۔،۔سقوط قابل کے بعد سے اب تک صرف (چار) افغان مہاجرین برطانیہ آباد ہوئے۔ نذر حسین۔،۔

٭برطانیہ کے ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق سقوط قابل کے بعد جن لوگوں کو بچایا گیا یا محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ان میں سے صرف (چار) افغان پناہ گزینوں کو بنیادی بحالی کی اسکیم کے تحت برطانیہ میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/افغانستان۔کابل/برطانیہ۔ سقوط قابل کے بعد سے اب تک صرف (چار) افغان مہاجرین برطانیہ آباد ہوئے ہیں یہبرطانیہ کے ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق سقوط قابل کے بعد جن لوگوں کو بچایا گیا یا محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ان میں سے صرف (چار) افغان پناہ گزینوں کو بنیادی بحالی کی اسکیم کے تحت برطانیہ میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے، جس کا اعلان اگست میں کیا گیا تھا جبکہ اعلان کے مطابق پہلے سال میں پانچ اور اگلے پا نچ سالوں میں کم از کم (بیس ہزار) افغانی باشندوں کو آباد کرنا تھا، لیکن عملی طور پر برطانیہ میں پہلے سے موجود تقریباََ سات ہزار کے قریب مہاجرین کو رہنے کے لئے لامحدود رہائش دی جا چکی تھی جس کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف چار افراد کو برطانیہ میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ جبکہ خیراتی اداروں نے افغان مہاجرین کو اکیلا چھوڑ دینے اور بیرون ملک کے کمزور لوگوں کے لئے برطانیہ میں محفوظ راستے بند کرنے پر متعلقہ وزارتوں کی شدید مذمت کی ہے جبکہ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ صورتحال پیچیدہ ہے اور ہمیں بہت سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر نیلم رائنا، ایک ماہر تعلیم جنہوں نے افغانستان سے بھاگنے پر مجبور مہاجرین کی حمایت کی ہے، نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کو دوبارہ آباد کرنے کا منصوبہ صرف اپنی موجودگی کے اظہار کیلئے بنایا گیا تھا۔ یہ ایک مبہم اور غیر منصفانہ نظام ہے جس میں منافقت اور تاخیر شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہیں بتایا گیا کہ آبادکاری کے منصوبے تک کیسے پہنچا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں یو این ایچ سی آر افغانستان سے آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔