۔،۔بھارت کے ساتھ تجارت قومی حمیت سے متصادم ہے: شوکت ورک۔،۔
٭قومی ضمیر کواعتماد میں نہیں لیا گیا، عجلت میں کیا گیا فیصلہ مسترد کرتے ہیں ٭

دِین فاؤنڈیشن کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر شوکت ورک نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت قومی حمیت سے متصادم ہے۔ قومی ضمیر کواعتماد میں نہیں لیا گیا، عجلت میں کیا گیا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔جموں وکشمیر سے بھارتی فوج کی بیدخلی تک مودی سرکار کے ساتھ تجارتی تعلقات سے گریزکیاجائے۔ کشمیری کئی دہائیوں سے شیطانیت کے شکنجے میں ہیں،ظلم کی انتہاکردی گئی۔مقتدرقوتوں نے اسلام اوراہل اسلام کوتختہ مشق بنالیا،مسلم حکمران ہوش کریں اورآپس میں سرجوڑیں۔ بھارتی مسلمانوں،کشمیریوں اورفلسطینیوں پرشب خون مارنیوالے درحقیقت انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیررہے ہیں،اس بربریت میں ملوث ملکوں پراقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کااطلاق کیوں نہیں ہوتا۔اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر شوکت ورک نے مزید کہا کہ کشمیراورفلسطین میں شیرخواربچے تک دودھ کی بجائے جام شہادت نوش کررہے ہیں۔بڑی تعداد میں شہادتوں کے سبب شہیدوں کواجتماعی قبورمیں سپردخاک کیاجارہا ہے۔شام میں گھرگھر صف ماتم بچھی ہے مگر مقتدرقوتیں خاموش ہیں۔ متعدد ملکوں میں معتوب مسلمان پائیدارامن اورسحر کے منتظر ہیں۔جانوروں کے حقوق کیلئے آسمان سرپراٹھانے والے نام نہاد مغرب کی طرف سے بھی ظلم وستم کے شعلے بجھانے کی کوشش نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت،فلسطین اورجموں وکشمیر کے بیگناہ مسلمانوں کوکس گناہ کی پاداش میں شہیدکیا جارہا ہے۔ انسانیت کے بغیر انسانوں کاکوئی مستقبل نہیں،انسان وہ ہے جودوسرے انسان کادردمحسوس اوراس کیلئے آسانیاں پیداکرے۔ نہتے کشمیری اورفلسطینی ایک طرف بارود سے چھلنی ہوکر اوردوسری طرف بھوک سے ایڑیاں رگڑرگڑکرمررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں رفاعی اداروں کوفلاحی وامدادی سرگرمیوں کی بھی اجازت نہیں ہے۔ بھارت میں کروڑوں مسلمان محصور اوربنیادی حقوق سے محروم ہیں جبکہ بیسیوں مساجدشہید کردی گئیں مگر اقوام متحدہ نے ابھی تک ایکشن نہیں لیا۔