۔،۔ایران کے مذہبی رہنماوں (حکومت مخالف مظاہروں میں شدت۔ نذر حسین۔،۔

٭ایران کے مذہبی رہنماوں بالخصوص سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی حکومت پر مسلسل مضبوط گرفت کے خلاف مظاہرے مرکزی صوبہ اصفہان کے طول و عرض میں پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں جن میں مذہبی رہنماوں کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ایران/اصفہان/گول پیگان/خوزیستان/لورستان/چار محل/بختیاریہ۔ ایرانی معیشت کی حالت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے، افراد زر میں چالیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے، آٹھ کروڑ پچاس لاکھ کی آبادی میں پچاس فیصد غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی ہے اور رکنے کا کا نام ہی نہیں۔ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایران کے مذہبی رہنماوں بالخصوص سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی حکومت پر مسلسل مضبوط گرفت کے خلاف مظاہرے مرکزی صوبہ اصفہان کے طول و عرض میں پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں جن میں مذہبی رہنماوں کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے، صدر ایراہیم رئیسی کو بھی ان نعروں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یہ مظاہرے ایران کے دوسرے صوبوں /اصفہان/گول پیگان/خوزیستان/لورستان/چار محل/بختیاریمیں بھی کئے جا رہے ہیں جن میں ہزاروں مظاہرین شرکت کے لئے پہنچ رہے ہیں، ان مظاہروں کی وجہ گذشتہ دنوں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے، پکانے کا تیل، مرغی، انڈے اور دودھ کی قیمتیں بھی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو رہی ہے بعض اشیاء کی قیمتوں میں (تین سو) فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ جبکہ عوام نے حکومت کے کریک ڈاون میں کم از کم چھ افراد کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے جبکہ عوام ان دعوں کو متسرد کرتی چلی آ رہی ہے، سرکاری میڈیا میں ایک فوٹج گردش کرتی دکھائی دے رہی ہے جس میں ایک شہری کا دعوں سامنے آیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کی فائرنگ سے اس کا بیٹا ہلاک ہوا ہے یہ واقعہ چار محل اور بختاریہ میں رپوٹ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں ایرانی عوام نے ہر ممکن موقع پر حکمرانوں کے خلاف عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ان احتجاجی سلسلوں میں الیکشن کا بائیکاٹ اور طول و عرض میں جلسے جلوس بھی شامل رہے۔