۔،۔پہلوان جی۔:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔

جنوری کا پہلا عشرہ بھی دسمبر کی طرح مسلسل گہرے بادلوں اور برفیلی ہواؤں میں ٹھٹھرتا رہا برفیلی کہر آلود ہواؤں نے پورے پاکستان کی طرح شہر لاہور کو بھی برف کا گولا بنا کر رکھ دیا تھا مہنگائی کے ہو شربا عفریت نے لوگوں کی جان نکال دی تھی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے لوگ ڈرائی فروٹ کو صرف ٹی وی سکرین یا دوکانوں میں سجا ہوا دیکھ سکتے تھے یو کرین روس کی جنگ نے دنیا بھر کو مہنگائی کے بھنور میں جھونک کر رکھ دیا ترقی یافتہ ملکوں کے عوام مہنگائی مہنگائی چیختے نظر آئے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر غریب ملک کا کیا حال ہو گا پہلے لوگوں کی جیب اجازت دیتی تھی جو وہ موسموں کی تبدیلی کے ساتھ خوراک کی تبدیلی بھی افورڈ کر سکتے تھے سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی لوگ ڈرائی فروٹ کی دوکانوں پر یلغار کر دیتے گرم کپڑوں کا اہتمام کیا جاتا گھروں میں ایسے پکوانوں کا اہتمام ذوق شوق سے کیا جاتا لیکن مہنگائی نے یہ ساری عیاشیاں لوگوں سے چھین لی تھیں اِس مہنگائی کے دور میں یہ سوغاتیں اب دولت مندوں کے گھروں کی رونق بن کر رہ گئی ہیں آج اتوار کا دن تھا میں طویل پر سکون نیند لے کر جب بیدار ہوا تو بے دلی سے پردہ سرکا یا تا کہ دیکھ سکوں بادل ہیں یا بارش لیکن کھڑکی کے اُس پار چاروں طرف سنہری دھوپ کی چادر تنی تھی یہ میرے لیے بہت خوشگوار حیرت تھی کیونکہ میں پچھلے کئی دنوں سے بارش اور گہرے گھنے بادلوں کا عادی ہو چکا تھا تیز چمکیلی دھوپ دیکھ کر میری ساری سستی اُتر گئی میں نے فوری ارادہ کیا کہ آج پھر گھر پر ہی حرارت آمیز زیست کیف سے بھر پور دھوپ کا لطف اٹھا یا جائے گھر کے اُس حصے میں جہاں پر سارا دن دھوپ مہربان رہتی ہے وہاں پر نرم و گداز تکیوں ریشمی کمبل اوڑھ کر ٹھنڈے جسم کو زندگی بخش دھوپ کے حوالے کر دیا جائے اب میں گھر والوں کو ناشتے کا کہہ کر روش روم میں گھس گیا گرم بھاپ اڑاتے پانی سے خوب شاور لینے کے بعد میں دھوپ اور صحن میں بچھی چارپائی پر آگیا جہاں پر آرام دہ پھولے ہوئے تکیے اور باریک ریشمی کمبل میرے منتظر تھے میں ناشتے کے بعد دھوپ کا لطف لینا چاہتا تھا کمبل اِ س لیے رکھا اگر تیز ہواؤں نے تنگ کیا تو کمبل اوڑھ لوں گا نہیں تو نیلے آسمان اور سورج کی شعاؤں کے نیچے میں لیٹ کر لطف اٹھاؤں گا اِسی دوران گرما گرم خالص دودھ اور شہد ملائی والے بڑے پیالے میں دیسی گھی کی جلیبیاں اورمیرے آنکھوں کے سامنے گا جر کے باداموں اور خشک میوہ جات سے بھرپور حلوہ بھی آگیا گاجر کا حلوہ تو معمول کی بات ہو سکتی تھی لیکن دیسی گھی کی خشک جلیبیوں والا ابلتا ہوا پیالا خوشگوار ترین حیرت تھی جلیبیوں والے پیالے کو دیکھ کر میرے منہ سے بآواز نکلا پہلوان صاحب کب آئے تھے تو اندر سے آواز آئی کل رات وہ جلیبیوں اور خالص پنجیری کی ٹوکری دیسی انڈوں کے ساتھ دے گئے تھے اور تاکید بھی کہ صبح پروفیسر صاحب کو ناشتے میں پیش کر دی جائیں پہلوان جی کی محبت میری آنکھوں میں تیرنے لگی کیسا پیارا بڑا انسان محبت مٹھاس میں گندھا خالص شہد جیسا پہلوان جو صرف نام کا ہی پہلوان نہیں بلکہ کردار کا بھی پہلوان تھا جب سے حق تعالیٰ نے مُجھ مشت غبار کو راہ حق کا مسافر بنایا پھر اپنے کرم خاص سے خدمت خلق کا بھی اعزاز بخشا تو تقریبا روزانہ ہی حضرت انسان کے مختلف روپ زاویے سے ملتا ہوں کوہ ہمالیہ جیسے بندوں کو زمین پر رینگتے کیڑوں سے کمتر پایا جب مُجھ سے چھوٹے انسان جن کو معاشرہ کمی کمین کہتا ہے اُن کو کے ٹو سے بلند پایا انسان کے چہرے پر نقاب در نقاب کہ اصل انسان کردار تو بہت دور دفن ہو کر رہ گیا میر ی زندگی میں بے شمار ہزاروں لوگ ایسے آتے ہیں جو معاشرے میں باوقار نیک صالح نیک سخاوت کے مینار انسان دوستی کے دعوے دار لیکن جب ان کو قریب سے دیکھنے پرکھنے کا موقع ملا تو گٹر کی بد بو سے ہی واسطہ پڑا جبکہ بہت چھوٹی حیثیت پوسٹ نوکری کام پر کسی معمولی انسا ن کو دیکھا جب اُس کو قریب سے دیکھنے پرکھنے کا موقع آیا تو بڑے بڑے عالم دین مفسر دانشور خطیب الحاج اُس کے سامنے بونے نظر آئے بلکہ زیادہ تر بناوٹ جھوٹ خود فریبی ذاتی نمائشی زندگی میں ہی انسانوں کو سرگرم پایا ملاوٹ قول و فعل میں تضاد جھوٹ فریب منافقت ہمارے رویوں کا لازمی حصہ اِس قدر بن گئے ہیں کہ یہی انسان کا حقیقی روپ کردار نظر آتا ہے اِس گلے سڑے بد بو دار بانجھ معاشرے میں کبھی کبھی چھوٹے انسانوں میں جب کوئی بڑا با کردار حقیقی انسان نظر آتا ہے تو بہت زیادہ خوشی ہو تی ہے اُس کے پاس بیٹھنے وقت گزارنے کو تعلقات بنانے کو دل کر تا ہے اِیسے گوھر نایاب آٹے میں نمک کے برابر ملتے ہیں نہیں تو جھوٹ منافقت کا دور دورا ہے آج کے معاشرے میں کوئی جتنا بڑا مو قع پرست الفاظ کا جادوگر ہے اتنا ہی وہ کامیاب انسان اپنی زبان کی جادوگری سے مراثی درباری نما لوگ اقتدار کے کوچوں تک قابض ہو کر سادہ شریف لوگوں پر حکمرانی کر رہے ہیں آجکل جتنا بڑا شیطانی فراڈی دماغ اتنا ہی کامیاب ہے پہلوان صاحب پہلی بار اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے میرے پاس آئے پہلوانوں والا مخصوص بوسکی کا کڑھائی والا کرتہ رنگ برنگا لاچا گلے میں سونے کی چین بات بات پر آسمان کی طرف ہاتھ کر کے جو سوہنا کرے گا جو مالک کی مرضی جس طرح رب رکھے اُسی میں راضی ایک شاکر صابر انسان جن کی زبان پر شکوہ نام کو نہ تھا ہر بات ہر قدم پر رب کا شکر ہے مالک کا کرم ہے مثبت شخص مشکل ترین حال میں بھی مثبت پہلو نکال لیتا پریشانی میں بھی امید کی کرن دکھا دینا مجھے بہت اچھا لگا پہلوان اندر باہر سے کھرا اور سچا انسان اُس کے جسم سے ولیوں والی خوشبو آتی کہ دل و دماغ معطر سی کیفیت کا شکار ہو جاتے میں حیران تھا کہ پہلوان میں وہ کونسی نیکی ہے وہ کونسا راش ہے جو میں نہیں جانتا کہ پہلوان بہت خوش خوشحال رہتا ہے جس کی صحبت میں نیکوں کی خوشبو آتی ہے دوچار ملاقاتوں کے بعد پہلوان سے دوستی ہو گئی اب پہلوان کی بیٹی اور بیوی بھی میرے پاس عقیدت و محبت سے آنا شروع ہو گئے جب میری پہلوان کی فیملی سے دوستی یا تعلق بڑھا تو ایک اور چیز نوٹ کی کہ پہلوان کی بیوی پہلوان کی مرشدوں کی طرح عقیدت کرتی دیوانوں کی طرح پہلوان کا طواف کرتی سانسوں کی مالا پر پہلوان کا نام جپتی اب میں تلاش میں تھا کہ پہلوان کے اندر وہ کونسی نیکی اچھائی ہے جو دوسرے انسانوں میں نہیں (جاری ہے)