۔،۔ ڈاکٹر شوکت ورک ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی وائس چیئرمین منتخب۔،۔
٭ریاست کی آزادی اورقومی یکجہتی یقینا صحافت کی آزادی سے مقدم ہے: ڈاکٹرشوکت ورک٭

پی ٹی وی کے سابقہ ایگزیکٹو پروڈیوسر کرنٹ افیئرز، ممتازمصنف اورسینئر کالم نگار ڈاکٹر شوکت ورک کی ریاست پاکستان،انسانیت، ریاستی اداروں اور شعبہ صحافت کیلئے گرانقدر خدمات دیکھتے ہوئے ورلڈ کالمسٹ کلب کا مرکزی وائس چیئرمین منتخب کرلیا گیا،ا ن کاانتخاب ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی صدروسینئر کالم نگار مظہربرلاس کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں مرکزی سینئر وائس چیئرمین میاں محمدسعید کھوکھر،مرکزی وائس چیئرمین میاں اقبال شاہد،مرکزی چیف آرگنائزر محسن گورایہ،مرکزی سیکرٹری جنرل محمدناصراقبال خان،ایڈیشنل سیکرٹری جنرل مخدوم وسیم قریشی ایڈووکیٹ،مرکزی آرگنائزر سلمان پرویز،مرکزی سینئر نائب قاضی عرفان اطہر، صدور سردارمرادعلی خان،صفدر علی خاں، میاں محمداشرف عاصمی ایڈووکیٹ،مظہر چوہدری، ناصف اعوان،اخترعلی بدر،سلطان حسن بٹ، مرکزی نائب صدور محمداویس رازی،شاہدندیم احمد، ناصرعباس چوہان ایڈووکیٹ،ممتازاعوان، اسحق جیلانی،مرکزی سیکرٹری اطلاعات لقمان شیخ،ورلڈ کالمسٹ کلب وومن ونگ کی مرکزی چیئرپرسن نیلماناہیددرانی اورمرکزی صدر نبیلہ طارق ایڈووکیٹ بھی اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس میں مرکزی سیکرٹری جنرل محمدناصراقبال خان نے مرکزی وائس چیئرمین کے منصب کیلئے ڈاکٹر شوکت ورک کانام تجویز کیا جبکہ مرکزی سینئر نائب صدر سردار مرادعلی خان اور مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل مخدوم وسیم قریشی ایڈووکیٹ کی طرف سے متفقہ تائید کے بعدمرکزی صدر مظہر برلاس نے ڈاکٹر شوکت ورک کے بھرپوراتفاق رائے سے ورلڈ کالمسٹ کلب کا مرکزی وائس چیئرمین منتخب ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔ورلڈ کالمسٹ کلب کامرکزی وائس چیئرمین منتخب ہونے کے بعد ڈاکٹر شوکت ورک نے انتخابی اجلاس کے شرکاء کاشکریہ اوران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی آزادی اورقومی یکجہتی یقینا صحافت کی آزادی سے مقدم ہے۔ پاکستان کی تعمیروترقی کاراستہ مالیاتی نہیں نظریاتی صحافت سے ہوکر گزرتا ہے،ہمار ی ریاست زرد صحافت کی متحمل نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ کالمسٹ کلب کے عہدیداران سچائی تک رسائی یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ افواہوں اورمصدقہ خبروں میں فرق یقینی بنانااز بس ضروری ہے، ریاست کے روشن مستقبل کیلئے اصولی سیاست اور مثبت صحافت کوفروغ دیاجائے۔