-,-بنیادی حقوق-اے آراشرف -,-
عزم پُختہ اور صادق ہو تو انسان مشکل سے مشکل ترین منزل کوسر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور شاید یہ وہی جذبہ،عزم اور خلوص ہے جسکی بنا پر چیرمین پاکستان عوامی پارٹی جناب دانیال جہانگیر اعوان نے انتھک محنت سے اپنے ہموطنوں کی سہولت کیلئے کہ اُنکے وطن عزیز میں بنیادی حقوق کیا ہیں؟ کے سلسلہ میں پریس کانفرنس کا اہتمام کیا تلاوت قرآن پاک کی بعد شریف اکیڈمی کے چیرمین جناب شفیق مراد نے نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے مصنف کا مخصتراََ تعارف کرایا۔ جہنوں نی عوامی راہنمائی کی غرض سے آئین پاکستان کا اپنی قومی زبان۔اردو۔ میں ترجمہ کرکے ۔تحریک حقوق۔کے نام سے ایک مُستند کتاب کی صورت میں اجرا کا اعزاز حاصل کیا ہے جسکی تقریب رونمائی جلد منقعد ہو گی اس حقیقت سے توانکار ممکن نہیں کہ ہمارے ملک کی آبادی پچیس کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے اگر حکومتی اعداد وشمار کیمطابق بائیس کروڑ ہی درست ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ عوام کی اس ریاست پاکستان میں بد قسمتی سے تعلیم کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر ہے اور جو خو ش قسمت تعلیم یافتہ حضرات ہیں اُن میں بھی بہت کم ایسے افراد ہیں جو وطن عزیز میں اپنے۔بنیادی حقوق۔ کے بارے میں باخبر ہیں اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد رب کریم نے ہمارے قائد مرحوم محمد علی جناح ؒکو اتنی مہلت ہی نہ دی کے وہ اپنی بے پناہ محنت اور قابلیت سے حاصل کی گئی اس کشورخدادادکو ایک مثالی، فلاحی اور اسلامی بنا کر اقوام عالم میں پیش کر سکتے اُنکی وفات کے بعد جو کچھ ہوا وہ بھیانک تاریخ ہے ملک کے پہلے وزیراعظم کو شہید کردیا گیا اسکے بعد ریاست کے آئین اور قانون کے ساتھ جوکھلواڑ ہوتا رہا وہ نہ صرف شرمناک بلکہ قابل مذمت بھی ہے پھر رہی سہی کسر جنرل ضیاالحق کے ماشل لا نے پوری کر دی۔ ہمارے ملک میں عدالتوںاور پارلیمنٹ میں ساری دفتری کاروائی انگلش میں ہی ہوتی ہے جسے عام آدمی تو درکنار کچھ تعلیم یافتہ حضرات بھی اسے سمجھنے میں عاجز نظر آتے ہیں۔یہ پالیسیاں بنانے والوں کی بد نیتی خیال کریں یا کوتاہی کہ اُنہوں نے آئین پاکستان کو سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک مضمون کے طور پر کیوں نصاب میں شامل نہیں کیا؟جسکی وجہ سے پڑھے لکھے حضرات بھی اپنے بنیادی حقوق۔کے بارے میں نہ واقف یابے خبر ہیں تو پھر ناخواندہ عوام تو اپنے بنیادی حقوق سے کوسوں دوڑ ہیں ایسے میں جناب دانیال جہانگیر اعوان کی جدوجہد اُس معصوم پرندے کی طرح ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ مٰیں جلانے کی تدبیر کی تو وہ پرندہ اپنی چونچ میں ایک قطرہ پانی کالیکر آگ بُجھانے کے لئے اُڑا تو دوسرے پرندوں نے پوچھا کیا تمہارے اس قطرہ پانی سے آگ بجھ جائے گی تو اُس پرندے نے جواب دیا کہ یہ میں بھی جانتا ہوں کہ میرے اس پانی کے قطرے سے آگ نہیں بُجھے گی لیکن میں نے نیک کام میں اپنا حصہ تو ڈال دیا ہے۔جناب دانیال جہانگیر اعوان نے بھی اپنے ہموطنوں کی سہلولت کیلئے۔تحریک حقوق۔ کا آغاز کرکے بلی کے گلے میں گھینٹی تو باندھ دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ مقتدرہ ادارے گھینٹی کیآواز سُن کر اُس پر عمل کرکے اسے نصاب میں شامل کرنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں یا عوام کو اُنکے حقوق سے پہلے کی طرح بیخبر ہی رکھنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو عوام کی بھلائی کے کام کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین۔