۔،۔ایران نے اپنی نام نہاد اخلاقی پولیس کو ختم کرنے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔نذر حسین۔،۔

٭امریکا کے محکمہ خارجہ نے ایران کی اپنی نام نہاد اخلاقی پولیس کو ختم کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے خواتین کے ساتھ سلوک کو بہتو بنانے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/واشنگٹن/تہران۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اور میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ایران نے اخلاقی پولیس کو ختم کر دیا ہے جبکہ اس رپورٹ کے نشر ہونے کے بعد ایران کے سرکاری میڈیا نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ مذہبی(اخلاقی پولیس) کو ختم کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے ٭گشت ارشاد٭ کے نام سے معروف اس پولیس فورس کو۔2006۔ میں قائم کیا گیا تھا جبکہ گشت ارشاد کو لازمی حجاب سمیت سخت ضابطہ لباس کی تعمیل کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ایران میں ستمبر کے وسط سے حکومت خلاف مظاہروں کا سلسلہ اس وقت جاری ہوا تھا جب تہران میں (بائیس) سالہ مہسا امینی کی مبینہ طور پر حجاب کے لازمی قانون کی پاسداری نہ کرنے پر گرفتاری اور پھر اچانک پولیس کے زیر حراست ٭موت٭ کے در عمل میں شروع ہوئے تھے۔ ایرانی سیکورٹی فورسز کی کریک ڈاون کاروائیوں میں سینکڑوں مظاہرین کو ہلاک کر دیا گیا ہے یا ہلاک ہو چکے ہیں۔