۔،۔ میں اسلامیت،انسانیت اورپاکستانیت کاعلمبردار ہوں: شوکت ورک۔،۔
٭ فلاحی ہسپتال کی تعمیر اور”دین دسترخوان” کاآغاز میرادیرینہ خواب تھا٭

دین فاؤنڈیشن کے مرکزی چیئرمین اورڈاکٹر اے کیوخان ہسپتال ٹرسٹ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شوکت ورک نے کہا ہے کہ میں اسلامیت،انسانیت اورپاکستانیت کاعلمبردار جبکہ اپنی ماں جیسی ریاست اورریاستی اداروں کاحامی وخیرخواہ ہوں۔افواج پاکستان ہمارامان اورسرمایہ افتخار ہیں،ہر نوجوان پاکستان اورافواج پاکستان پرجان چھڑکتا ہے۔میرے مرحوم والد محمد دین تحریک پاکستان کے سرگرم رہنماء اورمسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار تھے۔میرے بڑے بھائی میجر(ر) محمدطارق صاحب کئی دہائیوں تک مادروطن کے دفاع کیلئے سربکف رہے ہیں۔اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر شوکت ورک نے مزید کہا کہ قیام پاکستان کیلئے اپنے والد محمددین مرحوم اورانسانیت کیلئے عبدالستار ایدھی مرحوم کی گرانقدر خدمات کودیکھتے ہوئے میرے اندرسیاسی وسماجی سرگرمیوں کا صادق جذبہ پیداہوا۔ انسانیت کی اخلاص سے بھرپور اورانتھک خدمت کی نیت سے لاہورمیں ایک فلاحی ہسپتال کی تعمیر اور”دین دسترخوان” کاآغاز میرادیرینہ خواب تھا جس کوشرمندہ تعبیر کرنے کیلئے میں نے اپنے رفقاء کی ایک ٹیم بنائی اورڈاکٹر اے کیوخان ہسپتال ٹرسٹ سمیت دین دسترخوان کی صورت میں اپنے دوبڑے خواب شرمندہ تعبیر کئے۔انہوں نے کہا کہ 1987ء سے راوی پارک میں سابقہ مشیر وزیراعلیٰ پنجاب قیصر امین بٹ کا بزم احباب ہسپتال کامیابی سے انسانیت کی خدمت کررہا تھا۔ انہوں نے میرا پلان سنا تو متاثر ہوکر بزم احباب ہسپتال ہمارے سپردکردیا۔ہم نے اس ہسپتال کواپ گریڈکرنے کاپختہ ارادہ کرتے ہوئے باضابطہ فنڈریزنگ شروع کردی اوراس کارخیرکاآغاز اپنے حلقہ احباب سے کیا جس کاہماری توقعات سے زیادہ اچھا رسپانس آیا۔انہوں نے کہا کہ بزم احباب ویلفیئر سوسائٹی کے صدر الحاج قیصر امین بٹ نے نہ صرف اراضی اور سازوسامان سمیت چلتا ہوابزم احباب ہسپتال ہمارے سپردکیا بلکہ ہمارے صادق جذبوں،پختہ ارادوں اورتوانائیوں کو دیکھتے ہوئے اپنی جیب سے ایک کروڑ روپے کا عطیہ بھی دیا۔بزم احباب ہسپتال کواپ گریڈ کرنے کیلئے تعمیراتی کام اورہماری فنڈریزنگ مہم کامیابی سے جاری تھی کہ اس دوران اللہ رب العزت نے ڈاکٹر عبدالقدیرخان کواس کارخیر میں شامل کرنے کاخیال میرے دل میں ڈال دیا،ان سے میرے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات تھے۔انہیں محسن پاکستان کالقب بھی میں نے دیا تھااوراپنی تحریروں میں ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے نام کے ساتھ بار بار”محسن پاکستان “لکھا جس کے نتیجہ میں یہ لقب ا ن کے نام،کام اوران کی شخصیت کاحصہ بن گیا۔