۔،۔نیب زدگان نیب میں نقب لگانے سے بازرہیں:محمدناصر اقبال خان۔،۔
٭ حکمران انتظامی نہیں انتقامی بنیادوں پرتقرریاں کررہے ہیں، عدلیہ نے مسترد کردیں ٭

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی چیئرمین محمدناصراقبال خان نے کہاہے کہ حکمران انتظامی نہیں انتقامی بنیادوں پرتقرریاں کررہے ہیں، عدلیہ اورعوام نے مسترد کردیں۔ جس طرح کسی چو ر کوپولیس کلچر کی تبدیلی کا مینڈیٹ نہیں دیاجاسکتا اس طرح قوم نیب زدگان کو نیب میں اصلاحات کاا ختیار نہیں دے سکتی۔ ارباب اقتدار نیب میں نقب لگانے سے بازرہیں اور مقدمات کاسامنا کریں۔جولوگ اقتدارمیں آنے سے قبل نیب کے شکنجے میں تھے آج وہ اپنے اختیارات سے تجاوزکرتے ہوئے نیب کی گردن دبوچ رہے ہیں،انہیں یہ حق اوراختیار کس نے دیا۔بظاہر اتحادی حکمران اپنے اورحواریوں کیلئے آسانیاں پیداکرنے کیلئے اقتدار میں آئے، ان کیخلاف مقدمات کے تفتیشی آفیسر ز کو ہٹانا ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔اپنے ایک بیان میں محمدناصراقبال خان نے مزید کہا کہ اگر نیب زدگان نے نیب کے اختیارات سلب کئے تو اس سے ملک میں خونی انقلاب کاراستہ ہموار ہوگا۔نیب کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے ہائی پروفائل مقدمات میں ٹرانسفر پوسٹنگ پرپابندی خوش آئند ہے۔وزیراعظم اوروفاقی وزراء میں سے کوئی آئین و قانون سے ماورا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ملک میں جاری بدانتظامی اور انتقامی سیاست پرخاموش نہیں رہ سکتی۔اتحادی حکومت نے محض ایک ماہ کے اندر اندر فسادی حکومت کاروپ دھار لیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے عمران خان کیخلاف حالیہ تحریک عدم پیش ہونے سے قبل بار بار کہاتھا،”متحدہ اپوزیشن عوام کوریلیف دینے اورڈیلیورکرنے کی پوزیشن میں نہیں،یہ بھی کہاملک کودرپیش متعدد بحرانوں سے نجات کیلئے ڈنڈا نہیں ایجنڈا ضروری ہے۔تاہم شہبازشریف نے وزارت عظمیٰ کے عشق میں مسلم لیگ (ن) کوتختہ مشق بنادیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان بارے عدالت عظمیٰ کاواضح فیصلہ آنے کے بعد پنجاب میں بڑے پیمانے پرتبادلے ماورائے آئین ہیں،انہیں فوری منسوخ کیاجائے ورنہ صوبائی سطح پر انتظامی بحران پیداہوگا۔ عوامی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں زراورزور کی بنیاد پرسیاسی وفاداریاں تبدیل اورملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنیوالے نام نہاد نمائندو ں کو انتخابات کیلئے تاحیات نااہل قراردیاجائے جبکہ ریاست ان سے مراعات کی واپسی بھی یقینی بنائے۔