۔،۔ماہ رجب المرجب بہت ہی عزمت والا مہینہ ہے جو تئیس جنوری سے شروع ہو گا۔ نذر حسین۔،۔

٭ربِ قدیر جل جلال نے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو حرمت والا فرمایا،ان چار مہینوں کے اندر ماہ رجب بھی ہے یہ اسلامی مہینوں میں سے ساتویں مہینے کا نام ہے،رسول وقار حضرت محمد ﷺ نے ماہ رجب کے حوالے سے فرمایا کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے،شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میرے امتیوں کا مہینہ ہے ٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ربِ قدیر جل جلال نے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو حرمت والا فرمایا،ان چار مہینوں کے اندر ماہ رجب بھی ہے یہ اسلامی مہینوں میں سے ساتویں مہینے کا نام ہے،رسول وقار حضرت محمد ﷺ نے ماہ رجب کے حوالے سے فرمایا کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے،شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میرے امتیوں کا مہینہ ہے آقا کریم حضرت محمد ﷺ ماہ رجب کا چاند دیکھ کر دُعا فرماتے، اسی مہینیکی پہلی تاریخ کو حضرت نوع ؑ کشتی پر سوار ہوئے تھیاور کشتی کا آغاز ہوا تھااسی مہینہ میں سب سے بڑا تحفہ پنجگانہ نماز کی شکل میں عطا فرمایا، اسی مہینہ میں زکواۃفرض کی گئی، اسی مہینہ میں غزوہ تبوک ہوا، اسی ماہ کی ستائیسویں تاریخ کو آقا کریم کو سفر معراج سے مشرف کیا گیا، ماہ رجب کے روضے کی فضیلت کیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا جس نے ماہ رجب کا روضہ رکھا اس کے لئے اللہ تبارک و تعالی تین چیزیں اپنے ذمہ کرم پر لے لیا ہے۔اس کے گذشتہ سارے گناہوں کی معافی، بقیہ عمر میں اس کے گناہوں سے حفاظت اور قیامت کے دن پیاس سے امان یہ تین چیزیں اللہ تعالی نے اپنے ذمہ کرم پر لے لیا ہے، رجب کے پہلے دن کے روزے کا ثواب تین سال کے روزوں کے برابر ہے اس لئے کہ اس میں نیکیاں دس گنا ہو جاتی ہیں اور پندرویں تاریخ اور آخری دن کا روزہ رکھو تم کو پورے مہینہ کے روزے رکھنے کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا۔آقا کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ماہ رجب کے پہلے جمعہ کی شب سے غافل مت ہونا وہ ایسی رات ہے جس سے ملائکہ رغائب یعنی بڑی رغبت والی رات کہتے ہیں، اس رات شب برات کا ایک تہائی حصّہ گزر جاتا ہے تو زمین و آسمان کے فرشتے کعبے اور اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں،اللہ تبارک وتعالی ان سے ارشاد فرماتا ہے اے فرشتو مانگو جو کچھ جو تم مجھ سے مانگنا چاہو مانگ لو، فرشے کہتے ہیں اے اللہ ہماری بس یہی خواہش ہے کہ تم ماہ رجب کے روضے رکھنے والوں کی مغفرت فرما دے، اللہ تعالی فرماتا ہے میں نے انہیں معاف کر دیا، آقا کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک نہر ہے جس کا نام رجب ہے جو کوئی ماہ رجب کے ایک دن کا بھی روضہ رکھے اللہ تبارک و تعالی اسے اس نہر کے پانی سے سیراب فرمائے گا۔ جس نے رجب کے مہینے میں ایک روضہ رکھا اس کا وہ روضہ ثواب میں ایک مہنے کے روضے کے برابر ہو گا، جس کے رجب کے سات دنوں کے روزے رکھے اللہ تعالی اس کے لئے جہنم کے سات دروازے بند کر دے گا، جو رجب کے آٹھ دنوں کے روزے رکھے گا اس کے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیئے جائیں گے، جو رجب کے دس دنوں کے روزے رکھے گا اسے آسمان سے ایک منادی آواز دے گا کہ اللہ تعالی نے تجھے بخش دیا ہے اب تو نئے سرے سے عمل کر اور جو زیادہ کرے گا اس کے لئے اجر و ثواب میں اضافہ فرمائے گا،حضرت ابو حریرہ سے مروی ہے کہتے ہیں کے جو کوئش ستائیسویں رجب کو روضہ رکھے گا اللہ تبارک و تعالی اس کے لئے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھے گا یہی وہ دن ہے جس میں حضرت جبریل امین حضور ﷺ اللہ کا پیغام لے کر حاضر ہوئے تھے۔ یہ سارے کام نفل ہیں۔