۔،۔ افغانی صوبہ تخار میں (انیس افراد) کو سر عام اسلامی قانون کے تحت کوڑے مارے گئے۔ نذر حسین۔،۔

٭شمال مشرقی افغانستان میں انیس (19) افراد کو سرعام ٭ زنا۔چوری اور گھر سے بھاگنے ٭ کے الزام میں اسلامی قانون کے تحت کوڑے مارے گئے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/افغانستان/کابل/تخار۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد افغانستان میں کوڑوں کی یہ پہلی باضابطہ تصدیق ہے۔ افغانستان میں شرعی قانون کے نفاذ کا عظم کرتے ہوئے جمعہ کے روز شمال مشرقی افغانستان میں انیس (19) افراد کو سرعام ٭ زنا۔چوری اور گھر سے بھاگنے ٭ کے الزام میں اسلامی قانون کے تحت کوڑے مارے گئے۔ سپریم کورٹ کے اہلکار عبد الرحیم راشد نے بتایا کہ شمال مشرقی صوبہ تخار کے قصبے تالوکان میں (دس) مردوں اور (نُو) خواتین کو۔ 39 ، انتالیس۔ کوڑے مارے گئے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سزا جمعہ کو شہر کی مرکزی مسجد کے سامنے علماء اور مقامی لوگوں کی موجودگی میں نماز کے بعد دی گئی۔سزا سنانے پے قبل ان کے مقدمات کا دو عدالتوں نے جائزہ لیا تھا۔ واضح رہے اقوام متحدہ نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کے ساتھ ساتھبنیادی سیکیورٹی میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، افغانستان میں معاشی بحران کے گہرے ہونے کے ساتھ مزیذ عدم تحفظ، غربت اور تنہائی کی توقع ہے۔