۔،۔30اکتوبر2022 مسجد بلال آشافن برگ میں محفل میلاد مصطفیﷺ کا عظیم الشان اہتمام کیا گیا۔ نذر حسین۔،۔

٭زیر سرپرستی خطیب اعظم جرمنی فاضل بھیرہ شریف عالم نبیل فاضل جلیل مبلغ یورپ حضرت مولانا عبد اللطیف چشتی الازہری مسجد بلال آشافن برگ میں محفل میلاد مصطفیﷺ کے موقع پر عظیم الشان اہتمام کیا گیا جس میں جرمنی بھر سے علماء کرام اور نعت خواں تشریف لائے، تمام اہل اسلام کو بمعہ فیملی شرکت کی دعوت دی گئی تھی٭

شانپاکستان جرمنی فرینکفرٹ/آشافن برگ۔ خطیب اعظم جرمنی فاضل بھیرہ شریف عالم نبیل فاضل جلیل مبلغ یورپ حضرت مولانا عبد اللطیف چشتی الازہری کی زیرسرپرستی مسجد بلال آشافن برگ میں عظیم الشان محفل میلاد ﷺ کا اہتمام کیا گیا جس میں جرمنی بھر سے علماء کرام اور نعت خواں حضرات نے شرکت کی تھی۔ ٹھیک وقت پر پروقار تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کی سعادت فاضل نوجوان حضرت مولانا علامہ محمد صدیق مصطفائی کے حصّہ میں آئی۔ یقیناََمحفل کی نقابت جو سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے٭ذہانتوں کو جملوں میں تبدیل کر دینے کا سلیقہ جاننے والی شخصیت حضرت مولانا عبد اللطیف چشتی الازہری٭ نے بڑے احسن طریقہ سے نبھائی،انہوں نے تمام دوست و احباب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا(انسان تخلیق کا ہے مقصد۔قُل ھُوَاللّہُ اَحَد) اس کے بعد نعتوں کا سلسلہ شروع ہوا زاہد بن ارشد نے ٭حضُور ایسا کوئی انتظام ہو جائے۔سلام کے لئے حاضر غلام ہو جائے٭شباب احمد خان نے٭ جب ہے رب مصطفی کا پھر اضطراب کیسا٭حاجی ساجد حسین بٹ نے٭اِک نِکی جیئی ضد کر بیٹھاں۔آکاں میں خالی نیوں جانڑاں ٭نے گُل ہائے عقیدت پیش کئے۔جس پر حضرت مولانا عبد اللطیف چشتی الازہری کا کہنا تھا کہ حضور پر نور ﷺ کا فرمانا ہے کہ میرے گھر اور ممبر کے درمیان والی جگہ ہے ناں یہ جت کے باغات میں سے ایک باغ ہے وہ خوش بخت جس کو رب اینے محبوب کی بارگاہ میں حاضری کی توفیق دے دے اور پھر ریاض الجنت میں جانے کا اتفاق ہو جب وہاں بیٹھو تو تصور میں یقین کے ساتھ بیٹھے کہ میں جنت میں بیٹھا ہوں۔سید زبیر ترمزی نے نعت رسول مقبول کچھ اس طرح بیان کی ٭صَلِ علی پکارو سرکار آ گئے ہیں۔اُ ٹھو اے بے سہارو سرکار آ گئے ہیں۔مولود کی گھڑی ہے چلو آمنہؓکے گھر پر۔ہے اے خُلد کی بہارو سرکار آ رہے ہیں ٭محفل عش عش کر اُٹھی۔حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ آمنہؓ فرماتی ہیں جب سرکار،میرا لخت جگر اس دنیا میں آیا رب نے میرے لئے مشرق و مغرب کو اس طرح منور کر دیا کہ میں مکہ میں بیٹھ کر ملک شام کے محلات کو دیکھ سکتی تھی وہ نبی محمد ﷺ جس کے صدقے رب نے آپ کی والدہ کو یہ مقام دیا،قوت بصارت عطاء فرمائی مکہ میں بیٹھ کر ملک شام کے محلات کو دیکھ رہیں تھیں تو وہ نبی اپنی قبر انور میں موجودہوتے ہوئے پوری کائنات کا مشاہدہ کیوں نہیں فرما سکتے۔ من ہائیم سے تشریف لانے والے ملک عبد القدوس مدَاحِ بارگاہِ رسالتؐ نے فارسی میں نعت رسول مقبول کچھ یوں بیان کی۔ ٭ز رحمت کُن نظر بَر حَلِ زارم یا رسول اللہ۔غریبم بے نوایم خاکسارم یا رسُول اللہ٭جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے (اے اللہ کے ر سول ﷺ میری تباہ حالی پر کرم کی نظر فرمائیں۔کہ میں غریب ہوں،بے آسرا ہوں اور خاک نشیں ہوں) جس پرحضرت مولانا عبد اللطیف چشتی الازہری تڑپ کر بول اُٹھے، ان کی رخساروں پر آنسو نظر آ رہے تھے۔وہ نبی جس کا فرمان ہے کہ آج بھی جب مکہ کی گلیوں سے گزرتا ہوں آج بھی اس پتھر کو جانتا ہوں جو اعلان نبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا، جب میں گزرتا تھا تو وہ پتھر مجھے سلام کیا کرتا تھا۔جس پر نعتوں کے سلسلہ کی کڑی کو جوڑتے ہوئے حاجی عابد حسین نے اپنے دل کی آرزو کچھ ایسے بیان کی ٭جتھے میرے نبی دا ڈیرا اے۔اُتھے رہندا سدا سویرہ اے۔وچ قبر دے آقا آکھن دے چھڈ دیو اے تے میرا اے٭احمد حُسین نے جرمن زبان میں مختصر پیغام دیا مگر جامع پیغام دیا کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی قیامت تک نہیں آئے گا۔نوجوان نعت خواں سید افضال حسین شاہ۔جے چمکے میری قسمت دا ستارہ۔کراں میں تیرے روضے دا نظارہ۔نوجوان نعت خواں زین العابدین نے اپنی حاضری کچھ یوں بیان کی٭جو کہ ذکر کی محفل سجائے بیٹھے ہیں۔وہ اپنے دل کو مدینہ بنائے بنائے بیٹھے ہیں ٭جرمنی کی جانی پہچانی شخصیت رانا محمد عارف قادری۔ طالبو دل کے آنگن بچھاوُ،دل کے آنگن سجاوُ۔احمد مصطفی آ گئے ہیں۔پیار کے دیپ ہر سُو جلاوُ۔آج نُو ر خُدا آ گئے ہیں۔محمد شُعیب بٹ۔ جَدُں وی یاد آندی خُشبو لینا۔ جَدوں یاد مدینہ آندا اے میں نُکرے بَے کے رُو لیناں۔ اور میں رُو رُو کے حضور نوں ایہوں عرضاں کردا رہناں ہاں۔ کہ کدی میرا آقا مدینے بلاوے٭محمد عرفان مدنی آقا ﷺکے عاشقوں میں سے ایک ہیں جو نعت پڑھتے ہوئے شاید مدینہ پہنچے ہوتے ہیں ٭آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا۔سن کر وہ مجھے پاس بلائیں تو عجب کیا۔اس پر بھی وہ دامن میں چھپائیں تو عجب کیا۔تو شاہ خوباں تو جانے جاناں ہے چہرہ اُم لکتاب تیرا٭اُستاد علماء حضرت مولانا محمد صدیق مصطفائی جب نعت پڑھتے ہیں تو آنسووں کی لڑیاں رخساروں پر بہتی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے جو پیش کیا وہ واقعی ہیرے تھے جو انہوں نے محفل میں بیٹھے فقیروں میں تقسیم کر کے خوب داد حاصل کی٭اُو دے رُتبے ناں کوئی تولے۔کِیڑا اُودی ریس کرے جیدھے مونہوں رَب بولے٭۔رب کرم کمایا اے۔سوہنڑا جہاناں لئی بنڑ رحمت آیا اے٭کوئی پانڑی وے روہڑ دیتا۔ہک تیرے ویکھنڑ تے رب کعبہ موڑ دیتا٭اے قرآن وچ آیا اے۔ ختم نبوت دا سہرا سوہنڑے نے پایا اے٭اے حدیث وچ آیا اے۔ سوہنڑے نوں اللہ نیں پُچھ پُچھ کے بنڑایا اے٭رحمت دا خذینہ اے۔لوکاں دیاں لکھ تھاراں ساڈی تھا مدینہ اے۔ اسی رَب تُوں دُعا کردے۔اکھیاں صدیق دیاں ربا سانوں وی عطا کر دے٭خطیب مسجد غوثیہ محمد صدیق پتھروی خطاب کے دوران اپنے آنسووں پر قابو پانے کی کوشش کررہے تھے لیکن وہ بے قابو ہو کررخساروں کو چومتے ہوئے گر رہے تھے جنہیں وہ بار بار سکھا رہے تھے۔ان کا فرمانا تھا کہ ٭وہ بلا لے اگر یہ بھی کچھ کم نہیں۔ان کا تشریف لانا بڑی بات ہے٭اگر وہ کرم فرما دیں تو غلاموں کو اور کیا چاہیئے میں اکثر کہا کرتا ہوں کسی کا پیر اس کے گھر میں آجائے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا تو جس کے گھر میں پوری کائنات کا پیر آ جائے اس سے بڑھ کر کیا خوش بختی اور فیروز بختی ہو سکتی ہے۔ کدی لنگدے لنگدے ساڈے گھر وی جھاتی پا جاوُ۔جے آ جاوُ تے میں خوشیاں منانواں یا رسول اللہ٭حضرت مولانا عبد اللطیف چشتی الازہری نے دوست و احباب کا شکریہ ادا کیااس کے بعد نما مغرب ادا کی گئی درود کا نظرانہ پیش کیا گیا، پوری کاونات میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے دُعائیں مانگی گئیں اور پاکستان کی سلامتی کے لئے بھی دعائیں مانگی گئیں اور محفل کے اختتام پرلنگر محمدی تقسیم کیا گیا جس میں ہر نعمت موجود تھی۔