۔،۔فرینکفرٹ سے متصل شہر نیو آئزن برگ میں بچوں نے میلاد مصطفی منا کر دل جیت لئے۔ نذر حسین۔،۔

٭ بچوں نے فرینکفرٹ سے متصل شہر نیو آئزن برگ میں میلاد مصطفی ﷺ منا کر لوگوں کے دل جیت لئے اس کا سہرا یقیناََ پاکستانی نثراد خاتون مرینہ حسین اور بچوں کے والدین کے سر سجایا جاتا ہے، جنہوں نے دن رات کی محنت کے بعد میلاد مصطفی کی محفل سجائی٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/نیو آئزن برگ۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے جنوب میں واقع شہر نیو آئزن برگ میں پاکستانی نثراد خاتون مرینہ حسین جو کسی تعارف کی محتاج نہیں نے بچوں کے والدین کے تعاون اور نیو آئزن برگ کی کمیٹی سے مل کر ایک ہال میں میلاد مصطفی ﷺ کا خوبصورت اہتمام کیا جس میں بچوں نے ایک جیسی ٹوپیاں اور لڑکیوں نے پیلے دوپٹے پہنے ہوئے میلاد میں حصّہ لیا۔ خصوصی مہمان کے طور پر عذرہ حسین اور مہوش افتخار تشریف لائی تھیں، محفل کا آغاز مرینہ حسین نے کچھ اس طرح کیا٭ چاروں طرف نور ہی نور یہ کس کی آمد کی خوشی ہے یقیناََ آمد رسول ﷺ کی خوشی منائی جا رہی ہے چاروں طرف نور پھیلا ہوا ہے۔دریاوں اور چشموں کی بل کھاتی روانی میں ترنم صد ہزار کیوں ہے،ہوائیں ترنم ریز اور عطر بیز کیوں ہیں،فضائیں عنبر یار کیوں ہیں،وقت کا ہر لمحہ سر خوشی و سر مستی سے ناچ رہا ہے، کائنات کا گوشہ گوشہ وفور شوق سے غرق آب و تاب ہے کلیاں مسکرا رہی ہیں، گل لالہ کا بانکپن جوش شباب میں ہے، خانہ کعبہ کے دیوار و در مارے خوشی کے نہال ہوتے جاتے ہیں،کفر و شکر سجدہ ریز ہو گئے ہیں، ظلمت کدے تھر تھر کانپ رہے ہیں، رحمت کدے آباد ہوا چاہتے ہیں،اجالا ہر سو پھیل رہا ہے٭ اسی دوران بچے صلواۃ و رسول ﷺ پڑھتے ہوئے ہال میں داخل ہوتے ہیں ان کے ہاتھوں میں سبز جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے سب کی زبان پر ایک ہی آواز تھی ٭نور والا آیا ہے نور لے کر آیا ہے،کیسا نور چھایا ہے اصلوۃ و سلام علیکم یا رسول اللہ اصلوۃ و سلام علیکم یا حبیب اللہ۔ سرکار کی آمد مرحبا دلدار کی آمد مرحبا۔اس کے بعد محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس میں عمر،عبد احادی، سانائے۔وجیعہ اور کشف نے تلاوت سنائی،،نعت شریف، عبد الحادی نے اسلامی مہینوں کے نام سنائے، ہادیہ اور رابعہ۔ سویرا اور مشال نے نعت رسول ﷺ سنائی بچوں نے اللہ کریم کے اسماء حسنی سنائے،عمرہ کی فضیلت وجیعہ بچوں نے چھوٹی چھوٹی تقاریر بھی کیں جس میں توحید کا مطلب، بارہ ربیع الاول، ایمان، فرمان رسول، صبر کے بارے میں حضور اکرم ﷺ کا فرمان شامل تھے اسی دوران نماز عصر اور مغرب بھی ادا کی گئی بچوں نے ہی آزان بھی دی، پھر بچوں کو پہلے تمغے دیئے گئے۔ تقاریر میں پہلا۔ دوسرا اور تیسرا انعام دیا گیا سوالات کے جواب دینے والے بچوں کو بھی تحائف دیئے گئے، نعت پڑھنے والوں کو بھی باقاعدہ طور پر انعامات سے نوازہ گیا بچوں کی خوشی کا اندازہ ان کے چہروں سے لگایا جا سکتا تھا، مرینہ حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تن تنہا والدین سے مل کر پاکستان کے قومی دن جیسا کہ چودہ اگست یوم پاکستان، عیدین، اور میلاد مصطفی کا پروگرام ترتیب دیتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ میں مشکور ہوں نیو آئزن برگ اور ڈیٹزن باخ کے سرکاری اہلکاروں کا کہ وہ مجھے ایسی تقریبات کے لئے ہال فراہم کر دیتے ہیں۔ میری کوشش یہی ہے کہ یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو دینیات کی تعلیم سے آراستہ کروں، قومی دنوں جیسا کہ یوم پاکستان، مذہبی دن (تہوار) عید الفطر اور عید الاضحی، میلاد مصطفی بارہ ربیع الاول ان سب کو میں عبادت کا حصّہ سمجھتی ہوں، میری پوری کوشش ہے کہ میں بچوں کو اپنی قومی زبان اردو سکھا سکوں جس پر میں دن رات کام کر رہی ہوں۔ دنیا کے تمام آزاد ملک اپنی پہچان رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بتانا ہمارا فرض ہے، اپنے ملک کی ثقافت اپنے بچوں تک پہنچانا والدین کا فرض ہے۔ بچوں نے میلاد مصطفی کی خوشی میں کیک بھی کاٹا محفل کے اختتام پر سب نے مل بیٹھ کر کھانا کھایا۔