۔،۔سعودی عرب میں آم کی کاشت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نذر حسین۔،۔

٭جازان کے علاقہ میں قائم زرعی تحقیقی مرکز میں آم کا سب سے قدیم درخت جو میدانی تجربات کی کامیابی اور پھر جازان کے علاقہ میں آم کی کاشت کی کامیابی اور پھیلاوُ کا باعث بنا۔یہاں سے ہی معاشی امکانات میں اضافہ اور زرعی مصنوعات کا ایک نیا دروازہ کھلا ہے۔آم کی (بیس) اقسام کی سعودی عرب میں کاشت کاری کی گئی تھی٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/سعودی عرب/جازان۔ سعودی عرب کی سرزمین پر آم کی کاشت تیزی سے بڑھ رہی ہے، تحقیقی مرکز کے مطابق (1982-1984) کے دوران فلوریڈا، ہندوستان، مصر اور آتٹریلیا سے آم کی تقریباََ (بیس) اقسام کو متعارف کروانے کے لئے سعودی عرب کی زمین پر ان کی کاشت کی گئی تھی، ان اقسام کی تحقیق پر کئی سالوں سے مطالعہ کیا گیا جس سے یہ ثابت ہرا کہ سعودی عرب کے علاقہ جازان کا خطہ آم کی کاشت کے لئے موزوں ہے جبکہ جازان کے علاقہ میں ایک آم کا درخت لگایا گیا تھا جس کی اس وقت لمبائی تقریباََ (تیس) میٹر ہے، جازان کے علاقہ میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے زرعی تحقیقی مرکز کی جانب سے اعلف اقتصادی منافع کے ساتھ زرعی فصلوں کی فراہمی کی کوششوں کا گواہ ہے۔ جازان کے علاقہ میں آم کی کاشت پھیلتی جا رہی ہے ریسرچ سینٹر کے مطابق اب اس خطے میں تقریباََ (ساٹھ60) قسم کے آم لگائے جا چکے ہیں جبکہ آم کے درختکی پیداوار (چار سے پانچ) سال کی عمر سے شروع ہو جاتی ہے اور درخت کے پندرہ سال کی عمر تک پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اگر درختوں کی صحیح طریقہ سے دیکھ بھال رکھی جائے تو عمر بھر آم کی پیداوار جاری رکھی جا سکتی ہے۔