۔،۔آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


ایک سوال مجھ سے ملنے والے اکثر تواتر کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ سر آپ روزانہ سینکڑوں لوگوں سے دس سے پندرہ گھنٹے لگاتا ر ملتے ہیں یہ مختلف مزاجوں اور علاقوں کے کھردرے لوگ جو آپ پر زبردستی اپنی بات وجود نظریات ٹھونسنے کی کو شش یا اپنی مرضی کی بات سننے کے لیے پریشر بھی ڈالتے ہیں لیکن آپ عاجز شاکر صابر ہو کر بات سنتے ہیں اور تسلی بخش جواب بھی دیتے ہیں تو آج میں اقرار کرتا ہوں کہ میری مزاج کی عاجزی نرمی صبر شکر اگر ہے تو وہ صرف اور صرف میری جنت ماں کی وجہ سے ہے وہ جس محلے گاؤں میں تقریبا ً نو ے سال زندگی گزار کر گئیں کسی ایک اپنے بیگانے سے اختلاف لڑائی جھگڑا نہیں ہوا‘ ایک نازک پھول کی طرح طویل زندگی گزار کر رب تعالیٰ کے پاس چلی گئیں ہم آٹھ بہن بھائی تھے اِن کو پالنا مشکل کام‘ زندگی بھر ہمیں کبھی ڈانٹا نہیں مارا نہیں بلکہ میں تو ترستا تھا کہ وہ کسی بات پر ڈانٹیں لیکن اُن کا خمیر ہی پیار شفقت کا تھا جو صرف پیار ہی باٹتی تھیں۔ابھی جوانی کے آنگن میں قدم رکھا تھا کہ اپنے سے دوگنی عمر کے مرد سے شادی کر دی گئی والد صاحب اور والدہ دونوں ہی نرم مزاج ہم نے ساری زندگی ایک بار بھی کبھی دونوں کو لڑائی کرتے نہیں دیکھاوالدہ ان پڑھ ہونے کے باوجودو الد صاحب کے مزاج موڈ سے اچھی طرح واقف تھیں زندگی میں کبھی بھی انہیں شکایت کا موقع نہیں دیا۔
لبوں پہ اُس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی
بس اک ماں ہے جو مُجھ سے خفا نہیں ہوتی
شجر کی چھایا بھی ہے سر پر آسماں ہے ماں
زمین کی وسعتیں محدود بے کراں ہے ماں
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں جنت تو نہیں دیکھی ماں دیکھی ہے
روک لیتا ہے بلاؤں کو وہ اپنے اوپر
ماں کا آنچل مجھے جبرائیل کا پر لگتا ہے
میری خواہش ہے میں پھر سے فرشتہ ہوجاؤں
ماں سے اِیسے لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
ایک مدت سے مری ماں سوئی نہیں تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
ہم آٹھ بہن بھائی تھے ماں جی کو سب کے مزاجوں کا اچھی طرح پتہ تھا کون کیا پسند کرتا ہے وہ اِس بات کا پوری طرح خیال رکھتیں پتہ بھی نہ چلنے دیتیں غیر محسوس طریقے سے ہر ایک کی زندگی میں آسانی پیدا کر نے کی کو شش کرتیں۔مجھے بچپن میں سفید ابلے چاولوں پر مکھن یا دیسی گھی لگا کر کھا نا پسند تھا میں زندگی میں جب کبھی بھی اُن کے پاس گیا انہوں نے مکھن اور دیسی گھی کا پہلے سے اہتمام کیا ہو تا تھا مجھے پراٹھا پسند تھا مکھن دیسی گھی کا کرسپی پراٹھا ہمیشہ بنا کر کھلاتیں مجھے تندور کی روٹی بہت زیادہ پسند تھی انہوں نے ساری زندگی گھر میں تندور کو چالو حالت میں رکھا مٹی کے تندور کو سنبھال کر رکھنا ایک مشکل کام ہے جو انہوں نے میری محبت میں ساری عمر رکھا میں جیسے ہی گاؤں جاتا وہ تندور میں لکڑیاں ڈال کر تندور کو تیا رکراتیں پھر گرما گرم تندوری روٹیاں خود بھاگ بھاگ کر لاتیں جب بڑھاپے نے ان کو اپنی گرفت میں لیا تو میں ہر بار منع کر تا کہ اب آپ تندور کو گرم کرنا چھوڑ دیں لیکن آخری سانس تک انہیں پتہ تھا کہ مجھے تندوری روٹی پسند ہے تو انہوں نے یہ پیار محبت خوب نبھایا وہ صابر شاکر خدا کے ہر فیصلے پر لبیک کہنے والی تھیں جوانی میں دو بیٹیاں بیوہ ہو گئیں خود بھی بیوہ ہو گئیں دو بیٹے آنکھوں کے سامنے خدا کے پاس چلے گئے لیکن اُنہوں نے خدا کے ہر فیصلے کو د ل و جان صبر سے قبول کیا مجھے بچپن کی وہ بیماری آج بھی یا دہے جب میری عمر چھ سات سال کی ہو گی مجھے کسی موذی بخار نے پکڑ لیا میں تقریبا دو مہینے بخار میں جلتا رہا بیماری نے طوالت پکڑی کہ میرا کھانا پینا بھی بند ہو گیا طویل بخار بیماری کی وجہ سے کمزوری اِس قدر بڑھی کہ میں ایک قدم بھی چلتا تو زمین پر گر جاتا میں بھی صبر شکر کے ساتھ آرام سے پڑا رہتا جب میں نے چلنے کی کو شش کی تو زمین پر گر پڑا۔اٹھنے کی ہمت نہ رہی اپنے بے جان بیمار جسم کو گھسیٹتے ہوئے کمرے کے دروازے پر آیا تو ماں کی نظر مُجھ پر پڑی دوڑتی ہوئی میری طرف آئیں مجھے کہا تم زمین پر کیوں رینگ رہے ہو کھڑے ہو میں نے کھڑے ہونے کی کو شش کی لیکن لڑ کھڑا کر گر پڑا میری بیمار ی اور حالت دیکھ کر مجھے سینے سے لپٹا لیا اور ہچکیوں سے رونا شروع کر دیا پھر شاید زندگی میں پہلی اور آخری بار والد صاحب سے اونچی آواز میں شکایت کی کہ میرے بیٹے کی یہ حالت ہو گئی ہے آپ کو خبر ہی نہیں پھر والد صاحب مجھے حکیم صاحب کے پاس لے گئے اگلے دس دن کے علاج کے بعد میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا تو میری ماں کی جان میں جان آئی بیماری کے اُن دنوں میں دن رات سائے کی طرح اپنے ساتھ لپٹائے رکھتیں رات کو سینے پر رکھ کر مجھے سلاتیں اُن دنوں میں ان کی آنکھوں میں جو پریشانی اداسی تھی وہ مجھے آج تک یاد ہے ایسی مسیحائی صرف ماں ہی کر سکتی ہے شہروں سے دور کچے گھروندوں سے ایسی مائیں جنم لیتی ہیں کہ خود گردشِ دوراں ایسی ماؤں کا طواف کر تی نظر آتی ہے اِن کچے گھروں کی ماؤں نے ہیروں کو پالا پو سا ہے تنگ و تاریک کوٹھڑیوں نے رنگ و نور کے مینار کھڑے کئے ہیں اِن صحراؤں نے تہذیبوں کو جنم دیا ہے گارے مٹی کے حجروں نے قصر مرمر کو شرمایا ہے ایسی عظیم مائیں بار بار دنیا میں نہیں آتیں۔
کچھ ایسے بھی اِس بزم سے اُٹھ جائیں گے جن کو تم ڈھونڈنے نکلو گے مگر پا نہ سکو گے
یقین نہیں آتا ایسی مائیں جن کے بنا زندگی پھیکی ہے وہ بھی اِس دنیا کو بے رنگ کر کے چلی جائیں گی لیکن موت اِس قدر بے رحم اور اچانک وار کرتی ہے کہ بادشاہ کو تخت و تاج سمیٹنے اور فقیر کو اپنا بو ریا لپیٹنے کا موقع نہیں دیتی کوئی شاہی مسند پر آخری ہچکی لے یا کچے فرش پر دم توڑے آخری آرام گاہ وہی دو گز زمین کا ٹکڑا کوئی کچی مٹی لیپ دے یا سنگ مر مر کا مزار بچھونا تو خاک ہی رہے گی۔
بس اتنی ہی حقیقت ہے فریب خواب ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جائے
وہ صورتیں الٰہی کس دیس بستی ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں
محبتوں کے سفر میں خبر نہیں ہوتی
کہ کیسے کون کہاں کب کسی سے کھو جائے
جب مائیں بچھڑ جاتی ہیں تو پیچھے محبتوں اور یادوں کے چمن چھوڑ جاتی ہیں میں اُن خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جس سے ماں راضی تھی اور میں نے ساری زندگی پو ری کو شش کی کہ ان کو ناراض نہ کروں اُن کے مزاج کے خلاف کوئی بات نہ کروں میرے وہ دوست جن کی مائیں حیات ہیں انہیں قدر کرنی چاہیے اُن کے مزاج کے مطابق چلنا چاہیے انہیں کبھی بھی ناراض نہیں کرنا چاہیے کیونکہ حضرت علی ؓ کا قول مبارک ہے اپنی زبان کی تیزی اُس ماں پر مت چلاؤ جس نے تمہیں بولنا سکھایا ہے سرور کونین ﷺ کا فرمان ہے اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی اور بد سلوکی کو حرام کر دیا ہے۔
زندگی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تیرا
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نور ستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے