۔،۔توبہ کے مسافر (آخری حصہ)۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔
میں حیرت کے شدید جھٹکوں سے گزر رہا تھا میرے قلب و باطن میں بھونچال سا آگیا تھا میں حیرت سے ساتھ آئے جاگیر داردوست کو دیکھ رہا تھا کہ یہ تم مجھے کہاں لے کر آگئے ہو تم تو یتیم بچیوں اور بے آسرا بیوہ خاتون کی بات اور مدد کا کہہ کر مجھے لائے تھے جبکہ کہ یہاں تو معاملہ ہی الٹ نکلا تھا تھوڑی مزید بات چیت کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ یہ خاتون اپنی لڑکیوں کے ساتھ جسم فروشی کا کوٹھا چلا رہی ہے آجکل گاہک یا جسم کے خریدار نہیں آرہے تھے تو اُس کو غلط فہمی ہو گئی تھی کہ کسی دشمن یا حریف خاندان نے جادو وغیرہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب گاہکوں کی آمدورفت کم ہو گئی تھی مُجھ فقیر سے یہ روحانی مدد مانگ رہی تھی کہ کوئی ایسا عمل وظیفہ روحانی منتر کریں کہ زیادہ سے زیادہ خریدار آکر کوٹھے کی رونق کو دو بالا کردیں نسل در نسل جسم فروشی کے دھندے میں رہنے کی وجہ سے بوڑھی اِس کام کو غلط نہیں سمجھ رہی تھی بڑی ڈھٹائی سے بولی پروفیسر صاحب پہلے ہمارے پیر صاحب زندہ تھے وہ آکر کئی دن ہمارے گھر ٹھہر کر علاج کرتے تھے ہم اُن کی خدمت اور نذرانہ بھی پیش کرتے تھے بچیاں ان کو دباتی بھی تھیں ہم تو اُن کی ہر طرح کی خدمت کرتے تھے جس وجہ سے یہاں پر گاہکوں کی لائن لگی ہوتی تھی اب چند سال پہلے وہ انتقال کر گئے ہیں تو ہمارا دھندہ بند ہو کر رہ گیا ہے کاروباری بندش کھولنے کے لیے میں دو تین پیروں کے پاس گئی ہوں ان کو گھر بلا کر خاطر مدارت بھی کی ہے لیکن کام کو تو جیسے کسی کی نظر ہی لگ گئی ہے اب میرے بیٹے نے اُس جاگیر دار کی طر ف اشارہ کیا آپ کی بہت تعریف کی ہے تو اب آپ سے ہاتھ جو ڑ کر منت کرتی ہوں کہ ہمارا کام جو بند ہو چکا ہے اِس کو کھول دیں آجکل تو حالات اِس قدر خراب ہو گئے ہیں کہ دال روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں اگر اِس مشکل وقت میں یہ بیٹا ہماری مدد نہ کرتا تو ہم تو فاقوں سے مر ہی جاتے یا سڑکوں پر رات کے اندھیروں میں گاہکوں کی تلاش کر تے اب بوڑھی نے مجھے نرم کر نے کیلئے زور شروع کر دیا اشاروں میں اپنی خدمت کا بھی تذکرہ کر رہی تھی میرے جسم سے دھوا ں سا نکل رہا تھا کہ یہ میں کہاں آکر پھنس گیا ہوں میں شدید پریشان ہو چکا تھا حیرت اور گھبرائی نظروں سے ساتھ آئے دوست کی طرف دیکھا جو شرمندہ شرمندہ سا بیٹھا تھا کیونکہ جو تعارف اور نقشہ اُس نے اِس خاندان کا کھینچا تھا یہاں آکر معاملہ بلکل ہی الٹ نکلا وہ بھی شرمندہ اور پریشان سا بیٹھا تھا میرے اعصاب بکھر چکے تھے میرا باطن دماغ طلا تم خیز موجوں کا شکار تھے کچھ دیر تک تو میرے خیالات منتشر رہے لیکن پھر میں نے خود کو سنبھالنے کی کو شش کی اور بوڑھی عورت کی طرف دیکھتے ہو ئے کہا میں جا کر اچھی طرح آپ کے مسئلے کا کوئی حل نکالتا ہوں پھر آپ کو طریقہ علاج بھی بتا ؤں گا مجھے دو تین دن سوچھنے کا موقع دیں پھر میں تقریبا جان چھڑا کر واپس آگیا اور فیصلہ کیا کہ دوبارہ کبھی اُس گھر پر نہیں جاؤں گا لیکن خدا ئے لازوال کا فیصلہ کچھ اور تھا مجھے اگلے ہی دن ایک لڑکی کا فون آتا ہے کہ سر میں وہی لڑکی ہوں جن کے گھر آپ کل آئے تھے میں آپ کی حالت پریشانی دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ آپ ہمارے دھندے کے بارے میں جان کر بہت پریشان ہو ئے ہیں سر میں پانچویں نمبر کی چھوٹی لڑکی ہوں سر میری چار بہنیں اِس دھندے میں ملوث ہیں جبکہ ہم چھوٹی تین بہنیں ابھی اِس لعنت سے محفوظ ہیں بلکہ پڑھ بھی رہی ہیں والدہ ہمارے لیے کسی اچھے مالدار گاہک کی تلاش میں ہیں سر کیا آپ ہمیں اِس گناہ دلدل سے نکالنے کی کو شش نہیں کریں گے یا ہماری والدہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گی سر اگر آپ نے ہماری مدد نہ کی تو روز محشر میں آپ کی بھی شکایت لگاؤں گی کہ آپ نے بھی ہماری مدد نہیں کی سر خدا کے لیے کچھ کریں ہمیں زنا کاری کے اِس گھناونے دھندے سے نکالیں سر ہمارا بھی شریف پر سکون خو شگوار زندگی گزارنے کا حق ہے پلیز ہماری مدد کریں پھر بہت رو پیٹ کر التجا ئیں کر کے لڑکی نے فون بند کر دیا اور میں سوچوں کے سمندر میں غوطے کھانے لگا کہ کس طرح معصوم لڑکیوں کو اِس دھندے سے نکالوں میں ساری رات جاگتا رہا صبح تہجد کے وقت سر سجدے میں رکھ کر خدا سے مدد کی درخواست کی تو امید کی کرن جاگی ایک راستہ نظر آیا اور پھر میں پلان بنا کر سو گیا صبح میں نے جاگیر دار صاحب کو بلا لیا اور کہا یار یہ بہت خطرناک جادو کا کیس ہے لیکن تم میرے دوست ہو اِس لیے میں تمہارے لیے یہ کام ہر حال میں کر وں گا اب میں نے روزانہ اِس سے ملنا شروع کر دیا ساتھ میں بوڑھی عورت اور لڑکیوں کو وظیفے پر لگا دیا میں جاگیر دار کے قریب ہو نا چاہتا تھا لہذا بوڑھی عورت کے گھر بھی گیا ان کو مختلف اعمال وظیفوں میں مصروف کر دیا جاگیردار میرے قریب ہو تا گیا جب پکی دوستی میں آگیا تو ایک دن کہا تم جس لڑکی کو پسند کرتے ہو یہ تمہارے لیے بہت لکی ثابت ہو گی اس سے شادی کر لو پھر اِس کو بیوٹی پارلر بنا دو باقی بہنیں بھی مصروف ہو جائیں گی اِس طرح جب یہ توبہ کر کے نیکی کے راستے پر آجائیں گی تمہاری محبوبہ بیوی بن کر ساری زندگی تمہارے ساتھ جائز رشتے میں رہے گی آخرت میں اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا جاگیر دار پر میری دوستی کا رنگ چڑھ چکا تھا اللہ کی مدد بھی آچکی تھی فوری طور پر مان گیا لہذا تین بہنوں کو میک اپ کی تربیت دلا کر اِن کو پارلر پر بٹھا دیا گیا شروع میں جب پارلر نہیں چلا تو میں نے بوڑھی سے کہا کیوں کہ آپ لوگ گناہ کر تے آئے ہو اگر آپ ماضی کے گناہوں پر توبہ کرلیں تو اللہ معافی کے رزق کے دروازے بھی کھول دے گا بات بوڑھی اور لڑکیوں کے دماغ میں آگئی اِس لیے رو رو کر خدا سے معافی اب دن رات پارلر کے چلنے کی دعا میں شروع کردیں تو بہ رنگ لے آئی چند مہینوں میں ہی پارلر چلنا شروع ہو گیا تو میں نے دوست سے کہا بوڑھی کو عمرے پر بھیجوں تاکہ نیکی اندر اتر جائے لہذا بوڑھی اپنی بیٹی او ر دوست کے ساتھ جواب اُس کا داماد بن چکا تھا عمرے پر چلی گئی عمرے پر جانے سے گناہوں کا زنگ پوری طرح سے اُتر گیا بوڑھی کے دل سے توبہ کی او رنیکی کے راستے پر گامزن ہو گئی تین بیٹیوں کی شادی باقی کو اعلی تعلیم کے لیے یونیورسٹی میں بھیجا اِس طرح ایک طوائف زادی سیدھے راستے پر آگئی اب ہم آج کے واقع پر آتے ہیں جہاں ایک طوائف زادی جسم فروشی کا فتوی یا راستہ مانگ رہی تھی میں نے اپنے حلقے میں ان دوستوں کے بارے میں غور کر نا شروع کیا جو اِس ماں بیٹی کی مدد کر سکتے ہوں تو اچانک مجھے غازی الحاج یاد آگیا جو میرے پاس ایک بار اپنے ڈرائیور کے مسئلے کے لیے آئے تھے آکر کہنے لگے جناب میں نے بارہ حج چالیس عمرے کئے ہیں لوگ مجھے غازی الحاج کہتے ہیں کیونکہ میں روس کے خلاف افغانستان میں جنگ بھی لڑ چکا ہوں بہت خیرات صدقہ کرتا ہوں لیکن قلب و روح کی بے چینی نہیں جاتی میں کوئی ایسی نیکی کرنا چاہتا ہوں جو قبول ہو اور دل کی بے قراری کو چین بھی آجائے اب میں نے سامنے بیٹھی عورت سے کہا اگر آپ کی بیٹی کی شادی اچھی جگہ کرادوں آپ بھی داماد کے گھر میں رہیں تو کوئی اعتراض تو بیٹی بولی سر آپ رشتہ دیکھیں میں ماں کو منا لوں گی لہذا اگلے دن میں غازی صاحب سے ملا اور کہا آپ کے دو بیٹے ہیں جو شادی کر کے امریکہ میں رہتے ہیں آپ اپنے بھانجے ڈرائیور کے ساتھ اکیلے ہیں بھانجے کے والدین نہیں ہیں تو ایک رشتہ ہے جس میں نیکی بھی ہے پھر ساری بات بتا دی لہذا چند دنوں بعد بیٹی کی شادی غازی صاحب کے بھانجے سے کرا دی ایک سال بعد حاجی صاحب نے پیار سے میرے ہاتھ پکڑ لیے اور بولے پروفیسر صاحب میں جوسکون چاہتا تھاوہ اِس نیکی سے مل گیا اور سچی تو بہ بھی نصیب ہو گئی۔