۔،۔باریاں اوریاریاں۔محمد ناصر اقبال خان۔،۔
پاکستان میں معاشی استحکام کا آفتاب صرف سیاسی استحکام کے افق پرطلوع ہوگا لہٰذاء وطن عزیز کودرپیش سیاسی عدم استحکام سے نجات کاانحصار سیاستدانوں کے بیانات نہیں اقدامات پر ہے۔سیاستدانوں کاایک دوسرے کیلئے شدید نفرت اورعدم برداشت کارویہ عوام کوریاست اورسیاست دونوں سے مایوس کررہا ہے۔ سیاسی برادری خودپرعوام کااعتماد بحال اوران کامعیارزندگی بلند کرنے کیلئے رواداری اوربردباری کوفروغ دے۔ ہمارا معاشرہ سیاستدانوں کوریاست اورمعیشت کی قیمت پراشتعال انگیزی اوراحتجاجی سیاست کی اجازت نہیں دے سکتا۔سیاستدان ایک دوسرے کوپچھاڑنے کیلئے ملک اجاڑنے کے درپے کیوں ہیں۔ بااثر سیاستدانوں نے پاکستان کے اندر اپنااپنا پاکستان بنایاہوا ہے۔پاکستان کے اندرعام پاکستانیوں کی کوئی وقعت اوراوقات نہیں، عام آدمی کامستقبل مستقل خطرے میں ہے۔قیادت اورحقوق سے محروم عوام کئی دہائیوں سے مضطرب اور کسی نجات دہندہ کے منتظر ہیں۔ سیاستدانوں کوجس کام کیلئے منتخب ایوانوں تک رسائی دی جاتی ہے اس کیلئے وہ میدانوں کارخ کیوں کرتے ہیں۔ان سیاستدانوں کی پوزیشن ضرور بدلتی ہے لیکن ان کے بیانات تبدیل نہیں ہوتے۔کپتان وزیراعظم تھا توشہبازشریف اورآصف زرداری اسلام آباد کی طرف مارچ کاڈھول پیٹ رہے تھے،آج شہبازشریف تخت اسلام آباد پربراجمان ہے توعمران خان اپنے حامیوں کے ساتھ اس کیخلاف شاہراہوں پر ہے۔میں سمجھتا ہوں ایک طرف شہبازشریف کو محض میڈیا کی حدتک مذاکرات کی رٹ لگانے کی بجائے اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ ڈائیلاگ کی راہ ہموار کرناہوگی اوردوسری طرف اسے راناثناء اللہ خاں سمیت اپنے مخصوص وزراء کواشتعال انگیز بیان بازی سے روکنا ہوگا۔ شہبازشریف اورآصف زرداری سمیت اتحادیوں نے بھی عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کامیاب بنانے کیلئے بڑی بڑی ڈینگیں ماری تھیں،جس اسحق ڈار کومعیشت کیلئے مسیحا بتایاجارہا تھا وہ بھی ڈالر کے مقابل ڈھیر ہوگیا۔ اسحق ڈار کے پیشروہم منصب مفتاح اسماعیل نے بھی وزارت مالیات کی ناقص کارکردگی کابھانڈہ پھوڑدیاہے۔اللہ نہ کرے پاکستان دیوالیہ ڈکلیئر ہو لیکن خدشات کے باوجود وفاقی حکومت اپنی ترجیحات تبدیل اورسمت درست کرنے کیلئے تیار نہیں۔معیشت پروفاقی وزیروں اورمشیروں کابوجھ ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔وفاقی حکومت اپنی نوازشات اورعنایات کارخ اپنے اتحادیوں کی بجائے محروم طبقات کی طرف موڑے۔دوسری طرف اپوزیشن کوبھی صرف اپنی سیاسی پوزیشن عزیز ہے،عمران خان عام آدمی کے ایشوزپرکوئی سنجیدہ بات نہیں کرتا، اس کے مخصوص جملے اور اتحادی حکومت پرسیاسی حملے عوام کی محرومیوں کامداوانہیں کرسکتے۔میں سمجھتا ہوں استعفوں کی سیاست ریاست اورمعیشت پرڈرون حملے کے مترادف ہے،اس اقدام سے ملک میں نیا ہیجان اوربحران پیداہوگاجبکہ نیم مردہ معیشت کی حالت مزید نازک ہوجائے گی۔ عوام نے پی ٹی آئی کوپانچ برس کیلئے چنا ہے لہٰذاء وہ منتخب ا سمبلیوں کی آئینی مدت پوری ہونے کاانتظار اور وہاں اپنا فعال کردارادا کرے۔شاہراہیں بند اورشہریوں کو پریشان کرنے سے ملک میں عام انتخابات کابگل نہیں بجے گا۔کپتان میدان سے زیادہ ایوان میں متحدہ حکومت میں شریک نیب زدگان کامحاسبہ اورمحاصرہ کرسکتا ہے، اگر پی ٹی آئی نے اسلام آباد کاایوان خالی نہ چھوڑاہوتا توحکمران اتحاد احتساب کے شکنجے سے نجات کیلئے نیب میں نقب لگانے میں ہرگزکامیاب نہ ہوتا۔پارلیمنٹ میں واپس نہ جانے کی بیجا ضد کے بعد کپتان کاپنجاب اورخیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان سٹاک مارکیٹ کو زمین بوس کرگیا۔ بہتر ہوگاعمران خان جذبات کی رومیں سیاسی فیصلے نہ کرے۔اسے اپنے سیاسی اتحادیوں سے مشاورت کی اشد ضرورت ہے، پی ٹی آئی کے عمائدین انتہائی قدم اٹھانے کے بعد آپس میں مشاورت کرتے ہیں۔ یادرکھیں جس طرح کنواں صاف کرنے کیلئے اس میں اترنا پڑتا ہے اس طرح نظام کی تبدیلی بھی نظام کے اندررہے بغیرنہیں ہوسکتی ہے،کپتان ایوان سے باہر بیٹھ کربڑی بڑی ڈینگیں تومارسکتا ہے لیکن اس طرح نظام میں ڈینٹ نہیں پڑے گا۔شریف خاندان کی طرح کپتان کے جذباتی طرز سیاست اوراس کی منتقم مزاجی نے بھی پاکستان کوشدیدنقصان پہنچایا ہے۔اگروہ اپنے حامی ارکان اوراتحادی جماعت کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر اپنا بھرپورآئینی کراداراداکرتا تویقینااسے نیب کے اختیارات کی بحالی کیلئے عدالت عظمیٰ کادروازہ نہ کھٹکھٹاناپڑتا۔راقم کے نزدیک عمران خان خود بھی ایمپورٹڈ حکومت کا خاموش سہولت کار ہے،اگر وہ بحیثیت وزیراعظم اناپرستی،خودپسندی اورہٹ دھرمی کامظاہرہ نہ کرتا توشاید اس وقت اقتدارمیں ہوتا۔اس نے اپنے اقتدارکے دوران بردباروں کی بجائے بزداروں،واوڈوں کے ساتھ ساتھ” سیاسی کنواروں ” اور”سیاسی گنواروں ” سے مشاورت کواہمیت دی اورنتیجتاً اسے اپنے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں قبل از وقت وزارت عظمیٰ کے منصب سے محروم ہوناپڑا۔ عمران خان اقتدار سے محرومی کے بعد عوام میں مزید مقبول ہوگیا لیکن وہ بھی اپنے ہم عصر سیاستدانوں کی طرح وزارت عظمیٰ کیلئے معقول نہیں۔عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو”صادق وامین “کاخطاب دیا تھاتاہم موصوف نے خوداپنے ہاتھوں سے اس اعزازکی دھجیاں بکھیردیں۔ کیاعمران خان کوفاقوں کاسامنا تھا جواسے گھڑی بیچنا پڑی۔گھڑی کے معاملے میں عمران خان کی اپنے دفاع میں دوہائیاں اورصفائیاں سنجیدہ عوام نے مستردکردی ہیں۔ملک میں چناؤ چناؤ کی رٹ لگانیوالے اپنے الفاظ کاچناؤ بہترکیوں نہیں کرتے۔عمران خان کواپنے متعدد انٹرویوز اوربیانات کی بعدازاں تردید یاوضاحت کرناپڑتی ہے،اگر کپتان کو ہرموضوع پر بولنا ہے توپھراسے تولناہوگا۔1990ء کی دہائی میں بھی نفرت کی سیاست کاسورج سوا نیزے پرتھالیکن رواں دہائی میں گالی،گولی،نفرت اورنفاق کی سیاست ریاست کیلئے شدیدخطرہ ہے،سیاستدانوں کی مجرمانہ روش کے نتیجہ میں سنجیدہ عوام ان سے متنفر اوربیزار ہور ہے ہیں۔سیاستدان ایک دوسرے کیخلاف بلیم گیم پراپنی توانائیوں کے ضیاع کی بجائے انصاف کے ایوانوں میں شواہد کی بنیاد پرایک دوسرے کوایکسپوزکیوں نہیں کرتے۔سیاستدان ایک دوسرے کوبدنام کرتے وقت یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس طرح سیاست رسوا جبکہ ریاست کمزورہوتی ہے۔سیاستدانوں کو”میثاق ریاست” کیلئے ایک قومی ضابطہ اخلاق بنانااوراس کاپہرہ دیناہوگا۔انہیں ایک ودسرے کاہاتھ کاٹنا یا جھٹکنانہیں بلکہ تھامنا ہوگا۔اس وقت کوئی سیاسی جماعت تنہا ریاست کودرپیش چیلنجز سے نبردآزمانہیں ہوسکتی۔جس طرح تحریک قیام پاکستان کے وقت سیاسی قیادت متحدومستعد تھی اس طرح استحکام پاکستان کیلئے بھی سیاستدانوں کوبھرپوراخلاص کے ساتھ اتحاد ویکجہتی کامظاہرہ کرناہوگا۔ماضی میں بھی دھرنوں اوردھونس کی سیاست نے ریاست کو کمزورکیا اورستر کی دہائی میں تواِدھرہم اُدھر تم کی منفی سوچ نے پاکستان کابٹوارہ کردیا تھالیکن افسوس متعدد سیاسی سانحات کے باوجود سیاستدانوں نے بردباری کاراستہ اختیار نہیں کیا۔زیادہ ترسیاستدانوں کولگتا ہے وہ حکومت میں آئے بغیرریاست کی خدمت یاتعمیری سیاست نہیں کرسکتے اسلئے وہ اقتدار کیلئے اقدار کو روندتے ہیں۔جوسیاستدان اقتدارمیں ہوں انہیں توآئین اورپانچ سال کامینڈیٹ یادرہتا ہے لیکن جس کواپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا پڑجائے وہ صبح شام انتخابات کی رٹ لگاتاہے۔کیا ہمارامقروض اورمعاشی طورپرمفلوج ملک بار باراوربے سود انتخابات کامتحمل ہوسکتا ہے،سیاستدانوں کی” باریاں ” اور”یاریاں ” عوام کے ناتواں وجود کیلئے” بارِگراں ” ہیں۔کیاانتخابات کیلئے ناگزیر وسائل آسمان سے برسیں گے یازمین اگلے گی۔یادرکھیں سیاسی بے یقینی کی کوکھ سے بے چینی کاجنم ہوتا ہے جبکہ بے یقینی اوربے چینی دونوں کیفیات معاشی سرگرمیوں کیلئے زہرقاتل ہیں۔جس ملک میں سیاسی خلفشار ہووہاں بیرونی سرمایہ کاروں کی آمد تودرکنارمقامی انوسٹر بھی وہاں سے ہجرت کرجاتے ہیں۔پاکستان میں افہام وتفہیم کے ساتھ دفاعی قیادت کی تبدیلی سے آنیوالے دنوں میں سیاسی منظر نامہ ضرور تبدیل ہوگا،یقینا نیا سپہ سالار اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلنا پسند نہیں کرے گاکیونکہ یہ راستہ ہزیمت کی بندگلی میں جانکلتا ہے۔یادرکھیں بدترین بدنامی کے بعدکوئی گمنامی میں نہیں جاسکتا،انسان کاسایہ اورماضی زندگی بھر ساتھ ساتھ چلتا ہے۔پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی اٹھان کے بل پر یقینا پاکستان بھی ٹیک آف کرے گا۔جنرل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج ہرمیدان اورامتحان میں کامیابی وکامرانی کا جھنڈا گاڑے گی۔ افواج پاکستان کے نڈر اورزیرک کمانڈر کاسنیارٹی کی بنیاد پرانتخاب نوید انقلاب ہے۔پاک فوج میں حالیہ تبدیلی سے بے یقینی ختم جبکہ ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہوئی۔ امید ہے پاک فوج میں قیادت کی تقرری کیلئے ہربار سنیارٹی کااصول اپنایاجائے گا۔ سپہ سالار کی ایکسٹینشن کاباب مستقل طورپر بندکرنے میں عفت اور عافیت ہے۔ پاک فوج کی کمانڈ تبدیل ہو ناپاکستانیوں کیلئے تازہ ہوا کاجھونکاہے،افواج پاکستان کے فرض شناس جانباز پاکستانیوں کی دعاؤں اوروفاؤں کامحور ہیں۔ پاکستان کے دفاع کیلئے افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، دشمن کیخلاف بھرپورمزاحمت جبکہ جانبازوں کی قابل فخر شجاعت اوران کے شوق شہادت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ مادروطن کی حفاظت کے دوران پاک فوج کے سرفروش جوانوں کی قربانیاں ناقدین اورحاسدین کی زبانیں بندکرنے کیلئے کافی ہیں۔پاک فوج ہزاروں شہداء اورغازیوں کی وارث ہے،سوشل میڈیا پربیٹھے مٹھی بھر شتر بے مہار افواج پاکستان کیخلاف زہرافشانی کاسلسلہ بندکردیں ورنہ عوامی سطح پر ا ن کامحاسبہ ہوگا۔ پاک فوج کاڈسپلن اس کااعزاز اورطرہّ امتیاز جبکہ ا س کاتابناک ماضی اس کے روشن مستقبل کاغماز ہے تاہم قیام پاکستان سے اب تک جس کسی جرنیل نے سیاسی مہم جوئی کامزالیا وہ اپنے معاملات کاخود جواب دے گا۔ماضی میں جنرل(ر)مرزا اسلم بیگ،جنرل (ر)حمیدگل اورجنرل (ر)راحیل شریف سمیت جس دفاعی قیادت نے سیاست میں مداخلت سے گریزکیا وہ آج بھی پاکستانیت کااستعارہ اور قوم کی آنکھوں کاتارا ہیں۔ فرض شناس اورنبض شناس سپہ سالارجنرل سیّد عاصم منیر کی دوررس اصلاحات اوردبنگ اقدامات سے پاک فوج کا مورال اوروقار مزید بلند ہوگا۔