتے بھارتی مسلمانوں کی شہادت کاغم تازہ ہے،مسلمانوں کی قوت برداشت کاامتحان کیوں لیا جارہا ہے۔ ایک طرف فلسطین اوردوسری طرف جموں وکشمیر سے مسلمانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں،یقینا مسلمانوں کی نسل کشی کاماسٹرمائنڈ کوئی انسان نہیں بلکہ شیطان ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنی صفوں میں اتحادپیداجبکہ اپنے درمیان میں سے مخلص ومدبر قیادت تلاش کریں۔ فلسطین اورکشمیرمیں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے مسلمان حکمرانوں کی ترجیحات پریقیناہنس رہے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جس پاکستان نے اپنے فلسطینی اورکشمیری مسلمان بھائی بہنوں کے زخموں پرمرہم رکھنا تھااورشہیدوں کے ورثاکی اشک شوئی کرناتھی وہ اپنے داخلی مسائل میں الجھا ہوا ہے۔