۔،۔ بھارت سے تجارت کشمیریوں کے زخموں پرنمک چھڑکنا ہے: اشرف عاصمی۔،۔
٭چندماہ کی مہمان حکومت کے پاس بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کامینڈیٹ نہیں ٭

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی سینئر نائب صدر میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بھارت سے تجارت کرناکشمیریوں کے زخموں پرنمک چھڑکنا ہے۔ چندماہ کی مہمان حکومت کے پاس بھارت کے ساتھ تجارت بحال جبکہ انتخابی اصلاحات کرنے کامینڈیٹ نہیں، محب وطن پاکستانیوں نے شہبازشریف کامتنازعہ فیصلہ مسترد کردیا۔ صنعت وتجارت سے وابستہ حکمرانوں سے کچھ بعید نہیں، یقینا بھارت کے ساتھ تجارت کی آڑ میں حکمران خاندان کے نجی کاروبار کوفروغ ملے گا۔شریف خاندان نے ماضی میں بھی بھارت کے اندر جندال سمیت دوسرے بھارتی صنعتکاروں کے ساتھ اپنے کاروباری مراسم استوار کئے۔اپنے ایک بیان میں میاں محمداشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ بھارت کے انتہاپسند حکمران اپنی زمین مسلمانوں اورکشمیریوں کے خون سے سیراب کرتے ہیں لہٰذاء وہاں کاشت ہونیوالے پیاز اورٹماٹر مفت میں بھی قابل قبول نہیں۔قومی حمیت کی قیمت پربھارت کے ساتھ تجارت کشمیریوں کے ساتھ منافقت شمار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پڑوس میں بھارت کاوجود ہماری بدقسمتی ہے،ہمسایہ بدلنا ہمارے بس میں نہیں لیکن اس کے ساتھ تجارت کرنا نہ کرناہمارے اختیار میں ہے۔ شریف خاندان کابھارت کی طرف جھکاؤناقابل برداشت ہے،بھارتی میڈیاکاطعنہ “پاکستان کوبھارت کے آگے جھکنا پڑا”پاکستانیوں کے قلوب زخمی کرگیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی معیشت کی مضبوطی کیلئے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے،بھارت کے ساتھ تجارت ناگزیر نہیں۔شریف خاندان کوبھارت کے معاملے میں اپنی مجرمانہ ، منافقانہ اورغلامانہ روش بدلنا ہوگی۔