۔،۔ ایوانِ وقت میں گونجتی آوازیں ۔ طارق حسین بٹ شان۔،۔

تاریخ کے ایوانوں میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جن کی گونج کبھی مدھم نہیں ہوتی۔انسانیت ان آوازوں سے سدا راہنمائی لیتی رہتی ہے کیونکہ وہ آوازیں سچائی کی آوازیں قرار پا چکی ہوتی ہیں۔وقت کے بے پناہ جبر کے سامنے ان آوازوں نے خود کوکبھی بھی سرنگوں نہیں ہونے دیاہوتا بلکہ پوری قوت سے سچائی کی خاطر سینہ سپر ہو گئی ہوتی ہیں۔جان فدا کرنے کا جذبہ بے خودی میں خود بخود ان کی زبان پر جاری و ساری ہو جاتا ہے ۔ (سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہیں۔،۔ دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے) ایسے لوگ قافلہِ انسانی کو صدائیں دے کر بلاتے ہیں اور انھیں دولتِ یقین سے نوازتے ہیں۔(اے طائرِ لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی۔،۔ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی)۔انسانی زندگی بڑی قیمتی،ممتاز،عظیم،ر نادر اورمتاع ِ بے بہا ہوتی ہے جسے مالکِ کون و مکان نے انسانی راہنمائی کے لئے تخلیق کر رکھا ہے۔ ہر وہ روح جو خصوصی طور پر انسانی راہنمائی کیلئے ودیعت کی جاتی ہے بے قراریوں کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔ وہ کچھ منفرد،اہم اور یادگار کرنا چاہتی ہے لیکن حالات وواقعات اس کی راہ میں آڑے آ جاتے ہیں اور یوں انسان چاہتے ہوئے بھی بہت کچھ کرنے سے معذور ہو جاتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ آفاقی نظریات و خیالات انسان کا خاصہ ہیں۔قد آور انسان اپنے اعلی،بے باک پاکیزہ اور بلند و بالا خیالات سے ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور انسانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کرتے ہیں جو انسانی عظمت کی خاطر سینہ سپر ہو جاتی ہے۔یہ کام تو انتہائی مشکل،دشوار اور کڑھا ہو تا ہے لیکن تاریخ میں انقلاب پسند افراد دھیرے دھیرے اپنا کام کرتے رہتے ہیں اورجب شہنشاہانہ اذیتیں، حکمرانوں کی سختیاں اور فوجی سنگینوں کی بے رحمیاں انسانوں کے دلوں میں جاگزین جذبات کو دبانے سے قاصر ہو جاتی ہیں تو انقلاب کا غلغلہ بلند ہو جاتا ہے اور خود تراشیدہ مناظر دھرے کے دھرے رہ رہ جاتے ہیں۔ لوگوں کو ایک نقطہ مجتمع کرنے والی آواز ایک ہی ہوتی ہے لیکن لاکھوں انسان اس آواز پر قربان ہونے کیلئے بے تاب ہو جاتے ہیں۔جب عوام اور جمہور میدان میں کود پڑتی ہے توپھر اسلحہ، بارود،گولیاں، سنگینیں اور توپیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ زارِ روس کا اقتدار چند سر پھروں کے ہاتھوں ہی اپنے انجام کو پہنچا تھا۔وقت کے سینے سے ایک جواں ہمت انسان نکلتا ہے اور پوری کائنات کو بدل کر رکھ دیتا ہے حالانکہ وہ ظاہری خدو خال میں وہ دوسروں کی طرح ہی دیکھتا،اٹھتا بیٹھتا،کھاتا پیتا اور انہی کی طرح شب و روز گزارتا ہے۔فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اسے جس سچائی کا مکمل ادراک ہو جاتا ہے اسے دوسرے دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔تاریخ ایسے ہی مرتب ہوتی رہی ہے۔یہ ظاہری دیکھنے کی بات نہیں ہے بلکہ ایسے انسان کے قلب میں ایسی کیفیت پیدا ہو چکی ہوتی ہے کہ اس کی نگاہوں میں سب کچھ واضح اور عیاں ہو جاتا ہے لہذا اس کی آواز میں ایک خاص اثر اور کشش پیدا ہو جاتی ہے۔برگد کے پیڑ کے نیچے عظیم بدھا کو جو نروان ملا تھا کوئی دوسرا انسان اس کی تشریح نہیں کر سکتا۔انھوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا تھا یہ ان کی ذات کے ساتھ مخصوص تھااور اسی احسا س نے ان کی ساری حیاتی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔علامہ اقبال نے اس ساری کیفیت کو اچھوتے انداز میں پیش کیا ہے (ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ۔،۔ پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے۔)۔،۔(توڑ ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار۔،۔ اور اپنی خاکستر سے اپنا جہاں پیدا کرے)۔،۔کسی بھی انسانی فعل کی آخری سزا موت ہو تی ہے اور موت تو ویسے بھی بر حق ہے۔لہذا ابتدائے آفرینش سے ہر انسان اس کا ذائقہ چکھتا ہے۔ ارشادِ خدا وندی ہے (کل نفس ذائقۃ الموت)ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی بھی ذی روح کو مفر نہیں ہے۔ مرنا اٹل ہے تو پھر کیوں نہ جی داروں کی طرح اس کا سامنا کیا جائے۔ایک لیڈر اور عام انسان میں یہی فرق ہو تا ہے۔کچھ لوگ بڑی جرات سے موت کا سامنا کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کی موت کا نام سنتے ہی ٹانگیں کانپنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہ ہمار اروزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان زندہ رہنا چاہتا ہے۔اس دنیا کی دلکشی اور جاذبیت اسے زندہ رہنے پر ابھارتی رہتی ہے۔وہ دنیا کی دلکشیوں اور اس کی آسائشات سے کنارہ کش نہیں ہونا چاہتا۔وہ خدا کی بنائی گئی اس کائنات سے مسحور ہو نا چاہتا ہے۔وہ اس کی رنگینیوں اور جاذبیت سے اپنے شب وروز کو تابانی عطا کرنا چاہتا ہے۔وہ اپنی اولاد اور نسل کو اپنے سامنے پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے۔ان کی خوشیوں سے فرحت انگیز ہو نا چاہتا ہے۔کیا کوئی انسان چاہے گا کہ وہ اس دنیا سے کنارہ کش ہو جائے؟ قبر کی تاریک،اندھیری، خاموش اور سکوت انگیز جگہ میں مقید ہوکر ختم ہو جائے اور اس کے سارے بلندو بالا خیالات اور نظریات اس کے ساتھ ہی دم توڑ جائیں؟ اس کے پروگرام،اس کے اہداف،اس کے مقاصد،اس کے منصوبے، اس کے منشور اور اس کے نظریات و خیالات تو اس کی زندگی سے جڑے ہوتے ہیں لہذا ان سب کی برو مندی کے لئے وہ سدا زندہ رہنے کی آرزو کرتا رہتا ہے۔وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور ایک دن انسان ضعف و ناتوانی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس عالمِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے اور یوں اس کے خیالات و اہداف،فکر،سوچ اس کے ساتھ ہی دم توڑ جاتے ہیں۔یہ فقط ایک نقطہ نظر ہے حالانکہ انسان کے رختِ سفر باندھ لینے سے انسانی خیالات کبھی نہیں مرتے۔(میری نوائے شوق سے شور حریمِ ذات میں۔،۔ غلغلہ ہائے الا ماں بتکدہ ِ تصورات میں)انسانو ں کے اندر سچائی کی پہچان کیسے پیدا ہوتی ہے اور نھیں کیسے ادراک ہو تا ہے کہ ان کا وجود اس کائنات میں بستے انسانوں کیلئے کسی تحفہ سے کم نہیں۔اس بات کا فیصلہ کسی بھی انسان کے افکارو خیالات کرتے ہیں۔خیا لات کی ہمہ گیری اور آفاقیت کسی بھی انسان کی حیاتِ جاوداں کی ضمانت ہو تی ہے۔منوں مٹی کے نیچے دفن ہو جانے سے نہ تو کوئی کوئی انسان مٹ جاتا ہے اور نہ ہی اسے تاجِ زر مل جاتا ہے۔ تاج در اصل ان انسانوں کا مقدر ہو تا ہے جو سچ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرے ہیں۔(غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں۔،۔ پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا)۔عظیم فلاسفر ٹراٹسکی نے ایک دفعہ کہا تھا (انسان کے پاس سب سے قیمتی متاع اس کی زندگی ہوتی ہے لہذا ا کی زندگی ایسی نہیں ہونی چائیے کہ وہ ساری حیاتی غم،خوف،ڈر اور پچھتاوے کا شکار رہے بلکہ اس کی زندگی ایسی ہونی چائیے کہ جب اسے موت آئے تو وہ فخر سے کہہ سکے کہ اس کی ساری حیاتی انسانیت کے سب سے بڑے مقصد کیلئے صرف ہوئی ہے اور وہ عظیم مقصد ہے انسانیت کی فلاح اور اس کی نجات)۔ہر وہ انسان جو اس فلسفہ کواپنی زندگی کا جزوِ لا ینفک بنا لیتا ہے موت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔اقبال کی نظر میں (خودگیر و خود نگر ہو اگر خودی۔،۔عین ممکن ہے تو موت سے بھی مر نہ سکے) قرانِ حکیم کا اٹل قانون ہے۔ (وہ لوگ جو میری راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ مت کہو۔وہ زندہ ہیں مگر تمھیں اس کا شعور نہیں ہے)خدا ئی راہ سچائی، انصاف اور حق کی راہ ہے اور اس راہ میں مرنے والے دائمی زندگی کے حق دار قرار پاتے ہیں لیکن اس اعزازکو پانے کا اعزاز صرف دل والوں کا مقدر بنتا ہے۔،۔