۔،۔علم حدیث کا ماہتاب۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔
حافظ حدیث امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ
(چودہ شوال،یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر)

حدیث یا سنت سے مراد نبی آخرالزماں ﷺ کا قول،فعل اور سکوت ہے۔سکوت محسن انسانیت ﷺ کی اس خاموشی کو کہتے جوانہوں نے کسی عمل کو دیکھ کر اختیار کی اور اس سے منع نہیں فرمایا۔کتاب اللہ تعالی یعنی قرآن مجید کی کتابت تو آپ ﷺ نے خود اپنی نگرانی میں مکمل کرا لی تھی لیکن احادیث نبویہ ﷺکی جمع و تدوین کاکام بعدمیں آنے والے بزرگوں نے کیا۔انہوں نے حدیث کو لکھنے سے پہلے وہ حدیث جس جس نے بیان کی اور جس جس نے سنی انکے نام بھی درج کیے،ایسے افرادکو ”راوی“کہاجاتاہے،اس مجموعہ یاسلسلہ راویان کو فن اصول حدیث کی اصطلاح میں ”سند“کہتے ہیں اورآپ ﷺ کے قول فعل یاسکوت کو ”متن“کہاجاتاہے۔یہ ایسی شاندار علمی کاوش ہے جو کسی اورمذہب و ملت کے ہاں نہیں۔ایک ہستی مبارکہ ﷺکیاحادیث جمع کرتے ہوئے کم و بیش ساڑھے پانچ لاکھ افرا د” راویان حدیث نبوی ﷺ“کے حالات زندگی کتابوں میں محفوظ کر دیے گئے جوکہ اب کمپیوٹر کی ڈیٹابیس میں بھی سما دیے گئے ہیں،کسی راوی کانام درج کریں اورساری معلومات آپ کے سامنے موجود۔اس میدان کو ”اسماء الرجال“کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں راویان حدیث کے جملہ احوال محفوظ ہیں۔احادیث کی جمع و تدوین کاکام اگرچہ دورنبوت میں شروع ہو چکا تھااور کچھ اصحاب رسول ﷺ آپ ﷺ کی موجودگی میں ارشادات عالیہ سپرد قلم کرتے رہتے تھے لیکن تیسری صدی ہجری میں یہ علم ایک فن بن کر آسمان علم پر سورج کی طرح ابھرا اور آج تک آسمان روایت پر اس شان سے جلوہ افروز ہے کہ صدیاں گزر گئیں لیکن گہن اسکے قریب بھی نہیں پھٹکا۔عظیم الشان محدثین نے ایک ایک روایت کے حصول کے لیے میلوں پیدل سفر کیا اسکوجانچا،پرکھا اور ٹھوک بجا کر دیکھا اور قابل اعتماد ہونے پر اپنے نسخوں میں درج کیا۔امت مسلمہ پر انکا اتنا بڑا احسان ہے کہ تاقیامت انکا فیض جاری و ساری رہے گا۔محدثین نے بے شمار کتب حدیث مدون کیں لیکن ان میں سے چھ کو اہل سنت کے ہاں بہت مقبولیت حاصل ہوئی جنہیں ”صحاح ستہ“کہا جاتا ہے اور چار کو اہل تشیع کے ہاں بلندوبالا مقام ملا جنہیں ”کتب اربعہ“یا اصول اربعہ“بھی کہا جاتا ہے۔امام ابوداؤدؒکا نام امت مسلمہ کے ہاں ایک بہت ہی مستند محدث کی حیثیت سے مشہور ہے۔انہوں نے محسن انسانیت ﷺ کی حدیثوں کو جمع کیا اور اپنی کتاب ”سنن ابی داؤد شریف“میں مرتب کیا۔ آپ کا مکمل نام ابوداؤد سلیمان بن اشعث بن اسحاق اسدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تھا۔202ھ میں سجستان میں پیدا ہوئے۔یہ علاقہ سندھ اور ہرات کے درمیان واقع تھا اورایک زمانے میں بہت شہرت رکھتا تھا تاریخ کی پرانی کتب میں اس کا بکثرت ذکر ملتا ہے۔اس زمانے میں تحصیل علم کے لیے سفر کرنا ضروری خیال کیا جاتا تھا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ قابلیت کو اسی پیمانے سے ناپا اور تولا جاتا تھا کہ کہاں کہاں کا سفر کیا گیا ہے تو عبث نہ ہو گا۔آپ نے حصول علم کے لیے مصر،شام،حجاز،خراسان اور عراق وغیرہ کی طرف طویل اور دوردراز علاقوں میں سفر کیے،کبھی پیدل اور کبھی کبھی سوار ہو کر۔آپ کی شہرت آپ کی زندگی میں ہی چہار دانگ عالم پہنچ چکی تھی لوگ آپ کو امام حدیث کی حیثیت سے جانتے تھے اور آپ کے درس میں جوق در جوق شریک ہوتے۔شاہی خاندان کے اکثر افراد بھی آپ سے کسب فیض کرتے لیکن انہیں عوام الناس کی طرح اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتاتھا۔آپ جس شہر میں جاتے لوگوں کا جم غفیر شہر سے بہت باہر آپ کے استقبال کے لیے موجود ہوتا تھا۔ لیکن آپ کی طبیعت انتہائی سادگی اور بے تکلفی سے عبارت تھی۔آپ اپنی قمیص کی ایک آستین کھلی رکھتے تھے تاکہ اس میں کچھ کاغذات سما سکیں اور دوسری آستین تنگ رکھتے تھے کہ اسراف کا عمل اللہ تعالی کو پسند نہیں۔آپ کی طبیعت میں زہد و عبادت بھی بہت غالب تھے اس لیے آپ کو عالم باعمل کہنا غلط نہ ہو گا۔آپ نے وقت کے بہت مشہور علماء سے علم حاصل کیا امام بخاری ؒ،امام احمد بن حنبل ؒاور امام مسلم ؒ کے علاوہ ابوالولید طیاسی،محمد بن کثیر العبدی،مسلم بن ابراہیم،احمد بن یونس اور سلیمان بن حرب جیسے بزرگوں کانام بھی آپ کے اساتذہ میں شامل ہے۔امام ترمذی اور امام نسائی جیسی نابغہ روزگار ہستیاں آپ کے شاگردوں میں سے ہیں ان کے علاوہ آپ سے سماع حدیث کرنے والوں کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ جس کو سپرد قلم کرنے کے لیے ایک دفتر درکارہے۔آپ کی تصنیفات و تالیفات بھی ایک طویل فہرست کے متقاضی ہیں۔”کتاب السنن“ آپ کی شہرت کی اصل وجہ ہے جسے امت مسلمہ ”سنن ابی داؤد“کے نام سے جانتی ہے۔آپ نے اس کتاب”سنن ابی داؤد“ میں ایسی احادیث نبوی ﷺ کو جمع کیا ہے جو احکامات سے تعلق رکھتی ہیں۔شاید اسی لیے یہ کتاب فقہا کے ہاں بھی بہت مقبول ہے۔کتاب کی تکمیل کے بعد آپ نے اسکے مسودے کو امام احمد بن حنبلؒ کی خدمت میں پیش کیا انہوں نے اسے بے حد پسند کیا اور اسکے مندرجات کو سراہا۔یہ کتاب احکامات اسلامیہ کا ماخذ مانی گئی ہے اور علما کی ایک کثیر تعداد اس بات پر متفق ہے کہ قرآن و سنت کے احکامات کی تفہیم کے لیے”سنن ابی داؤد“ کافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحاح ستہ میں اس کتاب کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔اس کتاب سے قبل محدثین کے ہاں صرف جوامع اور مسانید لکھنے کا رواج تھا۔”جوامع“جامع کی جمع ہے اس سے مراد وہ کتب احادیث نبویﷺہیں جن میں ہر طرح کی احادیث نبویﷺ ہوتی ہیں اور ”مسانید“ مسند کی جمع ہے اس سے مراد وہ کتب احادیث نبویﷺہیں جن میں کسی صحابی کی بیان کردہ تمام روایات اس کے نام کے ذیل میں جمع کر دی گئی ہوں یاایک سے زائد صحابہ کرام کی روایات حروف ابجدکے اعتبارسے درج ہوں۔ ”سنن ابی داؤد“اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔”سنن“سے مراد وہ کتب حدیث نبویﷺہیں جن میں فقہی ترتیب سے احادیث نبویﷺ درج کر دی گئی ہوں یعنی اس کاآغاز کتاب الطہارۃ سے ہو۔امام ابوداؤدؒنے اس اسلوب کا آغاز کیا جسے امت مسلمہ میں بہت پسند کیا گیا اور اس کتاب کے بعد بہت سے محدثین نے اس اسلوب پر قلم اٹھایا۔”سنن ابی داؤد“میں احکام سے متعلق احادیث نبویﷺ موجود ہیں۔اس کتاب میں امام ابوداؤدؒنے صحیح ترین احادیث نبویﷺ کا ذکر کیا ہے اور اگر ایک حدیث کئی طرق سے روایت کی گئی ہو یعنی اس کی بہت سی اسنادہوں تو اسکو سند عالی سے درج کرتے ہیں اور ساتھ میں دیگر اسناد کا ذکر بھی کر دیتے ہیں۔”اسناد“ سند کی جمع ہے جس سے مراد حدیث بیان کرنے والے بزرگ ہیں جنہوں نے ایک سے سن کر دوسرے کو بتایا۔جیسے نبیﷺ سے صحابی نے سنا،صحابی سے تابعی نے،تابعی سے تبع تابعی نے،تبع تابعی سے فقیہ نے اور فقیہ سے محدث نے سنا اور لکھ لیا اس لیے کہ حدیث بیان کرنے والے راوی کہلاتے ہیں اور اسے لکھ لینے والے محدث۔امام ابو داؤدؒ نے اس کتاب میں لمبے واقعات والی احادیث کو اختصار سے بھی بیان کیا ہے۔ روایت کی سند میں اگر کسی طرح کا سقم موجود ہو تو اسکا بھی ذکر کرتے ہیں تاہم ایسے راویان جن کی شہرت محدثین کے ہاں کچھ اچھی نہیں ہے انکی روایات قبول نہیں کرتے۔اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ حدیث نبوی ﷺ کے راویوں کی نام،انکی کنیتیں اور اگر انکے القابات ہوں تو ان کا ذکر بھی موجود ہے۔امام ابو داؤدؒ نے ’متصل السند“ احادیث ہی داخل کتاب کی ہیں۔”متصل السند“ احادیث سے مراد وہ روایات ہیں جن کا سلسلہ سندمحسن انسانیتﷺ تک جا پہنچتا ہے اور درمیان میں سب راویوں کی باہمی ملاقات ثابت ہوتی ہے یا انہوں نے ایک دوسرے کا زمانہ پایا ہوتا ہے۔”سنن ابی داؤد“میں چار ہزار آٹھ سو روایات درج کی گئی ہیں۔اس کتاب کی پزیرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسکی کئی شروحات لکھی گئی ہیں۔شروحات سے مراد تشریح ہے جیسے قرآن کی ”تفسیر“ ہوتی ہے اسی طرح حدیث نبویﷺ کی ”شرح“ہوتی ہے اور کسی کتاب حدیث نبویﷺ کی شروحات کا لکھا جانا گویااسکی اہمیت اجاگرہونا ہے۔اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئیں لیکن ”معالم سنن“از ابو سلیمان احمد خطابی،”شرح سنن ابو داؤد“ از قطب الدین ابوبکر،”شرح سنن ابو داؤد“از ملا علاؤالدین،”بذل المجہود“از مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور ”شرح الزوائد علی صحیحین“ازعلامہ سراج الدین عمرعلماء میں بہت مقبول ہیں اور کتاب کے اکثر نسخوں کے حاشیے پر مذکورہ شروحات میں سے کوئی درج ہوتی ہے جس سے طلبہ و طالبات استفادہ کرتے ہیں اور انہیں مسائل سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔حافظ ذکی الدین نے ”مختصر سنن ابی داؤد“ اور ابن قیم الجوزی جیسی نابغہ روزگار شخصیت نے”تہذیب السنن“کے نام سے اس کتاب کی مختصرات بھی تحریر کی ہیں اور فی زمانہ سنن ابی داؤد کے کئی اردو اور انگریز ی تراجم بھی موجود ہیں۔ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کے مرحوم سکالر ڈاکٹر احمد حسن ؒجنہیں دور حاضر کا ابوحنیفہ کہا جاتا تھاانہوں نے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ کیا جو تین جلدوں میں پہلی بار1984ء میں لاہور سے شائع ہوااور اب تک اس کے کئی ایڈیشن آ چکے ہیں۔امام ابوداؤدؒ،آسمان حدیث کا یہ ماہتاب 14شوال275ھجری کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔حضرت امام ابو داؤد کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔آپ اپنی طبعی موت اگرچہ مر چکے لیکن آپ کی کتاب ”سنن ابی داؤد“قیامت تک آپ کو زندہ رکھے گی اور آنے والی نسلیں اس چشمہ فیض سے سیراب ہوتی رہیں گی انشاء اللہ تعالی العزیز۔