۔،۔ کلچر کا کمال ۔طارق حسین بٹ شان۔،۔

ہر قوم کو اپنا کلچر عزیز ہو تا ہے لہذا وہ اپنے کلچر کی حفاظت کی خاطر کسی بھی خارجی قوت سے ٹکرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔کہتے ہیں کسی قوم کو تباہ کرتا مقصور ہو تو اس سے اس کا کلچر اور زبان چھین لو وہ خود بخود زمین بوس ہو جائیگی۔کسی بھی قوم کا کلچر ایک دن میں جنم نہیں لیتا بلکہ قرن ہا قرن کے رویے کسی بھی کلچر کی بنیاد بنتے ہیں۔کلچر کسی جامد شہ کا نام نہیں بلکہ اس میں تنوع پسندی اسے اور بھی قابلِ رشک اور پر کشش بنا دیتی ہے۔کلچر کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ ایک ہی خطہ میں رہائش پذیر افراد ایک جیسے رویوں کے امین ہوتے ہیں۔مذہب کی وابستگی ان کے افعال یں رکاوٹ نہیں بنتی۔جب کوئی چیز ایک دفعہ کلچر کا حصہ بن جائے تو پھر مٹائے نہیں مٹتی۔ علامتیں کبھی نہیں مٹتیں۔برِ صغیر کا ایک مخصوص کلچر ہے جو کہ بڑا ہی انسان دوست ہے۔ برِ صغیر بہت سی اقوام اور مذاہب کا گہوارا تھا جسے کلچر نے ایک لڑی میں پرونے کا فریضہ سر انجام دیا تھا۔خوشی اور غمی میں کسی بھی کلچر کا کھلم کھلا اظہار ہو تا ہے۔ کچھ لوگ خوشیوں کے اظہار کی معمولی معمولی چیزوں کو مذہب کا رنگ دے کر کلچر کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن منہ کی کھاتے ہیں۔ اب تو جدید کلچر کی یلغارپہلے سے بھی زیادہ تیز تر ہوتی جا رہی ہے اور لوگ پرانی رسم رواج کو نئے پیرہن میں پیش کر رہے ہیں۔ نمائش پسندی اور ذاتی خو شیوں میں دولت کے بے دریغ استعمال نے معاشرے کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔اس وقت امراء اور غرباء میں اظہاریہ کی ایک لکیر کھنچی ہوئی ہے۔ جو حرکات اہلِ ثروت کرتے ہیں غریب بھی ویسا ہی کرنے کی کوشش تے ہیں لیکن نقصان اٹھاتے ہیں۔وہ اپنی خوشیوں کو اہلِ ثروت کی طرح منانا چاہتے ہیں لیکن کیسے منائیں کیونکہ ان کی جیب تو خالی ہوتی ہے۔ چیزیں تو سکوں سے خریدی جاتی ہیں اور سکے ان کے پاس ہوتے نہیں ہیں۔کچھ کم عقل قرضوں کی بھرمار سے اپنی ناک کو اونچا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعد میں بہت پچھتاتے ہیں کیونکہ قرض خوا ہوں کے تقاضے ان کی عزت مٹی میں ملا دیتے ہیں۔،۔کلچر کا کمال یہ ہے کہ اس میں سب کو برابری کے مواقع ملتے ہیں۔کھیل کامیدان ہو، فن کی دنیا ہو،موسیقی کی دنیا ہو،ادب کی دنیا ہو،شاعری کا میدان ہو، یا کوئی بھی ایسا تہوار ہو جس میں ساری قوم شریک ہوتی ہو تو اس میں صاحبِ فن سب میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ پنجاب کے کلچر میں مولا جٹ کا کردار اس کا زندہ جاوید شاہکار قرار پاتا ہے۔ایک عام گھر کا انسان اہلِ ثروت سے ٹکرا کر ان کے نخو و تکبر کو خاک میں ملا دیتا ہے۔کلچر کا کمال یہی ہے کہ اس سے گہرِ نایاب ملتے ہیں اور یوں قوم کی عظمت پورے عالم میں اپنے اعلی و ارفع مقام کا تعین کرتی ہے۔ ملا کی تنگ نظری اپنی جگہ محوِ حرکت رہتی ہے اور وہ ڈھول کی آواز کو جس سے پنجاب کے گھبرو ؤں کے بدن میں بجلیاں دوڑ جاتی ہیں حرام قرار دے دیتا ہے لیکن اس کی کوئی نہیں سنتا کیونکہ صدیوں کے قائم کردہ کلچر کے حصار کو توڑنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ کیا کوئی ایسا نوجوان ہو سکتا ہے جو ڈھول کی تھاپ پر محوِ رقص نہ ہو؟ ڈھول کی تھاپ نوجوانوں کے بدن میں ایسی بے قراری اور سرشاری بھر دیتی ہے جس سے وہ بے خودی کا پیکر بن جاتے ہیں۔ اپنے من میں موجزن جذبات پر دھمالی کیفیت کا استعارہ بن جانے کے بعد کوئی ان پر کیسے قابو پا سکتا ہے؟ کلچر کا تعلق فنونِ لطیفہ سے ہو تا ہے جبکہ معاشرتی رسم و رواج کلچر کی روح قرار پاتے ہیں۔مذہب کے ٹھیکیداروں کو فنونِ لطیفہ سے خدا واسطے کا بیر ہو تا ہے لہذا وہ فنکاروں کی حوصلہ شکنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔لطافت و ظرافت کے وہ سدا سے دشمن ہوتے ہیں اس لئے وہ لطافت کی نفی کی خاطر چاندنی کو بھی حرام کہہ دیتے ہیں۔علامہ اقبال ؔ نے ملا کی اسی کیفیت کو انتہائی اچھوتے اور منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔(میری مینائے غزل میں تھوڑی سی تھی باقی۔،۔شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی)۔اگر ہم غالب کی زبان میں بات کریں تو مزہ اور بھی دوبالا ہو جاتا ہے۔(یہ مسائلِ تصوف اور تیرا بیان غالب ؔ۔،۔تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا)۔،۔خوا ب دیکھنا انسان کی کمزوری ہے جبکہ کلچر کی نمود ونمائش ایک علیحدہ میدان ہے۔شاعر کی زبان سے انسانی جدو جہد، آرزو،حسرت اور انا کا ایک نادر اندازدیکھئے۔ایک ایسا انداز جس میں شاعر آرزوؤں کو عزم سے تسخیر کرنے کا سبق دیتا ہے (مژدہِ خوبی ِ تعبیر ملے گا کہ نہیں۔،۔ دیکھئے خواب میں دیکھا ہوا کب دیکھتے ہیں۔،۔(اپنے ہاتھوں کی پر اسرار لکیریں ہیں اشعرؔ۔،۔ ہم نے پہلے کبھی دیکھی ہیں نہ اب دیکھتے ہیں)۔ کلچر در حقیقت ناتمام خواہشات کی ہی زبان ہو تی ہے۔ پیکرِ خاکی میں اگر خوا ہشات کو منہا کر دیا جائے تو وہ پھر انسان کسی بت کی مانند ہو جاتا ہے۔احمد ندیم قاسمی نے سچ کہا تھا (اے میرے اچھے فنکار تو ریت سے بت نہ بنا۔،۔آ میں تجھے پتھر لا دوں)سچ تو یہ ہے کہ ریت کے بت جلد ی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتے ہیں جبکہ پتھر میں دل نہیں ہوتا،آرزوؤیں نہیں ہوتیں،خواہشات مفقود ہو تی ہیں اور اس کی بے زبانی اس کی بے بسی کی علامت ہو تی ہے۔امام الانبیاء حضرت ابراہیم علیہہ السلام نے یہودیوں کی عبادت گاہ میں سارے بت ملیا میٹ کرنے کے بعد سب سے بڑے بت کے کاندھتے پر کلہاڑ ا رکھ کر کہا تھا کہ اسے کہو کہ یہ خود ہی بتائے کہ سب بتوں کو کس نے تہِ تیغ کیا ہے؟ تو سارے بت پرست یک زبان ہو کر بول ااٹھے کہ کیا بت بھی بولتے ہیں؟حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں بھی تو یہی کہتا ہوں۔فنونِ لطیفہ کی بات ہو رہی ہے تو دیکھتے اقبال نے اسی بات کو فلسفیانہ رنگ میں کیسے پیش کرتے ہیں۔(زندگی صید افگن و دام آرزو۔،۔حسن را از عشق پیغام آرزو)۔(ترجمہ۔۔زندگی کا کام یہ ہے کہ وہ کائنات کے تمام عناصر کو شکار کرتی چلی جائے۔ لیکن شکار بغیر جال کے ممکن نہیں ہے۔زندگی کے پاس وہ دام جس سے و ہ ہر شکار کر سکتی ہے آرزو ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس شکاری کے پاس جال ہی نہ ہو وہ شکار کیا کر سکے گا؟دوسرا مصرع انتہائی خوبصورت ہے جس میں شاعرکا یہ کہنا ہے کہ عاشق حسن کی بارگاہ میں ایک ہی پیغام بھیجتا ہے اور آرزوئے عشق در حقیقت نام ہی آرزو کا ہے۔اگر آرزو کی چنگاری باقی نہ رہے تو پھر شعلہِ عشق خود بخود بجھ جاتا ہے)۔شعلہِ عشق کو زندہ رکھنے کیلئے ہر معاشرے کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔وہ معاشرہ جوقائم شدہ اصول و ضوابط کے مطابق چلتا رہتا ہے ثمرات سمیٹتا رہتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب حق و صداقت،انصاف و قانون اور اصولوں کی موت ہو تی ہے تو پھر قوموں کی تنزلی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ درجہ بندی اور اونچ نیچ کی زہر آلود فکر قوم کی تباہی کا دیباچہ بن جاتی ہے۔قومیں ایک دن میں تو مسندِ عروج پرمتمکن نہیں ہوتیں بلکہ اس کیلئے انہیں طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ہمارے سامنے اقوامِ عالم کی ایک طویل تاریخ ہے جن کی عظمت سے اس کرہِ ارض کے درو دیوار کانپتے تھے لیکن جب ان پر زوال کی آندھیاں چلیں تو طوقِ غلامی ان کا مقدر بنا۔ اب تو انسانیت کو اس بات کا شکر گزار ہو نا چائیے کہ جمہوریت کی سنہری ناؤ نے باہمی جھگڑوں کو کافی حد تک کم کر دیا ہے اور اقتدار کی منتقلی کا سفر انتہائی آسان ہو گیا ہے لیکن اسلامی دنیا میں اب بھی وہی رسمِ چنگیزی ہے۔ طالع آزماؤں کی آرزوئیں آئین کو روندتیں ہوئی اقتدار پر قابض ہو جاتی ہیں لیکن اگر کوئی ان کے خلاف لب کشائی کرنے کی جسارت کرتا ہے تو اسے پسِ زندان پھینک دیا جاتا ہے جہاں کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہوتا۔کلچر اور سچائی کا خون ہو جاتا ہے، اہلِ صفا مر دودِ حرم قرار پاتے ہیں اور ناکردہ گناہوں کی سزا جھیلتے ہیں۔،۔