۔،۔اِنَا لِلّہِ وَ اِنَا اِلَیہِ رَاجِعُونَ۔شبیر احمد کھوکھر کے بڑے بھائی قضائے الہی سے وفات پا گئے۔نذر حسین۔،۔

٭شبیر احمد کھوکھر کے بڑے بھائی٭حاجی بشیر احمد نقشبندی٭ پاکستان میں شدید علالت کے باعث قضائے الہی سے دسمبر کے آخری ایام میں وفات پا گئے،اسی سلسلہ میں شبیر احمد کھوکھر پاکستان روانہ ہو گئے تھے (اٹھائیس دسمبر کو ان کے ایصال ثواب کے لئے ختم قُل و اجتماعی دُعا بھی فرمائی گئی۔اِنَا لِلّہِ وَ اِنَا اِلَیہِ رَاجِعُون۔۔٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/شادیوال/پاکستان۔ شبیر احمد کھوکھر کے بڑے بھائی٭حاجی بشیر احمد نقشبندی٭ پاکستان میں شدید علالت کے باعث قضائے الہی سے دسمبر کے آخری ایام میں وفات پا گئے،اسی سلسلہ میں شبیر احمد کھوکھر پاکستان روانہ ہو گئے تھے (اٹھائیس دسمبر کو ان کے ایصال ثواب کے لئے ختم قُل و اجتماعی دُعا بھی فرمائی گئی۔اِنَا لِلّہِ وَ اِنَا اِلَیہِ رَاجِعُون۔۔پاکستان جرمن پریس کلب کے تمام عہدہ داران آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ہماری دُعا ہے کہ اللہ کریم اپنے پیارے حبیب کے صدقے حاجی بشیر احمد نقشبندی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فر مائے اور تمام اہل خانہ کو صبر جمبل عطاء فرمائے(آمین۔ثم)مین)۔ شبیر احمد کھوکھر جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ پاکستان جرمن پریس کلب کے فاونڈر ممبر اور پاکستان جرمن پریس کلب کے نائب جنرل سیکریٹری ہیں، آپ کو نہ صرف یورپ جبکہ پوری دنیا میں لوگ نمائندہ ٭پی ٹی وی نیوز٭ جانتے ہیں کے بڑے بھائی حاجی بشیر احمد نقشبندی(مرحوم) ولد حاجی امام الدین کھوکھر جنہوں نے ابتدائی تعلیم سے ہائی تعلیم شادیوال میں حاصل کی، ان کی خوش قسمتی تھی کہ انہوں نے شہنشاو لایت حضرت پیر سید ولائت علی شاہؒ کے پاس اسلامی تعلیم (درس نظامی) حاصل کرنے کے بعد (نُو) سال تک شہنشاو لایت حضرت پیر سید ولائت علی شاہؒ کی قربت خاص میں گزارے٭یہی وجہ تھی کہ شہنشاو لایت حضرت پیر سید ولائت علی شاہؒ نے حاجی بشیر احمد نقشبندی٭ کو منہ بولے بیٹے کا درجہ دیا ہوا تھا۔ فارغ التحصیل و دستار بندی کے بعد آپ نے اسلامی کتب خانہ تاج کمپنی کے شعبہ قرآن پاک میں ملازمت کی، بعد ازاں ملازمت کے سلسلہ میں جرمنی منتقل ہوئے پھر (اسی) کی دھائی میں اپنے چھوٹے بھائی شبیر احمد کھوکھر کو بھی جرمنی بلا لیا جبکہ دونوں بھائی جرمنی کے شہر مائینز میں رہائش پذیر رہے۔زندگی کی آخری گھڑیاں پاکستان کے علاقہ گجرات شادیوال میں ہی رہائش پذیر رہے۔ شبیر احمد کھوکھر کا کہنا تھا کہ بقول دوستوں کے جرمنی میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ (پچیس) سال تک جرمنی میں دونوں بھائی ایک ہی چھت کے نیچے پیار ومحبت کے ساتھ رہے، ان کا کہنا تھا کہ حاجی بشیر احمد نقشبندی ہمارے نہایت شفیق، نفیس اور خُدا ترس بھائی تھے،وہ ہمارے سر پر والد کے سائے کی طرح تھے۔دعا ہے کہ اللہ کریم ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ جب مومن پر موت پیش ہوتی ہے تو فرشتے مشک و عنبر اور ریشمی کپڑے لے کر آتے ہیں پھر ایسے نیک لوگوں کی روح نکالتے ہیں،اسے کہتے ہیں نفس مطمئنہ یعنی تو اپنے رب کی طرف رجوع کر تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو کچھ تقدیر میں لکھا تھا وہ ہو کر رہنا تھا اور وہ ہو کر رہا۔ جو اللہ کرتا ہے وہی برحق ہوتا ہے، اب ہمارا کام صبر ہے جس کا ہمیں مظاہرہ کرنا چاہیئے، اللہ کا مال تھا اللہ لے گیا اجر کی امید رکھتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ ہمارے شفیق بھائی حاجی بشیر احمد نقشبندی (مرحوم) کو لحد میں اتارنے سے پہلے ہی اللہ کریم کے فرشتے جنتی لباس پہنا کر جنت کا دروازہ کھول دیں اور لحد کو حد نگاہ تک کشادہ فرما دیں۔اِنَا لِلّہِ وَ اِنَا اِلَیہِ رَاجِعُون۔(آمین ثم آمین)

 

سوگواران