۔،۔ عالمی سازش کا خمیازہ ۔طارق حسین بٹ شان۔،۔

اس کرہِ ارض پر اسرائیل کے نام پر جو صہیونی ریاست قائم ہوئی وہ پوری انسانیت کیلئے سنگین خطرہ سے کم نہیں ہے۔اس نے امن، آزادی اور حریت و فکر کے شجر کو جس طرح بے برگ و بار کیا ہے اس کیلئے کسی سے گواہی لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیا اس کی کرتوتوں سے بخوبی واقف ہے۔اس نے ارضِ فلسطین پر اس کے حقیقی شہریوں کے حق کو جس طرح پامال کر رکھا ہے تاریخ ِ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مسلمان طاقت و حشمت سے محروم ہو ئے تو برطانیہ،امریکہ اور یورپ اسرائیلی قیام کے عقب میں کھڑے ہوگے۔ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق ایک کمزور، نحیف اور شکست خوردہ مسلم امہ کرہِ ارض کی سپر پاور کے سامنے کھڑے ہونے کی سکت نہیں رکھتی تھی لہذا اس کی سر زمین پر صیہونیت کو قدم جمانے کا موقعہ دیا گیا۔عربوں کے دل میں ایک ناجائز ریاست کا خنجر پیوست کیا گیا اور عربوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیں۔شکست خوردہ قوم کے بازوؤں سے طاقت عنقا ہو جاتی ہے لہذا اس کے بازوؤں میں شمشیر اٹھانے کی قوت باقی نہیں رہتی۔مسلم امہ کے پلے کچھ نہیں تھا،وہ ایک ایسے قافلہ کی مانند تھی جسے دن کی روشنی میں لوٹ لیا گیا تھا۔ اسرائیلی ریاست مسلم امہ کے سینے پر بزور قائم ہوئی جسے روکنا مسلم امہ کے بس میں نہیں تھا کیونکہ وہ شکست خوردہ تھی اور کوئی قوم اس کی ہمدردو مدد گار نہیں تھی۔مسلم امہ کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ (ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مِرگِ مفاجات)۔وہ اب بھی ماضی کے دلکش افسانوں،قصوں اور کہانیوں سے اپنی عظمت اور اس کے شکوہ کی متلاشی تھی۔قومیں گفتار سے نہیں کردار سے اپنا سکہ جماتی ہیں۔مسلم قوم عمل، جدوجہد اور طاقت و قوت کے ممکنہ اثرات کو فراموش کر چکی تھی لہذا وہ راکھ کا ایک ایسا ڈھیربن گئی جس میں کوئی جنگاری باقی نہیں تھی۔(راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے) جبکہ شعلہ اور چنگاری ہی تو عینِ حیات ہوتی ہے۔راکھ کے ڈھیر کو چنگاری میں بدلنے کیلئے اقبال نے مسلم امہ کی غیرت کو جھنجوڑا تھا اور اسے اپنی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے کا سبق دیا تھا۔ (غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں۔،۔ پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا)ایک دوسری جگہ یوں خطاب کرتے ہیں۔(تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں۔،۔ کچل ڈلا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا)۔،۔لیکن جب مسلما نوں نے اپنی اصل سے رو گردانی شروع کر دی اور فکرو عمل سے ہاتھ کھینچ لیا تو اسے برملا کہنا پڑا(تجھے آبا ء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی۔،۔کہ تو گفتار وہ کرادر تو ثابت وہ سیار ا)۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد مسلم امہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو چکا ہے۔باہمی جنگوں،انتشار اور شکست خوردگی سے مسلم قوم کے بازو شل ہو چکے تھے جس کا بھر پور فائدہ مخا لفین نے اٹھا یا۔سراپا عمل و حرکت کی خو گر قوم سستی کاہلی اور تن آسانی کا مجسمہ بن گئی لہذا اس کا یہی انجام ہو نا تھا۔اس کے ساتھ جس طرح کا بیہمانہ سلوک روا رکھا گیا وہ انتہائی گھٹیا اور شرمناک تھا۔ چند ممالک عالمی معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور مسلم امہ اس پر اپنی مہر ِتصدیق ثبت کر دیتی تھی۔عالمی معاملات میں اس کی کوئی آواز نہیں تھی۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی بلکہ اس کا وجود کسی حباب سے زیادہ نہیں تھا۔سچ تو یہ ہے کہ حباب ایک ہلکی سی پھونک سے پھٹ جاتا ہے اور اس کی اپنی ہستی مٹ جاتی ہے۔اسرائیل کے قیام کا واحد مقصد عربوں کو نکیل ڈالنا تھا جوانھیں ڈال دی گئی تا کہ وہ سر اٹھا کر چل نہ سکیں۔اگر ہم مشرقِ وسطی کے نقشہ پر نظر دوڑائیں تو فلسطین،مصر،اردن اور شام کی سرحدیں اسرائیل سے ملتی ہیں جو اپنے رقبہ کے لحاظ سے اسرائیل سے کئی گنا بڑے ممالک ہیں لیک ان تمام ممل کی مجموعی قوت بھی اسرائیل کے سامنے کھڑی ہونے کے اہل نہیں تھی کیونکہ انھوں نے تن آسانی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔آبادی اور وسائل کے لحاظ سے اسرائیل ان ممالک کے سامنے بالکل نوزائیدہ بچے کی مانند تھا لیکن اس بچے نے عربوں کو حزیمت سے ہمکنارکرکے سب کو حیران کر دیا۔دنیا عربوں کی شکست پر شسدر رہ گئی کیونکہ تاریخ ِ عالم تو عربوں کی جرات و بسالت، شجاعت اور محیرالعقول واقعات سے بھری پڑی ہے۔کسی زمانے میں عرب فاتحِ عالم تھے اور ان کی شمشیروں کی جھنکار سے دنیا خائف رہتی تھی،یورپی اقوم ان کی شجاعت سے لرزاں رہتے تھے کیونکہ وہ میدانِ جنگ میں پیٹھ دکھانے کو اپنی توہین سمجھتے تھے۔اہلِ یورپ صلیبی جنگوں کی شکست کو بھولے نہیں تھے لیکن پھر یکا یک کیا ہوا کہ وہی عرب ایک چھوٹی سی صیہونی ریاست سے شکست کھا گے؟یہ ناقابلِ یقین تھا لیکن ایسا ہی ہوا تھا۔،۔عرب ریت میں اوندھے منہ گرے ہوئے تھے اور اسرائیلی سپاہی ان کے سینوں پرصیہونی فتح کی مہریں ثبت کر رہے تھے۔ پوری امتِ مسلمہ سکتے میں تھی کیونکہ ان کی صدیوں کی جوانمردی، بہادری اور سر فروشی کو داغ لگ گیا تھا۔،۔علامہ اقبال نے تو کئی سال پہلے کہ دیا تھا (آ تجھ کو بتا تا ہوں تقدیرِ امم کیا ہے۔،۔شمشیرو سناں اول طاؤس و رباب آخر)۔ اب اگر کوئی اس کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاؤس و رباب کے شغف کی موجو دگی میں عدو کو خاک چٹوا سکتا ہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔مصری قوم کے ہیرو جمال عبدالناصرکے اس نعرہ کے باوجود کہ مجھے اپنے عرب ہونے پر فخر ہے اسرائیلی جنگ میں اس کے ملک ِ مصر کا جو حشر ہوا وہ بیان سے باہر ہے۔ایک ہی دن میں اس کی سپاہ کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا اور اس کی فضائیہ مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔جمال عبدالناصر نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا جسے قوم نے رد کر دیاتھا۔وہ جمال ابدالناصر سے سرائیل کو شکست دینے کا معجزہ چاہتی تھی لیکن قومیں ایسے ہی معجزے سر زد نہیں ہوتے(بے وجہ زمانے میں ابھرتی نہیں قومیں)۔سچ تو یہ ہے کہ اس کیلئے خو نِ ِ جگر دینا پڑتا ہے۔سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ٹھونسنے اور انھیں راہ سے ہٹانے کی بجائے قوم کی تربیت،،قوت،جوانمردی اور اس کی شجاعت پر زور دینا پڑتا ہے۔اقتدار کو ذتی اغراض و مقاصد کی سیڑھی بنانے والوں کا ایسا ہی انجام ہوا کرتا ہے۔وہ ایک کمزور،چھوٹے اور صغیر دشمن سے مفتوح ہو جاتے ہیں۔بابل کے حکمران بخت نصر نے اسرائیلی قوم کو خانہ بدوش بنا دیا تھا اور اس کیلئے زمین تنگ کر دی تھی لہذا وہ قوم صدیوں صحرا نوردی کا ستعارہ بنی رہی۔رہی سہی کسر اسلام کی آمد سے پو ری ہو گئی تھی۔اسرائیلی قوم جو غزوہِ خیبر میں ہمیشہ کیلئے منتشر اور در بدر ہوگئی تھی اسی صحرا نورد قوم کے ہاتھوں عربوں کو ناقابلِ فراموش شکست سے دوچار ہونا پڑا جو فہم و ادراک سے ماوراء ہے۔ عربوں کے نام سے تھر تھر کانپنے والی قوم نے عر بوں کا ناطقہ بند کر دیا اور اس کی سر زمین پر اپنے پنجے گاڑ کر انھیں اپنا محکوم بنا لیا۔مصر کا صحرائے سینا اسرائیل کے ہاتھ لگ گیا،شام کو اپنی گولان پہاڑیوں سے ہاتھ دھونے پڑے،اردن سے اس کا مغربی کنارا چھن گیا اور لبنان کا اہم علاقہ اسرائیل کے قبضہ میں چلا گیا۔ اسرائیلی ریاست جو ایک انتہائی چھوٹی سی ریاست تھی وسعت پذیر ہوتی گئی۔اب وہ دنیا کی بڑی ریاست ہے اور عرب اس کے نام سے خائف ہیں۔کل اور آج میں یہی فرق ہے کہ فاتح مفتوح ہوگے اور مفتوح فاتح بن گے۔فکرِ اقبال یہ ہے کہ حس و خاشاک سے شعلہ نہیں دبا کرتا بلکہ وہ تو اسے اور بڑھکانے کا باعث بن جاتا ہے۔اقبال کو یقینِ کامل ہے کہ وہ قوم جسے ملائیت نے تھپکیاں دے کر اور تقدیر کی افیون پلا کر فکرو عمل سے دور کر دیا تھا ایک دن ملائیت کے بچھائے گے جال سے نکل آئے گی۔(تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میں۔،۔ کہتے ہیں جسے سب تقدیر کا زندانی)۔،۔(جاری ہے)