۔،۔۔دعاؤں کی چھتری۔:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


میں عید کے بعد ہجر و فراق کی اداس چادر میں لپٹا شہر خموشا ں میں داخل ہوا آسمان سر مئی بادلوں سے سرمہ رنگ ہو رہا تھا قبرستان میں داخل ہو تے ہی شاید زخم کا منہ پھر سے کھل گیا تھا غم اداسی کی ٹیسیں تھمنے میں نہیں آرہی تھیں میری کیفیت اِس شعر کی مانند ہو رہی تھی۔
شور سا برپا ہے خانہ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
آج عید کا دن تھا لیکن میری اندر غم کی جھڑی سی لگی ہوئی تھی قبرستان میں داخل ہو اتو حد نگاہ تک پھیلے جھاڑ جھنکار کے درمیان بے ڈھنگی بے ترتیب اونچی نیچی کچی قبریں دور تک پھیلی ہوئی تھیں میری طرح اور لوگ بھی اپنے گم گشتگان کو تلاش کر تے نظر آئے۔لوگ گاؤں کے قبرستان میں ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں کو پھلانگتے اپنے پیاروں کی تلاش میں نظر آرہے تھے ایک ماہ پہلے میری جنت میری ماں مجھے یتیم کر گئی تھی وقت بہت بڑا مرہم ہے جو گہرے زخموں کو بھی دنوں میں بھر دیتا ہے بھرپور زندگی کے شب و روز نئے مسائل نئے تقاضے ہنگامہ خیز زندگی کہ انسان مُڑ کر پیچھے دیکھنا بھی چاہے تو فرصت نہیں ملتی لیکن ماں کی جدائی جیسا زخم‘ غم ہجر۔ شاید ہی کوئی دن یا لمحہ ایسا گزرا ہو جب مجھے ماں کی یاد نہ آئی ہو ایک بے نام سا احساس میرا احاطہ کئے رکھتا ہے میں مختلف بہانوں سے خود کو مصروف کرنے کی بہت کو شش کر تا رہا لیکن اداسی مسلسل مجھے اپنی گرفت میں لئے رکھا میں اُس جنت گمشدہ کی طرف بڑھ رہا تھا جس کے ایک ایک مسام میں میری محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی عید کے دن میری ماں کو شدت سے انتظار ہو تا تھا کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ ایک دن پہلے ہی اُن تک پہنچ جاؤں ذرہ دیر ہو جاتی تو وہ بے کل ہو کر بھائی صاحب سے فون کراتیں کہ میں لاہور سے نکلا ہوں کہ نہیں یہ پہلی عید تھی جب ماں کا فون نہ بھائی کا فون آیا کیونکہ دونوں مٹی کی چادریں پہنے سو گئے تھے قبروں کے درمیان سے ہوتا ہوا میں دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی جنت ماں کی قبر تک آگیا قبر پر آکر انکھیں ہجر کے آنسوؤں سے دھندلی ہو رہی تھی میں معصوم بچے کی طرح ماں کی قبر کا طواف کر رہا تھا کبھی سرہانے کبھی دائیں کبھی بائیں گھوم رہا تھا میں اُس معصوم بچے کی طرح تھا جس کی جنت اُس سے بچھڑ گئی ہو اور اُس کا ننھا معصوم دماغ شل فالجی کیفیت کا شکار ہو کہ وہ کیا کرے میں اضطراری حالت میں ماں کی قبر کا طواف کر تے کرتے آخرپائنی کی طرف اِس نیت سے آگیا کہ ماں کے قدموں میں جنت ہے میں آنکھوں میں تیرتے آنسوؤں کی دھندلی چلمن سے قبر کو دیکھ رہا تھا جس کے نیچے میری ماں کا جسم مبارک آسودہ خاک تھا میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے لیکن زبان فالج کا شکار اور الفاظ ہوا میں تحلیل ہو کر رہ گئے بار بار ہونٹوں کو حرکت دینے کی کو شش کر رہا تھا لیکن میں بے بسی کا مجسمہ بنا کھڑا تھا پھر جسم بے جان سا ہو نے لگا تو میں پائنی کی طرف بیٹھ گیا قبر پر ہاتھ رکھا تو ایک گونج سی میرے اندر گونجنے لگی۔
آسمان تیری لحد پر شبنم آفشانی کرے
سبزہ نور ُستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
پچھلے ایک ماہ سے ہجر و فراق کا سمندر جس میں دن رات میں غوطے لگا رہا تھا وہ کروٹیں لے کر میرے رخساروں کو بھگونے لگا میں نے ماں کے قدموں پر ہاتھ رکھا تو میری اداس روح کے عمیق ترین گوشوں میں آسودگی کے چلمن کھلنے لگے۔ محبتوں شفقتوں اور دعاؤں کا یہ عظیم باب فضیلت بند ہو گیا تھا لیکن ماں کی یادوں کے شگوفے باطن کے کرب کو کم کرنے لگے مجھے پتہ تھا میری ماں اب کبھی اِس جہان رنگ و بو میں نہیں آئیں گی لیکن ماں کی یادیں باتیں ساری زندگی میری اداس روح کو مہکا تی رہیں گی زندگی اور موت کا کھیل ازل سے ابد تک جاری رہے گا لیکن جانے والوں کی کسک ساری عمر متاثرین کو تڑپاتی رہے گی ماں کے جانے پر مجھے بھی لگا جیسے نبض کائنات تھم سی گئی ہے سانسیں رک گئیں ہیں سینے میں ایک تیز دھار خنجر دور تک اُتر گیا ہے کتنی دیر میں بے جان ساکت بت کی طرح بے حس و حرکت بیٹھا رہا مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میری سر پر سایہ فگن دعاؤں کی چھتری اب اُتر گئی ہے بار بار ایک ہی خیال بخت آ وری کا نورانی دریچہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے میری آنکھوں سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے اور میں خاموش ساکت بیٹھا تھا پھر کتنے صحراؤں کو پھلانگتے ہو ئے میں گاؤں پہنچا یہ میں ہی جانتا ہوں اور آج کتنی اداسی ہے ماں کی قبر پر پھر دل میں خیال سا آیا میں نے اپنے دونوں ہاتھ ماں کی قبر پر رکھے آسمان کی طرف دیکھا اور آہ نگلی اے میری رب میری ماں کی قبر کو اُس نور سے بھر دے وہ مقام عطا کر جو تو اپنے بند گان خاص کو عطا کر تا ہے اِس میں کوئی شک نہیں ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے حق تعالیٰ کے اِس متعین ضابطے سے کسی کو استثنی نہیں ہے لیکن میری ماں تو ان لوگوں میں شامل تھی جو دھرتی پر بوجھ نہیں تھی ساری زندگی قرآن مجید سے عشق اور تلاوت کی جب سے ہو ش سنبھالا کوئی نماز قضا نہ کی بیماری کے آخری ایام اور یادداشت کی کمی کی وجہ سے بار بار جائے نماز پر نماز کے لیے کھڑی ہو جاتیں کیونکہ ساری زندگی نماز کی عادت جو پڑی تھی لیکن موٹ ایک اٹل حقیقت ہے ہر ذی روح کو آخر یہاں آکر واپس جانا ہے یہ ایسا آئین فطرت ہے کہ اِس میں ترمیم کی جرات کسی کو نہیں ہے بوریا نشین سے شاہاں تخت نشین تک کوئی نہیں جو دست اجل سے بچا ہو آج تک اِس بزم جہاں میں کوئی بھی ایسا نہیں آیا جسے دستک دینے والے فرشتے نے متعین وقت سے زیادہ ایک بھی لمحے کی مہلت دی ہو جب سے میری جنت ماں بھرا میلہ چھوڑ کر اتنی دور چلی گئی ہے کہ آواز بھی دیں تو نہیں دے سکتے جب سے گئی ہیں میری پیٹھ ننگی خالی ہو گئی ہے گاؤں کا خیا ل ان کا گھر کمرہ سونا آنگن ہر چیز اداسی میں لپیٹ گئی ہیں ان کی جدائی کا احساس انگارے کی طرح دل پر دھرا ہے ہررات سونے سے پہلے آئیں بھر کر کروٹیں لے کر سونے کی کو شش کر تا ہوں میرے اندر ہجر کی سلگنے والی آگ ٹھنڈی نہیں ہو رہی تھی خانہ دل میں شور سا مچا ہوا تھا جیسے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کوئی دیوار سی گر رہی ہو یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے جس نے آنا ہی آنا ہے کیونکہ رب کائنات کا فرمان ہے کہ ہر شخص نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اِس عقیدے سے انحراف کسی مسلمان کو بھی زیب نہیں دیتا لیکن ماں کا وہ رشتہ ہے کہ ہر بچہ یہ سمجھتا ہے کہ خزاں کے ہاتھ اِس پھول تک کبھی نہیں پہنچے گے ماں سدا بہار پھول کی طرح ہمیشہ تر و تازہ مہکتی رہیں گی لیکن پھر موت آجاتی ہے کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آسان ہے موت گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت زلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلا م ہیں کیسی کیس دختران مادر ایام ہیں کلبہ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موت‘ دشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موت۔ آج سے تیس سال پہلے جب نوکری کے لیے میں نے گاؤں چھوڑا تو محنت مشقت اور تگ و دو ایک دشت بے اماں تھا میری زادہ راہ میں صرف ایک پوٹلی تھی جس میں میری ماں کی دعائیں تھیں اور بڑا آدمی بننے کا خواب ماں کی دعاؤں کی چھتری زندگی کے طویل سفر میں میرے سر پر ہر وقت موجود تھی میری زندگی کی کامیا بیاں ماں کی دعائیں تھیں جو کھاد کا کام کرکے میری زندگی کے گلشن کو مسلسل شاداب بنائے جار ہی تھی میں زندگی کی دوڑ میں اِس اعتماد کے ساتھ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا رہا کہ میرے دائیں بائیں دعاؤں کی فوج تھی جو ہر وقت ہر مشکل سے مجھے نکالتی تھیں جب سے ماں جی گئی ہیں لگتا ہے کمر ننگی ہو گئی دعاؤں کی چھتری کھو گئی ہے دعاؤں اور نور اکا حصار تھا جو ختم ہو گیا آج عید کے دن میں ماں کی قبر پر پائنی کی طرف بیٹھا ان کے پاؤں پکڑے بیٹھا تھا اِس غم سے جان نکل رہی تھی کہ کانوں میں سر گوشی سی ہوئی دریا سوکھ بھی جائے تو ریت میں نمی باقی رہتی ہے ماں کی دعائیں آج بھی تمہارے ساتھ ہیں امام حسین علیہ السلام کا قول یاد آیا اور میں نے ماں کے پاؤں پکڑ لیے جس نے اپنی ماں کا پیر چوما گو یا اُس نے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔