۔،۔ قرضوں کا بوجھ ۔طارق حسین بٹ شان۔،۔

پاکستانی سیاست کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔جب ایک جماعت اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اس کا لب و لحجہ اور ہوتا ہے اور جب وہی جماعت اقتدار کی مسند پر برا جمان ہوجاتی ہے تو اس کا بیانیہ بدل جاتا ہے۔ابھی کل کی بات ہے کہ پی ڈی ایم (اپوزیشن) پی ٹی آئی حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور احتجاجی دھرنوں کا جال پھیلائے ہوئے تھی۔اس کا کہنا تھا کہ ۸۱۰۲؁ کے اانتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی لہذا نئے انتخابات نا گزیر ہیں۔ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات وقت کی آواز ہیں لہذا ان کا انعقاد کیا جائے تا کہ حقیقی نمائندے ملکی مسائل سے نبرد آزما ہو سکیں۔کئی ماہ تک پی ڈی ایم کا یہی وطیرہ رہا لیکن پی ٹی آئی حکومت نے ان کے مطالبے کو در خورِ اعتنا نہ سمجھا۔ اپوزیشن دہائی دیتی ر ہی لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔اقتدار کی کرسی کو بھی بھلا کوئی چھوڑتا ہے؟۰۱ اپریل کوپی ٹی آئی حکومت عدمِ اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے رخصت ہوئی جبکہ پی ڈی ایم اقتدار کی مسند سے سرفراز ہوئی۔ایک بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں رجیم چینج کا سارا الزام مریکہ پر دھر دیا گیا۔امریکی مداخلت کے خلاف پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کرکے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کر دیا لیکن لانگ مارچ اور دھرنا پر امن انداز میں اختتام پذیر ہو گے اور یوں حکومت نے سکھ کا سانس لیا۔اسلام آباد کے جلسے میں عمران خان نے ایک خط ہوا میں لہرایا اوراس پر امریکی سازشی تھیوری کی بنیاد رکھ دی لیکن جلد ہی اس سازشی بیانیہ سے ہاتھ کھینچ لیاکیونکہ امریکہ کی ناراضگی کسی کو سوٹ نہیں کرتی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ۰۱ اپریل کی عدمِ اعتماد کی تحر یک کا محرک بنایا گیا اور ان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی۔انھیں اپوزیشن کے ساتھ مل جانے کا طعنہ دیا گیا۔فوج نے اپنے نیوٹرل ہونے کا جو تاثر ابھارا تھا پی ٹی آئی نے اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔انھیں میر جعفر اور میر صاد ق کے القابات سے نواز گیا جس پر بھارت میں جشن منایا گیا۔فوج پر بے سرو پا الزامات پر نئے آرمی چیف بڑے تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو اپنی حدود میں رہنے کا پیغام پہنچا رہے ہیں جس پر عمل پیرائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔اگر چہ فوج پر الزامات کی شدت میں کمی واقع ہو چکی ہے۔لیکن نفرتوں کی جو فضا تخلیق ہو چکی ہے اسے دلوں سے کھرچ کر پھینک دینا اتنا آسان نہیں ہے۔ سوشل میڈیاپرفوج کے خلاف جذبات کو محسوس کیا جا سکتاہے۔کل کے محسن آج کے ولن بنے ہوئے ہیں۔کل جن کے در پر سجدہ سہو ادا کیا جاتاتھا انہی پر طعننوں کے تیر پھینکے جا رہے ہیں۔،۔ اقتدار کا نشہ شہ ہی ایسی ہے کہ اس میں دوستی دشمنی میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ایک پیج پر ہونے والے اب ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں تو بات بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اقتدار میں کوئی دوست نہیں ہوتا۔پاکستان ایک سیکورٹی ریاست ہے لہذا فوجی مداخلت ایک کھلی حقیقت ہے۔کبھی کبھی یہ ما رشل لاء کی شکل میں ہوتی ہے اور کبھی کبھی حکومت کی تبدیلی کی شکل میں ہوتی ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی وزیرِ اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی۔اسٹیبلشمنٹ جس کے سر پر دستِ شفقت رکھتی ہے وہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا لیکن جس کے ساتھ ان کی ان بن ہو جاتی ہے وہ انھیں موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیتا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ پی پی پی فوجی جنتا کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتی تھی لیکن پنجاب کے سیاستدان پی پی پی کو ہی برا بھلا کہتے تھے لیکن اب ۰۱ اپریل کے بعد فوج کے خلاف پی ٹی آئی نے جو طوفان کھڑا کیا ہوا ہے اس پر کوئی سیاسی جماعت اس کی مذمت نہیں کرتی لہذا فوج کیلئے اپنا دامن بچانا مشکل ہو تا جا رہا ہے۔ایک ہیجانی کیفیت ہے جس کا ہر کوئی شکار ہے۔سیاستدان اب بھی اپنی ناؤ کو اسی مرکز سے توانائی مہیا کر رہے ہیں۔پسِ پردہ رابطوں کا ایک سلسلہ جاری و ساری ہے لیکن عوامی سطح پر فوج پر تنقید کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتاتاکہ مقبولیت کا بھرم قائم رہے۔اب وہ نعرہ جو پی ڈی ایم کا تھا وہی نعرہ پی ٹی آئی کا بیانیہ بن گیاہے۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ فوری انتخابات ہی مسائل کا واحد حل ہیں لہذا ان کا انعقاد فوری کیا جائے لیکن پی ڈی ایم ایسے کسی مطالبے کو ماننے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔ وہ ۷۱ اگست ۳۲۰۲؁ سے قبل حکومت سے دستبردار نہیں ہو نا چاہتی۔وہ سولہ ماہ کے اقتدار کے مزے لوٹنا چاہتی ہے جبکہ پی ٹی آئی اسے اس سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ حتمی فیصلہ تو وہی سے آنا ہے جس کا رونا پی تی آئی رو رہی ہے۔وہ مائلِ بہ کرم ہو ں گے تو الیکشن کی گتھی سلجھ جائے گی۔اسی در پر سجدہِ سہوہو گا تو معاملات طے پائیں گے وگرنہ دشت نوردی کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔،۔ایک بات قابلِ غور ہے کہ جب سارے سیاستدان پاکستان کے استحکام اور اس کی ترقی کے نعروں کا ورد کرتے نہیں تھکتے تو پھر ان میں بعد المشرقین کیوں ہے؟دورِاقتداراور دورِ اپوزیشن میں جماعتوں کی زبان ایک کیوں نہیں ہوتی۔؟ اقتدار کا ہما سر پر بیٹھتے ہی سب کچھ کیوں بدل جاتا ہے؟اگر اپوزیشن میں انتخابات نا گزیر تھے تو اقتدار میں بھی نا گزیر ہونے چائیں لیکن ایسا نہیں ہوتا جس سے یہی مترشح ہو تا ہے کہ سیاست در حقیقت مفادات کا کھیل ہے جس کی خاطر عوامی خدمت کا جھوٹا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے۔کئی ماہ سے یہی ایشو موضوعِ بحث بنا ہوا ہے کہ انتخا بات کا انعقاد کب ہو گا؟اپنے اس مطالبہ کی خاطر پی ٹی آئی نے دو صوبائی اسمبلیوں کی قر بانی دے دی ہے لیکن انتخابات کا کہیں دور دور تک نام و نشاں نہیں ہے۔(پنجاب اسمبلی اور کے پی کے) اسمبلی کی تخلیل پاکستانی تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے۔اسمبلیوں کی تحلیل مارشل لائی ادوار میں ہوتی تھیں یا پھر ۸۵ ٹوبی کے تحت صدر اور گورنرز اسمبلیاں تحلیل کرتے تھے۔جمہور ی کلچر میں اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوتیں لیکن اقتدار کی ہوس میں سب کچھ جائز قرار پا رہا ہے۔ ملک پہلے ہی قرضوں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔اس کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ اس کا خزانہ خالی ہو تا جا رہا ہے۔بے روزگاری اپنے جبڑے کھولے کھڑی ہے لیکن سیاست دانوں کی اندرونی لڑائیا ں ختم ہو نے کا نام نہیں لے رہیں۔روز ایک نیا الزام منظرِ عام پر آتا ہے جس سے ملک کی سبکی ہو تی ہے۔کسی کو اس بات کی فکرنہیں کہ ملکی معاملات ہارتھ سے نکل رہے ہیں۔مفا ہمت اور باہمی مشاورت سے ہی ملک کو دنلدل سے نکالا جا سکتا ہے لیکن کوئی کسی کی بات کو وزن دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کچھ سیاسی جماعتیں اس انتظار میں ہیں کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے تا کہ ان کی سیاست کو توانائی مل جائے۔مہنگائی نے عوام کی جو درگت بنائی ہوئی ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک کی ساری جماعتیں سرجوڑھ کر بیٹھیں تا کہ عوام کیلئے آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ایک زمانہ تھا کہ پی پی پی نے اپنے دورِ حکومت (۸۰۰۲)؁ میں آٹھ ہزار ارب قرضہ لیا تھاجبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے(۳۱۰۲)؁ میں سترہ ہزار ارب کا قرضہ لیا تھالیکن جب پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس نے قرضوں کے سارے ریکارڈتوڑ دئے۔۰۲ہزار ارب سے زیادہ کے قرضے ان کے چار سالہ دورِ اقتدار میں لئے گے جس سے ملک معاشی تباہی کی جانب بڑھتا چلا گیا۔جب تک ملکی سطح پر قرضوں کی اس رسم کا خاتمہ نہیں کیا جا تا ملک کا معاشی بدحالی سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔میثاقِ معیشت شائد وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن کوئی بھی اس جانب قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ہر کوئی اپنی جگہ افلاطون بنا ہوا ہے لہذا دوسروں کی بات پر کان نہیں دھرا جاتا۔ملک ڈوب رہا ہے جبکہ کچھ سیاستدان اپنے اقتدار کی ہوس میں دبلے ہو رہے ہیں۔ان کی نظر میں ان کا ذاتی اقتدار ملکی استحکام اور مضبوطی سے زیادہ اہم ہے لہذا وہ کسی کی نہیں سن رہے۔کاش انھیں سمجھ آ جائے کہ ملک کے ساتھ ہی ہر چیز جڑی ہوئی ہے۔،۔