۔،۔خادمین جامع مسجد غوثیہ کی طرف سے حاجی محمد صدیق بٹ کی رسم قُل کا اہتمام کیا گیا۔ نذر حسین۔،۔

٭شعیب احمد بٹ کے والد محترم حاجی محمد صدیق بٹ (مرحوم)کی رسم قُل کا اہتمام خادمین جامع مسجد غوثیہ٭مرزا راسد نسیم اور شعیب احمد بٹ کی طرف سے کیا گیا جس میں نہ صرف فرینکفرٹ،آفن باخ جبکہ جرمنی کے دور دراز شہروں سے حاجی محمد صدیق بٹ (مرحوم)کی رسم قُل میں شرکت کے لئے دوست و احباب تشریف لائے جس میں خصوصی طور پر مسجد المدینہ سٹٹگارٹ کی انتظامیہ، من ہائیم اور اس کے علاوہ کئی دور دراز علاقوں سے احباب نے شرکت کر کے ثواب دارین حاصل کیا٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/آفن باخ/ریڈر والڈ۔ شعیب احمد بٹ کے والد محترم حاجی محمد صدیق بٹ (مرحوم)کی رسم قُل کا اہتمام خادمین جامع مسجد غوثیہ٭مرزا راسد نسیم اور شعیب احمد بٹ کی طرف سے کیا گیا، مسجد میں موجود دوست و احباب نے قرآن پاک اور سورہ یاسین پڑھی، بعد ازاں تلاوت کے بعد محمد زبیر ترمزی نے نعت شریف پیش کی ٭اپنے محبوب سے یہ فرما دیا۔جو تمہارا نہیں وہ ہمارا نہیں، ملک خضر حیات نے ہدیہ نعت کچھ ایسے پیش کی٭راہیا سونڑیا مدینے وچ جا کے۔میرا وی سلام آکھ دئیں۔سید افضال شاہ نے ہدیہ نعت ان الفاظ میں پیش کی٭اَکھ میٹاں تے دِسے صورت تیری۔جدوں کھولاں تے سامنے توں ہونویں۔رانا محمد آصف قادری نے اپنے خوبصورت انداز میں نعت کا ہدیہ کچھ ایسے پیش کیا٭سُکھاں وچ وسدے یو لوکو۔میرے رل مل درد ونڈایو، کیتھے ٹُر گئے ہو میرے دل دے جانی۔ مینوں رَب نانوے دس جائیو۔نوجوان نعت خواں زین العابدین نے بہت ہی پیارے انداز میں نعت پیش کی۔کُلُّ نِفسِِ ذائقۃُ الموتِ٭دنیا کے اے مسافرمنزل تیری قبر ہے،طے کر رہا ہے جو تو،دو دن کا یہ سفر ہے، جب سے بنی ہے دنیا لاکھوں کروڑوں آئے،باقی رہا نہ کوئی،مٹی میں سب سمائے۔اس بات کو نہ بھولو، سب کا یہی حشر ہے۔منرل تیری قبر ہے۔مولانا صدیق مصطفائی نے حاظرین سے مختصر مگر جامع خطاب فرمایا ان کا کہنا تھا کہ ٭کسی بھی نفس کی مجال نہیں کہ کہے میں اپنی مرضی سے دنیا کو چھوڑ کریا دنیا سے جا رہا ہوں، اللہ پاک نے ہر کسی کے لئے مقرر وقت لکھوا دیا،اُس مقرر وقت تک آپ کو اور مجھے بھی اللہ کی طرف سے ایک مہلت دی ہوئی ہے(میسر) ہے۔اللہ فرماتا ہے میں شُکر والوں کو جزا دوں گا۔رب کی نعمتیں اتنی بڑی ہیں کہ ہماری زندگی بھر کے اعمال ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں اور دوسری طرف اللہ کریم کی عطاء کی ہوئی ایک نعمت بھی رکھ دی جائے تو وہ بھاری ثابت ہو گی۔اس کے مقابلے میں ہماری زبانوں پر کتنا شکر ہے اس مختصر وقت میں ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے،زبانی اور جانی و مالی شکر یہ بھی شکر میں آتا ہے۔ عدل کریں تے تھر تھر کمن اُچیاں شاناں والے۔فضل کریں تے بخشے جانون میں جے وی منہ کالے۔معافی مانگیں،استغفار کریں،اگر آپ کے آنسو پلکوں تک بھی نہ پہنچ سکیں اسے اللہ پاک دیکھتا ہے اس لئے اللہ سے معافی طلب کریں۔ مولانا عمران نے اپنے مختصر خطاب میں ہمارے اور اپنے آنے کا مقصد بیان فرمایا ان کا کہنا تھا کہ،تلاوت کریں،محبوب کا ذکر کریں اور مرنے والے کی مغفرت کے لئے دعا کریں۔ زباں پر محمدﷺ کا نام آ گیا ہے، مزہ جب ہے سرکار محشر میں کہہ دیں۔ (کے)وہ دیکھو ہمارا غلام آ گیا ہے۔اس پر محفل نعروں سے جھوم اُٹھی۔مولانا فاروق نے اپنے خطاب میں کہا کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے۔٭کُلُّ نِفسِِ ذائقۃُ الموتِ٭عامر نے نعت شریف پیش کی۔ایسا کرم دیکھا نہیں،ایسی ادا دیکھی نہیں۔مجھ پے کرم کرتے گئے،میری خطاء دیکھی نہیں- سید نظام الدین نے مختصر اور جامع خطاب فرمایا-۔نماز مغرب ادا کی گئی پھر درود سلام پڑھا گیا شعیب احمد بٹ کے والد محترم حاجی محمد صدیق بٹ (مرحوم) اور مرنے والوں کے لئے اجتماحی دُعائے مغفرت کی گئی۔دعا کے بعد لنگر محمدی پیش کیا گیا۔ جتنے مردوں نے رسمِ قُل میں حصّہ لیا اس سے زیادہ خواتین بھی دوسرے ہال میں موجود تھیں۔ شعیب احمد بٹ نے بڑی درد ناک آواز میں کچھ ایسے ہدیہ نعت پیش کی۔٭سنے کون قصّہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا۔جسے آشناوُں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا،وہی بزم ہے وہی دھوم ہے، وہ ہی عاشقوں کا ہجوم ہے، ہے کمی تو بس میرے شیخ کی۔ہک کمی تو بس میرے بابا کی، ہے کمی تو بس میرے چاند کی جو تہہ مزار چلا گیا۔