۔،۔توہین مسجد نبوی اور عدالتی فیصلہ۔غلام رضا۔،۔
وزیراعظم شہباز شریف، کابینہ ارکان اور حکومتی اتحادیوں کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں پیش آنے والا واقعہ سب کو یاد ہے، جس طرح مسجد نبوی کی بے حرمتی کی گئی،نعرے لگائے گئے، گالیاں نکالیں گئیں اس کی ہر طرف سے مذمت کی گئی، یہاں تک کہ سعودی حکومت نے بھی کہا کہ ہم واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف اپنے قوانین کے تحت کارروائی کرینگے۔ جبکہ تحریک انصاف والوں نے مسجد نبوی میں لگنے والے نعروں پر نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ یہاں تک کہا کہ مسجد نبوی میں جو کچھ ہوا ٹھیک ہو ا۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس جناب اطہر من اللہ نے مسجد نبوی میں غنڈہ گردی کرنے والے افراد کیخلاف مقدمات درج نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ معذرت کیساتھ یہاں یہ کہنا چاہونگا اور معذرت اس لئے کہ میرے لکھے ہوئے الفاظ کہیں توہین عدالت کے زمرے میں نہ آجائیں ویسے توہین مسجد نبوی کرنے والوں کو ہماری عدالتیں کوئی سزا نہیں دیتیں مگر توہین عدالت ہونے پر سخت سے سخت سزادے دی جاتی ہے، خیر بات کسی اور طرف چلی جائیگی تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ عدالتی فیصلے سے کروڑوں، اربوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور عدالتی فیصلے سے ایسا لگتا ہے جیسے مسجد نبوی کی توہین ہوئی ہی نہیں ہے یا پھر مسجد نبوی میں جو مرضی غنڈا گردی کرتے رہو آپ کو کوئی سزا نہیں دی جائیگی۔ میرا کامل ایمان اور یقین ہے کہ مسجد نبوی کی توہین کرنے والوں کو اس جہاں اور اگلے جہاں میں ضرور سزا ملے گی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو نہ جانے کیوں ایسا لگا کہ مسجد نبوی کی توہین ہوئی ہی نہیں ہے، حالانکہ سورۃ الحجرات میں واضح فرما دیا گیا ہے کہ ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبی? کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبی? کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ دوسری جانب پاکستان کے آئین اور قانون کی ہی بات کر لی جائے تو آرٹیکل 295سی کے تحت توہین مذہب پر کوئی بھی شہری کہیں بھی مقدمہ درج کروا سکتا ہے اور پولیس تفتیش کر کے دیکھ سکتی ہے کہ آیا الزام درست ہے یا غلط مگر عدالت نے پولیس کو پہلے ہی روک دیا کہ کسی کیخلاف مقدمہ ہی درج نہ کیا جائے، کیونکہ یہ مذہبی کارڈ ہے۔ اگر عدالتیں ایسے معاملات پر سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائیں گی تو شہری مجبوراً قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر، سابق وفاقی وزیر شہباز گل سمیت درجنوں کیسز ہمارے سامنے ہی ہیں، اسی لئے عدالتوں کو چاہئے ایسے کیسز میں ایسے فیصلے سنائے جائیں جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جناب اطہر من اللہ سے انتہائی معذرت کے ساتھ یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آیا آپ نے دوران سماعت یہ تک کیوں نہ پوچھا کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کیسے یہ دعویٰ کر لیا تھا کہ مسجد نبوی میں یہ واقعہ پیش آنے والا ہے، کیوں حکومتی وفد کے سعودی عرب روانگی کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنما?ں نے میٹنگز کیں اور حکمت عملی بنائی کہ کب،کس نے کیا کرنا ہے، جس کی فوٹیجز بھی موجود ہیں۔ جناب اطہر من اللہ صاحب جب عدالت کیخلاف کوئی بات کرے تو آپ فوراً توہین عدالت کے تحت کارروائی شروع کر دیتے ہیں مگر کائنات کی سب سے بڑی، معتبر ہستی جن کیلئے اللہ تعالیٰ نے دنیا بنائی ان کی توہین پر پولیس کو کارروائی سے روکنا سمجھ سے بالاتر ہے، خدارا لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور نہ کریں، ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔ ماضی قریب کی ہی بات کر لی جائے تو تحریک انصاف کھل کر مذہب کارڈ کھیلتی رہی ہے، سابق وزیراعظم اور ملک کے معتبر ترین سیاستدان نواز شریف پر لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک تقریب کے دوران جب وہ وزیراعظم تھے جوتا پھینکا گیا، اسی طرح مسلم لیگ ن کے ہی سینئر رہنما احسن اقبال کو جلسے کے دوران ہی گولی مار دی گئی، بات یہی ختم نہیں ہوتی سیالکوٹ سے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف کے چہرے پر سیاسی پھینکی گئی مگر مجال کسی عدالت نے نوٹس لیا ہو یا کہا ہو سیاست میں مذہب کارڈ کا استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ قارئین کو یاد ہو گا چار اگست 2021 کو رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں مندر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی گئی تھی،کسی کو جان سے نہیں مارا گیا تھا صرف توڑ پھوڑ کی گئی تھی، اس پر بہاولپور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 22ملزمان کو پانچ، پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ جی ہاں!۔ مندر میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کو سزائیں اور جرمانے اور مسجد نبوی میں ہلڑ بازی کرنے والوں کو کھلی چھوٹ۔ معززچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جناب اطہر من اللہ نے کہا مذہب کو سیاست میں استعمال نہیں کرنا چاہیے، ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے لہٰذا ریاست کو چاہیے سیاسی قیادت کو بٹھائے اور پالیسی بنائے مذہب کو سیاست میں نہیں لانا چاہئے کیونکہ سیاسی تنازعات کیلئے مذہب کا استعمال درست نہیں۔ کیس مسجد نبوی کی توہین، وہاں لگائے جانے والے نعروں کا تھا، جس کا سیاست سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، اور اگرشک بھی تھا کہ مسجد نبوی میں جو کچھ ہوا وہ سیاسی ہے تب بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو کم از کم اس واقعے کی مذمت ضرور کرنی چاہئے تھی۔ کہنے اور لکھنے کو مزید بہت کچھ ہے مگر جیسا کہ توہین مذہب کوئی جرم نہیں رہا اور توہین عدالت سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔ اس لئے اس پر اگلے کسی کالم میں ضرور بات ہوگی، باقی اللہ پاک ہم سب کو سچ بولنے،لکھنے کی ہمت دے (آمین)۔