۔،۔عقدہ اورعقیدہ۔محمد ناصر اقبال خان۔،۔


اِسلام پراستقامت کا”عقدہ” درست “عقیدہ “میں پنہاں ہے۔ مسلمان مرداورعورت آپس میں “عقد “کیلئے ایک دوسرے کا”عقیدہ “ضروردیکھتے ہیں۔یادرکھیں “استعداد” کا”تعداد” سے کوئی موازنہ نہیں،جس انسان کاکوئی نظریہ نہیں وہ نظر ہوتے ہوئے بھی بینائی سے محروم ہے۔ ہم میں سے جس کسی کی نیت اور نظریہ درست نہیں اس کے اعمال زندگی بھر کاوبال بن جاتے ہیں۔جوانسان”دوراندیش” نہ ہو وہ “درویش “نہیں ہوسکتا۔میدان کربلا میں صالحین اورمنافقین کے درمیان تاریخی معر کے نے دنیا کودو دھڑوں حسینیت ؑاوریزیدیت میں تقسیم کردیا۔ جس کے پاس علمیت ہوگی وہ حسینیت ؑ کاانکار نہیں کرسکتا۔ اسلامیت اور انسانیت روزقیامت تک حسینیت ؑکی مقروض رہے گی۔ یاد رکھیں اسلامیت پر پختہ ایمان وایقان کیلئے حسینیت ؑکی حمایت کافی نہیں بلکہ یذیدیت سے شدید نفرت سمیت اس کا اعلانیہ انکار اور ہر عہد کے یذیدوں کیخلاف بھرپور مزاحمت بھی ناگزیر ہے۔ اس معاملے میں خاموشی، لاتعلقی یا کسی قسم کی مصلحت پسندی یقینا منافقت شمار ہوگی۔اسلامیت کا دوسرا نام حسینیت ؑجبکہ شیطانیت کا دوسرا نام یذیدیت ہے۔ملعون اور پلید یذیدخود تو جہنم واصل ہوگیا لیکن اس کی غلاظت اورنجاست اس کی باقیات میں منتقل ہوتی رہے گی لہٰذاء حسینیت ؑ کے حامی بھی ہر عہد میں یذیدیت کا تابوت نابود کرنے کیلئے اپنا مجاہدانہ اور آبرومندانہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔نواسہ رسول ؐ اورشہزادہ کونین حضرت امام حسین علیہ السلام کے پیروں کی دھول دنیا کے ہر پھول سے بہتر ہے۔ میں ” شاہ” نہیں ہوں لیکن امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نسبت،بے پایاں محبت اورعقیدت نے مجھے” بادشاہ” بنادیا۔اسلامیت اورحسینیت ؑ ؑکاعلمبردار ایک سچامسلمان اوربااصول انسان” نیوٹرل” نہیں ہوسکتا،نتائج کی پرواہ کئے بغیرجوحق پرہو اس کاساتھ دینا ہوتا ہے۔مادروطن پاکستان کی داخلی خودمختاری، وحدت،سا لمیت، قومی حمیت اورقومی خودداری کاکوئی حامی اندرونی وبیرونی دشمنوں کے مقابل نیوٹرل ہونے کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔ جس گھرمیں باری باری اورکئی باری چوری کرنے کے بعد سبھی پیشہ ور چورایک ساتھ نقب لگارہے ہوں وہاں کوئی فرض شناس چوکیداردورکھڑا رہ کرچوروں کے ہنرکانظارہ نہیں کر سکتا۔ کسی فرمانبردارفرزندکے ہوتے ہوئے کوئی محلے داریارشتہ دارعورت اس کی زخمی یابیمار ماں پر حملے کی جسارت کربیٹھے توکیا وہ نیوٹرل رہ سکتا ہے۔سٹیک ہولڈریعنی ریاستی اداروں کی مجرمانہ غفلت یاملی بھگت کے بغیر کسی ریاست کی باگ ڈور چوروں کے ہاتھوں میں نہیں جاسکتی۔ معاشی طورپرنحیف پاکستان مزید حملوں، زخموں اورکاٹ دار جملوں کامتحمل نہیں ہوسکتا، نیب زدگان کس بنیاد پرنیب میں اصلاحات کامژداسنارہے ہیں۔قومی وسائل اور دوسروں کامینڈیٹ چوری کرنیوالے احتساب اورانتخاب کے شعبہ جات میں اصلاحات نہیں کرسکتے،پاکستان میں فوری اورمنصفانہ الیکشن کے سوا کوئی آپشن نہیں۔حدیث نبویؐ کا مفہوم ہے، “دنیا میں جس کے ساتھ تمہاری محبت ہوگی قیامت میں اسی کاساتھ ملے گا”۔آج دنیا میں جوقومی چوروں کے ساتھ محبت کادم بھرتے ہیں روزمحشر انہیں کے ساتھ ہوں گے، وہ “ہم چور ہیں نہ چور کے بھائی”محاورہ یادرکھیں۔ چوروں سے نفرت مہذب معاشروں کی اجتماعی فطرت ہے۔عزت قیمت یا قسمت نہیں قدرت کی رحمت سے ملتی ہے۔قادروکارسازاللہ ربّ العزت کو عزت اورذلت پرقدرت حاصل ہے، معبودبرحق چاہے تواقتدار چھین کرعزت سے نوازدے اورچاہے تو حکمران بناتے ہوئے عزت سے محروم کردے،آپ اِن دِنوں پاکستان میں پاک پروردگار کی قدرت کامظاہرہ دیکھ رہے ہیں۔ مسنداقتدار پرکون براجمان ہے جبکہ حکومت سے محرومی کے بعد عزت اورہم وطنوں کی محبت کس کوملی یہ سمجھنا ہرگزدشوار نہیں۔عزت اورشہرت میں زمین آسمان کافرق ہے،اس فرق کوسمجھانے کیلئے عرض ہے پلید یذید کیخلاف آبرومندانہ اورجرأتمندانہ مزاحمت کے نتیجہ میں حضرت امام حسین ؑ کوبینظیر نصرت، عفت و رفعت اوربے پایاں عزت وعقیدت ملی جبکہ نفرت،ذلت اورمنفی شہرت ملعون یذیدکامقدر بن گئی۔ عزت وعقیدت سے عاری شہرت نحوست اورلعنت کی علامت ہے لہٰذاء شخصیات کو شہرت یامنصب نہیں بلکہ عزت کی بنیادپراپنا ہیرواورآئیڈیل بنایا کریں۔دوسروں کوعزت دیں تو عزت ملتی ہے،جوعزت دار ہووہ دوسروں کوعزت د ینے کے معاملے میں بخیل نہیں ہوتا۔عزت منصب یااقتدار نہیں کردار کی بنیاد پرملتی ہے۔عزت کامعیارجانچنا ہوتو بابائے قوم محمدعلی جناح ؒ، ماضی کے باکسر محمدعلیؒ، ڈاکٹر مہاتیر بن محمد، رجب طیب ایردوان، غازی علم دینؒ،غازی ممتازقادری ؒ، عبدالستار ایدھیؒ،چیف جسٹس (ریٹائرڈ)میاں ثاقب نثار،نواب غوث بخش باروزئی،لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفی،لیفٹیننٹ جنرل (ر)حمید گل،لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور،بریگیڈئیر غضنفر علی،آئی جی(ریٹائرڈ) پنجاب حاجی محمدحبیب الرحمن،ڈاکٹر اے کیوخان ہسپتال ٹرسٹ کے روح رواں شوکت بابر ورک اورپروفیشنل ڈی آئی جی اشفاق احمدخان کے چہرے تخیل میں ابھرتے ہیں جبکہ شہرت توڈونلڈٹرمپ،نریندرمودی اورابھی نندن کی دہلیز پربھی سجدہ ریز ہے۔پاکستان میں جوبائیڈن اور مودی کے بھگت بھی بہت مشہور لیکن وہ عزت سے محروم ہیں۔جو عناصر جوبائیڈ ن اورنریندری مودی کے” مقرب” ہوں گے” کر ب” ان کامقدر بن جائے گا۔ قومی ٹیم کاکپتان قوم کاکپتان بن گیا،عمران خان نے اپنے مینڈیٹ میں نقب لگانیوالے کردار وں کے چہروں سے نقاب اتاردیا، تاہم اندرون ملک مزید محاذ کھولناریاست اور ان کی سیاست کیلئے سودمند نہیں، اسے” تولنا “پھر “بولنا” ہوگا۔ہرکسی سے بگاڑنا کپتان کے سیاسی مستقبل کاحلیہ بگاڑسکتا ہے۔اندرونی و بیرونی سازش کے نتیجہ میں کپتا ن سے اقتدار توچھن گیا لیکن اوورسیزپاکستانیوں سمیت ہم وطنوں سے جو عزت اُسے ملی وہ کوئی نہیں چھین سکتا۔پاکستان اورکپتان کے حامیوں نے امریکا کی غلامی مسترد کرتے، بیڑیاں توڑتے اورکشتیاں جلاتے ہوئے قومی خودداری کیلئے کٹھن جدوجہد کاآغاز کردیا ہے جبکہ ابوبکر سے پرجوش نوجوان اس تحریک کاہراول دستہ ہیں۔پاکستان کے عوام اپنے کپتان پردعاؤں اوروفاؤں کے پھول نچھاورکررہے ہیں جبکہ دوسرے کیمپ میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔کپتان کی ایوان اقتدار سے بیدخلی میں افواج پاکستان کاکوئی کردار نہیں۔پاکستانیوں کوپاک فوج سے شکوہ نہیں، وہ تونیب زدگان اوران کے پشت بان سے بیزار ہیں۔مخصوص عناصر کی طرف سے پاک فوج پرتنقیدکاتاثر درست نہیں، پاک فوج آج بھی پاکستانیوں کی عقیدتوں کامحور ہے۔پاکستان کا خیرخواہ افواج پاکستان کابدخواہ نہیں ہوسکتا۔میں نے چند گمراہ افراد کے سوا کسی کو سوشل میڈیا پر پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے نہیں دیکھا، کپتان بھی اپنے کارکنان کواس حماقت کی اجازت نہیں دے سکتا۔ پاکستان کا ہر ایک فرد پاک فوج پر جان چھڑکتا ہے لیکن ایک بیرونی سازش اور مداخلت کے نتیجہ میں شہباز شریف سمیت اس کے اتحادیوں کا اقتدار میں آجانا پاکستانیوں کیلئے ہرگز قابل قبول اور قابل برداشت نہیں، لوگ دل گرفتہ ہیں۔ ہزاروں شہیدوں کی وارث پاک فوج پاکستان کی سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہے،اسے سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں اوران شاء اللہ ہمارے جانبازوں کے ہوتے ہوئے ہماری داخلی خودمختاری اورقومی خودداری پرآنچ نہیں آسکتی۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں آصف زرداری کا خبث باطن پاکستانیوں نے مسترد کردیاہے۔پاک فوج کاڈسپلن اس کاطر ہّ امتیاز ہے،پاکستان کے عوام آج بھی افواج پاکستان کی پشت پرکھڑے ہیں۔پاکستان کے مخصوص اورمنحوس سیاستدانوں کا اپنی غلطیوں،ناکامیوں اورباہمی عداوتوں کاملبہ افواج پاکستان پرڈالناقابل مذمت ہے۔ کچھ سیاسی پنڈت آصف زرداری کوکریڈٹ دے رہے ہیں لیکن میری ناقص رائے میں شہبازشریف نے نوازشریف اورمسلم لیگ (ن) کودلدل میں اتار دیا ہے، اس وقت شریف خاندان کے پیچھے کنواں اورآگے کھائی ہے۔شہبازشریف ہرقیمت پروزیراعظم بننا اوراپنے فرزندحمزہ شہباز کووزیراعلیٰ پنجاب بنانا چاہتاتھا لیکن شومئی قسمت دونوں باپ بیٹا قومی تاریخ کے متنازعہ ترین حکمران کی حیثیت سے تاریخ کاحصہ بن گئے ہیں۔ شہبازشریف کو بہترین منتظم ہونے کازعم ہے لیکن اس کی ٹیم میں سے کوئی اسے رائے نہیں دے سکتا،یادرکھیں جومنتقم مزاج اورخودپسند ہووہ اچھامنتظم اورحقیقت پسند نہیں ہوسکتا۔جس طرح شریف خاندان کوپنجاب میں ” بزدار” سوٹ کرتا تھا اس طرح اب انہیں ملک میں فوری الیکشن سوٹ کرتا ہے کیونکہ اقتدار کاایک ایک دن اِن کیلئے سیاسی دشمن اوردشواریا ں بڑھاتا جائے گا۔کپتان کا اپنے سیاسی مشیر بدلنا اس کے قومی مشن کی تکمیل کا سبب بنے گا۔ کپتان کی پاکستان کے نیک نام چیف جسٹس (ریٹائرڈ) میاں ثاقب نثار سے حالیہ ملاقات اس کی شخصیت اور سیاست میں تعمیری تبدیلی کی غماز ہے،میاں ثاقب نثار کی صحبت اورنصیحت یقینا کپتان کوفائدہ دے گی،میاں ثاقب نثار کی صورت میں بردباروں کاقرب کپتان کوبردبار بنائے گاجبکہ عثمان بزدار کامزیدساتھ کپتان کیلئے انتخابی سیاست کودشواربناسکتا ہے۔کپتان کوپاکستان میں معاشی وزرعی انقلاب اورقومی چوروں کابے رحم احتساب یقینی بنانے کیلئے چاروں صوبوں سے ماہرین اورصالحین کی ٹیم بناناہوگی۔عمران خان کوسنجیدہ سیاست کیلئے میاں ثاقب نثاراورنواب غوث بخش باروزئی سے بینا اور دانا مشیروں کی ضرورت ہے۔عمران خان کوآئندہ “چناؤ “میں بھرپورکامیابی کیلئے اپنے الفاظ کادرست “چناؤ “یقینی بناناہوگا۔